03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فلاحی ادارےکی رقم کوتعلیمی ادارےپرخرچ کرنےکاحکم
87920زکوة کابیانصدقات واجبہ و نافلہ کا بیان

سوال

 کیا ہم  ٹرسٹ کی رقم اپنے تعلیمی ادارے کے اخراجات میں خرچ کرسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ رفاہی ادارہ یا ٹرسٹ کے لیے  زکوۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم  کو  وصول کرنے کے بعد اس کو فقراءومساکین  کو

بطورِملکیت دینا ضروری ہے ،اس کونہ رفاہی ادارہ  یا ٹرسٹ اپنے انتظامی امور میں خرچ کرسکتا ہےاور نہ  کسی تعلیمی ادارے کے اخراجات میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے،البتہ اگر  تعلیمی ادارے میں مستحق طلبہ ہوں تو ان  کو زکوۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم بھی دی جاسکتی ہے یا کتابیں خرید کر ان کو  بطورِملکیت  دی جاسکتی ہیں ۔البتہ اگر رفاہی ادارہ یا ٹرسٹ کے پاس صدقاتِ نافلہ اور عطیات کی مد میں رقم جمع ہو تو اس صورت میں وہ اس رقم کو فقراءومساکین پر بھی خرچ کرسکتا ہے اور ساتھ ہی  وہ اپنےضروری  اخراجات میں  بھی  حسبِ ضرورت  خرچ کرسکتاہے،لیکن اس رقم کو بھی    تعلیمی ادارے کے اخراجات میں خرچ کرنا  درست نہ ہوگا، لہذا اس كا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مخیر حضرات کےسامنے  تعلیمی ادارے کے اخراجات کی تفصیل رکھ کر  ان سے تعاون کی درخواست کی جائے۔

حوالہ جات

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص137):

ويشترط أن يكون ‌الصرف (‌تمليكا) لا إباحة كما مر»

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص137):

ويشترط أن يكون ‌الصرف (‌تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)... »

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص371):

اتحد ‌الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه) لانهما حينئذ كشئ واحد (وإن اختلف أحدهما بأن بنى رجلان مسجدين) أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك»

عمار بن عبد الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

28/ذی الحجہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عماربن عبدالحق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب