| 88111 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
میں اپنے ایک دوست کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ کرنا چاہتا ہوں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ میں نے ایک معروف کمپنی کے مالک سے بات کی اور اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ وہ مجھے اپنی کمپنی کی مصنوعات کے لیے ایجنسی کی اجازت دے گا، جس کے تحت میں خود یا کسی دوست کے ذریعے ان کی مصنوعات خرید کر آگے فروخت کر سکتا ہوں۔
تاہم میری یہ نیت نہیں کہ میں خود اس میں کوئی مالی سرمایہ لگاؤں یا عملاً کوئی کام انجام دوں،بلکہ میں اپنے دوست جس سے شراکت کارادہ ہے،اسے کہا کہ وہ اس کاروبار میں سرمایہ بھی لگائے اور سارا عملی کام بھی انجام دے۔ نفع کے بارے میں میری تجویز یہ ہے کہ جو بھی نفع حاصل ہوگا، وہ ہم آپس کی رضامندی سے تقسیم کریں گے، یا نصف میرے لیے اور نصف اس کے لیے ہوگا۔
اس میں میرا بنیاد ی کردار یہ ہے کہ میں نے کمپنی کے مالک سے ابتدائی بات چیت کی ہے، اور میرے اعتماد اور تعلق کی بنیاد پر کمپنی مالک نے مجھے ایجنسی دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بنیاد پر میرے لیے نفع لینا شرعاً جائز ہوگا؟ جب کہ میں نہ سرمایہ لگا رہا ہوں، نہ عملاً کوئی خدمت سرانجام دے رہا ہوں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح رہے کہ شرعی اعتبار سے نفع کے استحقاق کی بنیاد تین چیزوں پر ہے،یعنی کہ مال لگاکریا عمل کرکے یا پھر ضمان کی بنیاد پر نفع کا استحقاق ہوتاہے ۔سوال میں مذکورتفصیل کے مطابق آپ نے اس کاروبار میں کوئی سرمایہ نہیں لگا یا، نہ اس میں کوئی کام آپ کے ذمہ ہے اور نہ ہی آپ نے کسی چیز کا ضمان لیا ہے تو نفع میں شرکت کا کوئی سبب نہیں پایا جاتا، اس لئے آپ اس کاروبار کے نفع میں شریک نہیں ہوسکتے ۔
اس کا جائز متبادل یہ ہوسکتاہے کہ آپ یا تواپنے دوست کے لیے مال کی خریداری کے معاملات طے کروانے کے لیے کمیشن ایجنٹ کے طور پر کام کریں اور اسی کی بنیاد پردوست سے اپنا کمیشن طے کرکے ان سے وصول کرلیا کریں،یا پھر دوست کے ساتھ سرمایہ لگا کر شریک غیرعامل کی صورت اخیار کر لیں۔اس صورت میں آپ نفع میں اپنے سرمایہ کےتناسب سےنفع کا فیصدی حصہ اپنے لیے طے کر سکیں گے ،اس سےزیادہ کے آپ حق دار نہیں ہوں گے۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 62):
والأصل أن الربح إنما يستحق عندنا إما بالمال وإما بالعمل وإما بالضمان، أما ثبوت الاستحقاق بالمال فظاهر؛ لأن الربح نماء رأس المال فيكون لمالكه، ولهذا استحق رب المال الربح في المضاربة وأما بالعمل، فإن المضارب يستحق الربح بعمله فكذا الشريك.
وأما بالضمان فإن المال إذا صار مضمونا على المضارب يستحق جميع الربح، ويكون ذلك بمقابلة الضمان خراجا بضمان بقول النبي عليه الصلاة والسلام «الخراج بالضمان» ، فإذا كان ضمانه عليه كان خراجه له، والدليل عليه أن صانعا تقبل عملا بأجر ثم لم يعمل بنفسه، ولكن قبله لغيره بأقل من ذلك طاب له الفضل، ولا سبب لاستحقاق الفضل إلا الضمان، فثبت أن كل واحد منهما سبب صالح لاستحقاق الربح، فإن لم يوجد شيء من ذلك لا يستحق بدليل أن من قال لغيره: تصرف في ملكك على أن لي بعض ربحه؛ لم يجز، ولا يستحق شيئا من الربح لأنه لا مال ولا عمل ولا ضمان.
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
19/محرم الحرام/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


