| 88102 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:ایک گھرجوکہ 120گزکاہے،جس کی زمین خریدنےمیں ہم تین بھائیوں اوروالدہ کاپیسہ لگاہےاورگھربنانےمیں بھی ہم تین بھائیوں اورایک والدہ کاپیسہ لگاہے،اس کےعلاوہ میرےدوبھائی اوروالدبھی ہیں،جن کاگھربنانےمیں کوئی پیسہ نہیں لگا۔
نوٹ:ایک بھائی نےحال ہی میں میری اجازت کےبغیر اوپر ایک کمرہ تیارکیاہے، اس میں والدہ کی اجازت شامل تھی ۔
تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ والدین دونوں زندہ ہیں،یہ جائیدادہم آپس میں تقسیم کرنا چاہ رہےہیں توکیسےتقسیم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں پہلےیہ اندازہ لگایاجائےکہ زمین خریدنےاور گھربنانےمیں ہرایک بھائی اور والدہ کےکتنےپیسےلگےہیں،جس بھائی کےجتنےپیسےلگےہیں ،اسی اعتبار سےزمین اور مکان میں ملکیت ہوگی اور تقسیم بھی اسی اعتبار سےکیاجائےگا۔
اگرواقعتاایساہےکہ دوبھائی اوروالد صاحب کےپیسےبالکل نہیں لگے،تودوبھائی اوروالدصاحب کااس میں شرعاحصہ نہیں ہوگا۔ہاں آپ تمام شریک بھائی اوروالدہ راضی ہوں توان کو بھی دیاجاسکتاہے۔
واضح رہےکہ یہ تقسیم کرنا شرعی طورپر نہ میراث ہےنہ والدین کی طرف سےجائیداد کی تقسیم ہے،بلکہ آپ تمام شریک بھائیوں اور والدہ کا اپنےاپنےحصےکوالگ الگ تقسیم کرناہے،اصل ملکیت کااندازہ لگانےکےبعد باہمی رضامندی سےتقسیم کیاجاسکتاہے۔
مثال کےطورپر زمین اور گھر کی تعمیرکےکل اخراجات میں ایک بھائی نے50فیصدرقم لگائی ،باقی دوبھائیوں نے 20،20فیصداوروالدہ نے 10 فیصد۔
تواب موجودہ گھرکی مارکیٹ ویلیو لگوائی جائےگی،جتنی قیمت ہو اس میں سےہربھائی کی اتنی ہی فیصد رقم ہوگی ،جتنی اس نےزمین کی خریداری اور گھر کی تعمیر میں لگائی تھی،مثال کےطورپر اگرآج گھر کی قیمت ایک کروڑ ہےتوایک بھائی جس نے 50فیصداخراجات کیےتھےاس کے 50 لاکھ ہونگے،باقی دونوں بھائیوں کے 20،20 لاکھ اوروالدہ کے10 لاکھ ہونگے۔
واضح رہےکہ یہ مثال ایک فرضی اور سمجھانےکےلیےہے،حقیقی طورپر اخراجات میں کس بھائی کی کتنی رقم لگی،اس کا باہمی مشاورت اور رضامندی سےحساب لگانا ضروری ہوگا۔
مذکورہ بالاتقسیم میں جوبھی بھائی اس پورےگھرکو لینا چاہےتو دیگربھائیوں کورقم اداء کردےتو گھرمکمل اس کی ملکیت ہوسکتاہے،اسی طرح جو بھائی الگ ہوناچاہےتو جتنی رقم اس کی لگی ہے،اس کےاعتبارسےمارکیٹ ویلیو کےمطابق جتنی ملکیت بنتی ہے،اس کےبقدررقم دیگر بھائی اس کو ادائیگی کردیں تووہ الگ ہوسکتاہے۔
جس بھائی نےالگ سےاوپر کمرہ بنایاہے،اس کا حکم یہ ہوگاکہ اس کمرہ کی الگ سےجوبھی قیمت ہو،اندازہ لگاکراس بھائی کودینےہونگے۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
20/محرم الحرام 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


