03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قربانی میں شرکاء کی نیت یا آمدن معلوم نہ ہوتوکیاحکم ہے؟
88055قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

میں نے سنا ہے کہ اگر اجتماعی قربانی میں کسی  دوسرے انسان کی نیت  قربانی کی نہ ہو تو باقی لوگوں کی قربانی بھی نہیں ہوتی،ایسی صورت میں ایک عام انسان کے لئے کیا شرعی حکم ہوگا؟ کیوں کہ ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ کس کی کیا نیت ہے؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بہتر یہ ہے کہ تحقیق کرکے ایسے لوگوں کو شامل کیا جائے جن کی نیت اور آمدن کے بارے میں اطمینان ہو،اسلامی معاشرے میں چونکہ مسلمانوں کے بارے میں حسن ظن کا حکم ہے ،لہذا جب تک کسی کے بارے میں یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ اس کی نیت گوشت کی تھی یا اس کی آمدن صرف حرام ہی ہےتو اس وقت تک باقی شرکاء بے قصور ہیں؛ اس لیے  ان کی قربانی ادا ہوجائے گی۔ 

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

18/ محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب