03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں میں استعمال ہونے والی اشیاء کی تشہیر کا حکم
88096خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

  میں مختلف کمپنیوں کی مصنوعات کی آن لائن مارکیٹنگ کرتا ہوں، اور ان کی فروخت پر کمیشن حاصل کرتا ہوں۔

 اب میرا ارادہ ہے کہ ہیلووین" (Halloween) سے متعلقہ اشیاء (جیسے: خوفناک ماسک، کاسٹیومز اور سجاوٹ کے سامان وغیرہ )کی مارکیٹنگ کرکے کمیشن حاصل کروں۔ میری خود اس تہوار میں کوئی شرکت یا عقیدت نہیں ہے، چونکہ ان دنوں یہ اشیاء زیادہ فروخت ہوتی ہیں،اس لیے صرف کاروباری نقطۂ نظر سے ان کی تشہیر کرنا چاہتا ہوں۔

کیا ایسے غیر اسلامی تہوار سے متعلق اشیاء کی مارکیٹنگ کر کے کمیشن حاصل کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟اگر جائزنہیں  ہے، تو  کس درجے کی ممانعت  ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ہیلووین( Halloween) ایک  غیر اسلامی، شرکیہ اور جاہلانہ عقائد پر مبنی ایک   ایک تہوار ہے، جو ہر سال 31اکتوبر کو منایا جاتا ہے،یہ لوگ یہ  یقین رکھتے تھے کہ 31اکتوبر کی رات مردوں کی روحیں دوبارہ زمین پر آتی ہیں، اور زندوں کے درمیان گھومتی ہیں،روحوں سے بچنے کے لیے وہ آگ جلاتے، جانوروں کی کھالیں اور خوفناک لباس پہنتے تھے تاکہ وہ روحوں کو دھوکہ دے سکیں یا انہیں بھگا سکیں،اگرچہ اسے آج  کل تفریح اور تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، مگر اس کی جڑیں بت پرستی، روحوں کے عقائد، اور جادو پر مبنی ہیں۔

 صورتِ مسئولہ میں "ہیلووین" (Halloween) سے متعلقہ اشیاء (جیسے: خوفناک ماسک، کاسٹیومز اور سجاوٹ کے سامان وغیرہ ) چونکہ ناجائز کاموں (غیر مسلموں کی مذہبی عقائد و رسومات کی ترویج تشہیر) میں استعمال ہوں گی، جس سے ان کے باطل مذہب کی ترویج و تشہیر ہوگی،اس لئےان لوگوں کو  ایسی اشیاء بیچنا گناہ کے کام میں معاونت (تعاون علی الاثم) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے  شرعا جائز نہیں ہے۔لہذا  ایسے غیر اسلامی تہوار سے متعلق اشیاء کی مارکیٹنگ یا کاروبار کرنا اور کمیشن حاصل کرنا  سب  شرعاً  ناجائز اور حرام ہے،اس سے اجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

« القرآن  » (المائدۃ، الایة: 2):

«‌وَتَعاوَنُوا ‌عَلَى ‌الْبِرِّ ‌وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ.»

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص352):

«(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) ‌لانه ‌إعانة ‌على ‌المعصية (وبيع مايتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لاهل الحرب (لا) لاهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي.»

 

«فقه البیوع» (1/ 305-308):

«١٣٢ - بيع ما لا یتمحَّض المحظور:

أما الأشياء التي لا تتمحَّض لمحظور، بل يمكن استعمالها في حلال أو حرام، فقد اختلفت أنظارالفقهاء في حكم بيعها، والذي تحصل لي بمراجعة ما ذكره الفقهاء في هذا الموضوع والتأمل في كلامهم، أن هذه الأشياء على ثلاثة أقسام:

القسم الأول: ما وضع المحظور

١٣٤ - آلات الملاهي:

فالقسم الأول: ما وضع لغرض محظور، ومادته مباحة، فلا يستعمل في مباح إلا بتكلف، أو إحداث تغيير فيه، وذكر فيه الفقهاء آلات الملاهي المحظورة، ويقصدون بها آلات الموسيقى الممنوعة في المذاهب الأربعة...... أما الحنفية والشافعية، فبيع هذه الآلات صحيح منعقد عندهم، لأنه يمكن استعمالها في مباح، ولو بعد تغييرها، ولكن يكره البيع في حالتها الموجودة، قال الكاساني المال :

"ويجوز بيع آلات الملاهي من البربط، والطبل، والمزمار، والدف ونحو ذلك عند أبي حنيفة، لكنه يكره، وعند أبي يوسف ومحمد-رحمھااللہ_ لا ينعقد بيع هذه الأشياء، لأنها آلات معدّة للتّلهّی بها، موضوعة للفسق والفساد، فلا تكون أموالاً، فلا يجوز بيعها. ولأبي حنيفة_ رحمہ للہ-  أنه يمكن الانتفاع بها شرعاً من جهة أخرى؛ بأن تجعل ظروفاً لأشياء ونحو ذلك من المصالح، فلا تخرج عن كونها أموالاً .

والظاهر أن الكراهة التي ذكرها الحنفية في بيعها قبل فصلها تحريمية، لما قال ابن الهمام في أول شرحه لـ«فصل فيما يكره .»من الهداية: لما كان دون الفاسد، أخره عنه، وليس المراد بكونه دونه في حكم المنع الشرعي، بل في عدم فساد العقد، وإلا فهذه الكراهات كلهاتحريمية لا تعلم خلافاً في الإثم ".» ومقتضاه أن لا يطيب الثمن للبائع.

١٣٥ - الأصنام والصور المجسدة واللعب:

ويدخل في هذا القسم بيع الأصنام والصور المجسدة، إلا إذا كسرت وأمكن الانتفاع برضاضها، فيجوز بيعها. والأصل فيه حديث جابر بن عبد الله المال : أنه سمع رسول الله ﷺ يقول عام الفتح، وهو بمكة:"إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة، والخنزير، والأصنام" ۔۔۔ثم الظاهر أن من أجاز هذه اللعب للبنات، فإنما أجاز اللعب الصغيرة التي لا تشابه الأصنام، أما اللعب الكبيرة التي شاعت في عصرنا، فهي مشابهة للأصنام تماماً، وغالب ظني أنه لو رآها المجيزون لحكموا بمنعها.» 

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

20/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب