| 87830 | غصب اورضمان”Liability” کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ہمارے علاقے میں ایک شارع عام ہے، یہ روڈ کسی خاص قوم کا نہیں، بلکہ یہ روڈ سب لوگوں کے لیے ہے، اس کے دونوں اطراف میں پیدل چلنے والے حضرات کے لیے فٹ پاتھ چھوڑا گیا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس روڈ کے دونوں اطراف کےفٹ پاتھ پر مختلف لوگوں نے باغیچے، واش رومزاور اپنے گھروں کی دیواریں بنالی ہیں، جس کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو مشکلات ہوتی ہیں اوروہ روڈ کے درمیان میں چلنے پر مجبو رہوتے ہیں، واضح رہے کہ اس فٹ پاتھ کے نیچے سرکاری نالہ گزر رہا ہے، کیونکہ یہ حکومت کی جگہ ہے، سوال یہ ہے کہ اس طرح لوگوں کا فٹ پاتھ پر تعمیرکرنے اور اس کو اپنے ذاتی استعمال میں لانے کا شرعا کیا حکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں سرکاری راستے کے فٹ پاتھ پر لوگوں کا تعمیر اور باغیچے وغیرہ بنا کر اس کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا ہرگز جائز نہیں، شرعاً یہ غصب کا حکم رکھتا ہے، جس کی قرآن وحدیث میں شدید مذمت بیان کی گئی ہے، چنانچہ بخاری شریف (3/ 130) کی حدیث میں ہے:
«من ظلم قيد شبر من الأرض طوقه من سبع أرضين»
ترجمہ: جس شخص نے کسی کی زمین میں سے ایک بالشت کے برابر جگہ غصب کی تو (قیامت کے دن) سات زمینوں تک اس کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔
نیز ایسی چیز کا غصب کا کرنا جس سے عام لوگوں کا حق متعلق ہو اور بھی زیادہ خطرناک اور شدید گناہ کا باعث ہے، کیونکہ اس صورت میں یہ شخص ان سب لوگوں کا حق ضائع کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے جن کا اس چیز کے ساتھ شرعاًحق متعلق ہوتاہے، لہذا مذکورہ لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے گھروں کے سامنے فٹ پاتھ پر بنائے گئے باغیچوں اور تعمیر وغیرہ کو ختم کر کے فٹ پاتھ کو خالی کریں، تاکہ عام لوگوں کے لیے اس پر چلنے میں سہولت ہو، ورنہ یہ لوگ سخت گناہ گار ہوں گے، جس کا خمیازہ ان کو آخرت میں بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (3/ 130) الناشر: دار طوق النجاة:
2454 - حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن المبارك، حدثنا موسى بن عقبة، عن سالم، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين»
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
28/ذوالحجہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


