| 88120 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
جَیز کیش کی جانب سے EFU انشورنس کمپنی کے ذریعے اکاؤنٹ ہولڈرز کو ہیلتھ انشورنس فراہم کی جا رہی ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سود، قمار اور غرر کی خرابی کی وجہ سے مروجہ بیمہ پالیسی (Conventional Insurance Policy )لینا شرعاً ناجائز ہے،لہذا جَیز کیش کی جانب سے EFU انشورنس کمپنی کے ذریعے اکاؤنٹ ہولڈرز کو جو ہیلتھ انشورنس فراہم کی جا رہی ہے،اس کا لینا بھی ناجائز ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 403):
وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.
مصنف ابن أبي شيبة» (4/ 483 ت الحوت):
حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة، عن عاصم، عن ابن سيرين، قال: «كل شيء فيه قمار فهو من الميسر.
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
19/محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


