| 88092 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک محترمہ کاانتقال ہوچکا ہے ۔ انکی وراثت ان کے شوہر، ایک بیٹی اور ایک بیٹےمیں کس طرح تقسیم ہوگی؟
وضاحت:مذکورہ ورثہ کے علاوہ دیگر ورثہ نہیں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح رہے کہ مرحومہ كے ترکہ میں سےسب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعدمرحومہ کے ذمےواجب الاداء قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحومہ کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
صورت مسئولہ میں تقسیم درج ذیل تناسب سے ہوگی۔
|
ورثہ |
فیصدی حصہ |
|
شوہر |
25% |
|
بیٹا |
50% |
|
بیٹی |
25% |
حوالہ جات
قال تعالى:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]
}فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَد فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكنَ ۚ مِنۢ بَعدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَو دَينٖ} [النساء: 12]
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
20/محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


