| 88055 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے سنا ہے کہ اگر اجتماعی قربانی میں کسی دوسرے انسان کی نیت قربانی کی نہ ہو تو باقی لوگوں کی قربانی بھی نہیں ہوتی،ایسی صورت میں ایک عام انسان کے لئے کیا شرعی حکم ہوگا؟ کیوں کہ ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ کس کی کیا نیت ہے؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بہتر یہ ہے کہ تحقیق کرکے ایسے لوگوں کو شامل کیا جائے جن کی نیت اور آمدن کے بارے میں اطمینان ہو،اسلامی معاشرے میں چونکہ مسلمانوں کے بارے میں حسن ظن کا حکم ہے ،لہذا جب تک کسی کے بارے میں یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ اس کی نیت گوشت کی تھی یا اس کی آمدن صرف حرام ہی ہےتو اس وقت تک باقی شرکاء بے قصور ہیں؛ اس لیے ان کی قربانی ادا ہوجائے گی۔
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
18/ محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


