| 88082 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک سید نے میرے ساتھ گیارہ لاکھ روپے کا فراڈ کیا ہے۔ دو سال سے وہ رقم واپس نہیں کر رہا اور ہر بار جھوٹ بولتا ہے۔ غصے میں آ کر میں نے اسے گالیاں دے دیں، لیکن اب مجھے اپنے رویے پر افسوس ہو رہا ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا شرعا حرام ہے، چہ جائیکہ وہ سادات میں سے ہو، اور سادات کا آلِ رسولﷺہونے کی وجہ سےان کا ادب واحترام کرنا اور ان کےساتھ حسن ِ سلوک کامعاملہ کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ، اس لیے آپ کو چاہیے کہ آپ نے جو اپنے عمل (گالی ) سے اس سید کو تکلیف پہنچائی ہے، اس پر صدق دل سے توبہ کریں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم کریں۔ البتہ جہاں تک رقم واپس نہ کرنے کامعاملہ ہے تو اس کے لیے آپ قانونی راستہ اختیار کرسکتے ہیں ۔
حوالہ جات
صحيح البخاري(1/ 19):
عن زبيد قال: «سألت أبا وائل عن المرجئة فقال: حدثني عبد الله: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: سباب المسلم فسوق وقتاله كفر.
صحيح مسلم (4 / 1873):
عن زید بن ارقم قال ۔۔۔۔۔قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم«وأهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي». فقال له حصين: ومن أهل بيته؟ يا زيد! أليس نساؤه من أهل بيته؟ قال: نساؤه من أهل بيته، ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده، قال: ومن هم؟ قال: هم آل علي وآل عقيل، وآل جعفر، وآل عباس قال: كل هؤلاء حرم الصدقة؟ قال: نعم.
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


