03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کا مسئلہ (شوہر ،ایک بیٹا اور ایک بیٹی میں میراث کی تقسیم)
88092میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

ایک محترمہ کاانتقال ہوچکا ہے ۔ انکی وراثت ان کے شوہر، ایک بیٹی اور ایک بیٹےمیں کس طرح تقسیم ہوگی؟

وضاحت:مذکورہ ورثہ کے علاوہ دیگر ورثہ نہیں ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید واضح رہے کہ مرحومہ كے ترکہ میں سےسب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعدمرحومہ کے ذمےواجب الاداء قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحومہ کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

         صورت مسئولہ میں تقسیم درج ذیل تناسب سے  ہوگی۔

ورثہ

فیصدی حصہ

شوہر

25%

بیٹا

50%

بیٹی

25%

حوالہ جات

 قال تعالى:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]

}فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَد فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكنَ ۚ مِنۢ بَعدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَو دَينٖ} [النساء: 12]

حماد الدین قریشی

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

20/محرم/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب