| 88124 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
میں نے ایک عورت سے شادی کی، بعض وجوہ کی بناء پر میرا رشتہ کامیاب نہ ہو سکا، چنانچہ میں نے 16 ستمبر2023ء کو ایک طلاق کا تحریری نوٹس اس کو بھیجا، اس کے بعد دوسری طلاق کا نوٹس ایک ماہ بعد 16اکتوبر2023ء کو بھیجا، ان دونوں طلاقوں کے بعد رجوع نہیں کیا ، تیسری طلاق میں نے نہیں بھیجی، تین ماہ بعد چونکہ طلاق مکمل طور پر واقع ہو جاتی ہے اور نکاح ختم ہو جاتا ہے، اب چونکہ پہلی طلاق کو انیس ماہ گزر چکے ہیں اور عورت کی عدت بھی مکمل ہو چکی ہے، اس لیے اب مجھے یونین کونسل سے طلاق کا سرٹیفکیٹ لینے کے لیے فتوی چاہیے، لہذا سوال کے مطابق فتوی جاری کر کے ممنون فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق آپ نے پہلی طلاقِ صریح دی اور رجوع نہیں کیا اور پھر دوسری صریح طلاق دینے کے بعد بھی رجوع نہیں کیا، یہاں تک کہ انیس مہینے گزر گئے اور عورت کی عدت مکمل ہو گئی، لہذا عدت مکمل ہونے کے بعد سے فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے، اب ان دونوں کے درمیان شرعی اعتبار سے زوجیت کا رشتہ قائم نہیں ہے، لہذا دونوں اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 470) دارالفكر بيروت:
"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض."
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
20/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


