| 88091 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
میرا چھوٹی گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام ہے۔کچھ عرصے پہلے میرے ایک دوست نے مجھ سے 7 لاکھ روپے بطور قرض لئے تھے ۔ یہ پوچھ کر کے 7 لاکھ کی کار پہ آپ کو کتنا منافع ہو جاتا ہے؟میں نے جواب دیا کہ ہر ماہ 1 گاڑی بھی فروخت کروں تو 30 سے 35 ہزار منافع ہو جاتا ہے۔ پھر اس نے 3 ماہ کے لئے مجھ سے پیسے لے لئے ۔ منافع 1 لاکھ 5 ہزار بنا۔ مگر اس نے پیسے پھر 5 سے 6 ماہ کے اندر تھوڑے تھوڑے کر کے واپس کئے ۔ جب سارا معاملہ طے ہو رہا تھا تو میں نے اسے کہا تھا کہ 2021 یا 2022 ماڈل کی موٹر سائیکل مجھے لے دینا ۔ مگر اس نے مجھے پیسے بھیج دئے ہیں کہ اپنی مرضی سے جو کرنا ہے کر لو۔ اب میرے لئے یہ پیسے جائز ہیں کہ نہیں ؟ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرض کے مقابلے میں کسی بھی عنوان سےمشروط فائدہ حاصل کرنا سود ہے۔آپ کے لئے صرف مذکورہ قرض کے بقدر رقم (سات لاکھ روپے) لینے کی اجازت ہے۔اس کے اوپر ایک روپیہ بھی حاصل کرنا حرام ہے۔جو اضافی پیسے آپ وصول کرچکے ہیں وہ فی الفور انہیں واپس کردیں۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (14/ 35):
ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قرض جر منفعة» وسماه ربا ... أقرض عمر بن الخطاب رضي الله عنه أبي بن كعب رضي الله عنه عشرة آلاف درهم وكانت لأبي رضي الله عنه نخل بعجل فأهدى أبي بن كعب ... رطبا لعمر ... فرده عليه فلقيه أبي فقال: أظننت أني أهديت إليك لأجل مالك؟ ابعث إلى مالك فخذه فقال عمر لأبي ... رد علينا هديتنا. وبه نأخذ فإن عمر ...إنما رد الهدية مع أنه كان يقبل الهدايا لأنه ظن أنه أهدى إليه لأجل ماله فكان ذلك منفعة القرض... ؛ ولهذا قلنا: إن المنفعة إذا كانت مشروطة في الإقراض فهو قرض جر منفعة وإن لم تكن مشروطة فلا بأس به.
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
17 /محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


