03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز میں کرسی استعمال کرنے اور جماعت کی نماز چھوڑنے کا حکم
88047نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

نماز میں کرسی کا استعمال زیادہ پرانا نہیں ہے اور کتب فقہ میں اس کی نظیریں نہیں ملتی ہیں، لیکن تقریباً تمام مساجد میں معذوروں کے لیےکرسی کا استعمال نظر آتا ہے۔ کیا لاؤڈ سپیکر کے استعمال کی طرح کرسی کے استعمال پر اجماع ہوا ہے؟

اگر کرسی کا استعمال درست نہیں توکیا با جماعت نماز کی ادائیگی کا حکم ساقط ہو سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. آج کل در اصل ناقص غذاؤں اور اعضاء میں ضعف اور کمزوری کی وجہ سے گھٹنوں اور کمر میں درد کے مسائل کافی زیادہ پیش آرہے ہیں اور پھر ڈاکٹرحضرات بھی احتیاطا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی تجویز دیتے ہیں، اس لیے ہر مسجدمیں معذورین کے لیے کرسیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاکہ یہ لوگ بسہولت مسجد میں آکر جماعت کے ساتھ نماز ادا کر سکیں۔
  2. نہیں! ایسے معذورین کے لیےمسجد کی جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں، بلکہ ان کے ذمہ لازم ہے کہ مسجد میں آ کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں، کیونکہ  جب تک مسجد میں جماعت میں شرکت سے مانع کوئی عذر موجود نہ ہو تو مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز کرنا شرعاً واجب ہے۔
حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 97) دالفكر، بيروت:

 (وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطاً بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ) بالهمز (قاعداً) وهو أفضل من الإيماء قائماً؛ لقربه من الأرض، (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوماً (ولا يرفع إلى وجهه شيئاً يسجد عليه) فإنه يكره تحريماً (فإن فعل) بالبناء للمجهول ذكره العيني (وهو يخفض برأسه لسجوده أكثر من ركوعه صح) على أنه إيماء لا سجود إلا أن يجد قوة الأرض (وإلا) يخفض (لا) يصح؛ لعدم الإيماء.

قوله: بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعداً يومئ؛ ولوصلى قائماً بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل؛ لأن القيام والركوع لم يشرعا قربةً بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. قال في البحر: ولم أر ما إذا تعذر الركوع دون السجود غير واقع اهـ أي لأنه متى عجز عن الركوع عجز عن السجود نهر. قال ح: أقول على فرض تصوره ينبغي أن لا يسقط؛ لأن الركوع وسيلة إليه ولايسقط المقصود عند تعذر الوسيلة، كما لم يسقط الركوع والسجود عند تعذر القيام.... (قوله: أومأ قاعداً)؛ لأن ركنية القيام للتوصل إلى السجود فلا يجب دونه ... (قوله: لقربه من الأرض) أي فيكون أشبه بالسجود، منح

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

13/محرم الحرام1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب