03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدت مکمل ہونے سے پہلے سرمایہ نہ نکالنے کی شرط کا حکم
88100شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

سائل   اور  پلیٹ فارم کی ویب  سائٹ سے تفصیلی معلومات   لینے کے  بعد مسئلے کی وضاحت:

Stake (KSA) ایک ڈیجیٹل سرمایہ کاری ایپ ہے، جو سعودی حکومت کے تعاون سے متعارف کروائی گئی ہے۔ اس ایپ کو درج ذیل مالیاتی ریگولیٹری اداروں کی باقاعدہ منظوری حاصل ہے:

(1) Dubai Financial Services Authority (DFSA): جو کہ

Dubai International Financial Centre (DIFC) میں کام کرنے والے مالیاتی اداروں کی نگرانی کرتا ہے۔

(2) Capital Market Authority (CMA) - Saudi Arabia :جو کہ مملکتِ سعودی عرب میں مالیاتی خدمات، سیکیورٹیز اور سرمایہ کاری کے معاملات کی ریگولیٹری اتھارٹی ہے۔

Stake ایپ کے ذریعے سرمایہ کاری کا طریقۂ کار:

Stake ایپ کے ذریعے صارفین کو سعودی عرب میں ریئل اسٹیٹ (جائیداد) میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر مختلف پراپرٹی منصوبوں کی مکمل تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں اور ہر پراپرٹی کو حصص کی شکل میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن کی قیمت دس دس درہم فی شیئر مقرر کی جاتی ہے۔ جو سرمایہ کار جتنے حصص خریدتا ہے، وہ اسی تناسب سے اس پراپرٹی میں ملکیتی حیثیت سے شریک  بن جاتا ہے۔Stakeہر سرمایہ کار کے ساتھ چار سال یا دیگر متعین مدت کا باقاعدہ معاہدہ کرتی ہے اور قانونی طور پر اُسے جائیداد کا ملکیتی   حیثیت سے شریک   تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی بناپر اُسے کرایہ کی آمدنی اور قیمت میں اضافےکا منافع دیا جاتا ہے۔پراپرٹی کی خریداری اور تزئین و آرائش کے بعد، اُسے کرایہ پر دیا جاتا ہے۔ حاصل شدہ کرایے میں سے تمام ضروری اخراجات، جیسے: مین ٹیننس، انشورنس، اور مینجمنٹ فیس وغیرہ منہا کرنے کے بعد باقی ماندہ رقم سرمایہ کاروں میں ان کی ملکیتی فیصدکے مطابق بطور نفع  تقسیم کی جاتی ہے، جو کہ ماہانہ، سالانہ یا معاہدے کی تکمیل پر یکمشت ادا کی جاتی ہے۔نیز معاہدہ مکمل ہونے پر جب پراپرٹی کو مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیاجاتاہے، اگر پراپرٹی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہو تو اس  حاصل شدہ نفع میں سے میں سےتمام ضروری اخراجات (جیسے مین ٹیننس، انشورنس، مینجمنٹ فیس) نکالنے کے بعدجو رقم بچتی ہے، اسے تمام سرمایہ کاروں میں ان کی ملکیتی فیصد کے تناسب سے نفع کے طور پرتقسیم کیا جا تا ہے۔

اہم شرط:معاہدہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے سرمایہ کار کو اپنا سرمایہ واپس لینے کی اجازت نہیں ہوتی، بلکہ اسے معاہدے کی مکمل مدت تک انتظار کرنا ہوتا ہے۔ البتہ معاہدے کے اختتام پر سرمایہ کار کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اس معاہدے کو مزید دو سال کے لیے بڑھا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ مدت مکمل ہونے قبل سرمایہ نہ نکالنے  کی شرط لگانا شرعاً جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر شرکاء ابتدا ہی میں باہمی رضامندی سے اس شرط پر متفق ہو جائیں کہ مقررہ مدت مکمل ہونے سے پہلے کسی شریک کو اپنا سرمایہ نکالنے کا حق حاصل نہیں ہوگا، تو ایسی شرط لگانا شرعاً جائز ہےکیوں کہ موجودہ دور میں اکثر کاروباری منصوبے تسلسل اور استحکام کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اگر کسی طویل المدت منصوبے میں بڑی رقم لگائی جائے اور کسی شریک کو بلاوجہ ابتدائی مراحل میں ہی اپنا سرمایہ واپس لینے کا اختیار دے دیا جائے، تو یہ دوسرے شرکاء کے لیے نقصان دہ اور پورے کاروبار کے لئے عدم توازن اور مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

حوالہ جات

«المعجم الكبير للطبراني» (17/ 22):

عن كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه، عن جده، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «المسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا، وأحل حراما، والصلح جائز بين الناس، إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا»

«موطأ مالك - رواية يحيى» (2/ 745 ت عبد الباقي):

عن عمرو بن يحيى المازني، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا ضرر ولا ضرار»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

18/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب