| 89187 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
مضاربت میں نقصان وغیرہ سے متعلق متفرق سوالات
پہلے فریق (زید) کا بیان:
عرصہ دو سال قبل میں اور علی درس نظامی اور BSکے ہم جماعت اور قریبی دوست تھے،علی ٹریڈنگ کرتا تھا، علی کی صحبت سے میں بھی ٹریڈنگ کے میدان میں آگیا، استفتاء کی ابتداء ابھی سے شروع ہے، جس کی نوعیت اور کیفیت یوں تھی:
علی کے پاس تقریباً 4ہزار سے زائد ڈالر تھے ،ٹریڈ کرنے کےلئے علی نے ایک ماہر شخص سے منافع کی تقسیم کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا کہ وہ خاص علی کیلئے تجزیہ کرکے ٹریڈ لگوائے گا ، ماہر شخص کے 99٪ سگنل ٹھیک ہوتے تھے، میں نے علی سے کہا کہ وہ مجھے بھی ماہر کی طرف سے بھیجے گئے سگنل دیا کرے تو میں ماہانہ کچھ رقم آپ کو دوں گا(قریبی دوستی اور علی کے پاس ڈالرز کی فراوانی کے سبب مہینہ کے بعد سگنل کے عوض نہ علی نے فیس طلب کی اور نہ میں نے ادا کی)
ایک دن عشاء کے بعد علی نے سگنل بھیجا، لیکن میں نے اناڑی ہونے کے سبب کوئی اور کوئن خریدی۔ پھر تقریباً pm10 سےکچھ پہلے ہم کلاس میں اکٹھے بیٹھے اور معمول کے مطابق لگائی گئی ٹریڈ پر بات ہوئی۔ پھر علی نے اس کوئن سے وہ ٹریڈ ختم کرائی جو میں نے غلطی سے لگائی تھی اور دوسری کوئن میں لگوائی۔تھوڑی دیر بعد ٹریڈ loss میں چلی گئی۔ علی نے کوئن فروخت کرنے کا کچھ نہ بتایا،بلکہ انتظار کا بولا۔ انتظار کے دنوں میں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ سگنل علی نے کسی اور گروپ سے اٹھاکر دیا تھا نہ کہ ماہر ٹریڈر کی طرف سے۔ مجھے انتظار کراتے کراتے وہ دن آگیا کہ میری liquidationیعنی تصفیہ کا وقت قریب ہوگیا، روزانہ اکٹھے اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا، تو میں نے دو تین دفعہ مختلف ملاقاتوں میں پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے ان الفاظ میں تعاون طلب کیا کہ "اب مجھے کچھ ڈالرز بھیجو" دوسرے یہ الفاظ تھے:"اب میرا کچھ کرو یعنی ڈالر بھیج کر خطرے سے بچاؤ"،پھر وہ راضی ہوگیا، میں چونکہ اناڑی تھا اس وجہ سے اس نے میرا موبائل لیا اور علی نے میری بائنانس کی ایڈی نکال کر اس میں 200$ خود اپنے ہاتھوں سے بھیجے، مقدار بھی خود متعین کی اور قرض کے طور پر ہونے کی کوئ بات نہیں ہوئی تھی،گویا مجھے liquidation سے بچانے کیلئے خود میرا موبائل لے کر علی نے 200 ڈالرز فیوچر اکاؤنٹ میں back up کے طور پر رکھ کر دیے۔ اس رقم سے یہ مصیبت کچھ دنوں کیلئے ٹلی، لیکن مصیبت نے پیچھا نہ چھوڑا ،بالآخر میرے 300$ بشمول علی کے 200$ liquidate یعنی تصفیہ میں ختم ہوگئے، آخری ٹریڈ لگانے میں موبائل میرا تھا،لیکن مجھ سے زیادہ دخل علی دوست کا تھا، گویا تمام مراحل میں علی استاذ کی مانند تعاون کرتا تھا۔
علی کے پاس تحریری ثبوت کی حقیقت:
میرے نقصان کے دنوں میں علی کی غلط پالیسیوں سے اس کا اپنا بھی 5 ہزار ڈالرز کا بائنانس میں نقصان ہوگیا تھا۔جس کی غم خواری کرتے ہوئے میں نے علی سے کہا کہ "پریشان نہ ہوں، جو 200 ڈالرز میرے اکاؤنٹ سے ضائع ہوئے وہ پڑھائی سے فراغت کے بعد یعنی جاب کے ٹائم دوں گا(اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ آیا شرعاً یہ مجھ پر واجب ہیں یا نہیں صرف اخلاقاً کہا)
سال بھر علی نارمل رہا، پھر اس نے کلاس کے دوسرے ساتھی کے پیسوں کا نقصان کیا، وہ علی سے واپسی کا مطالبہ کرہاتھا، علی چونکہ گھر کے سربراہ بھائی سے رقم لےکر بھی نقصان کرچکا تھا، جب علی کلاس کے دوسرے ساتھی کے قرض کی ادائیگی کیلئے کوششیں کررہا تھا اور مجھ سے 10000 کی رقم لی کہ تیسرے دن واپس کروں گا۔ واپسی کے دن علی کا میسج آگیا کہ میرے بقیہ پیسے دو ،مجھے اشد ضرورت ہیں۔ علی کے دوغلے پن کی وجہ سے میں نے غصے کا اظہار کیا اور اس سے کنارہ کشی اختیار کی۔ پھر اس کے وقتاً فوقتاً میسج آنے لگے کہ میرے پیسے دو! علی کی طرف سے قرض کے لفظ کے تکرار کی وجہ سے میں نے جامع میسج بھیجا، جس میں ان پیسوں کو (جو استحسانا پڑھائی کے بعد دینے کا کہا تھا) انھیں لفظ قرض سے تعبیر کیا تھا۔ لفظ قرض کی تعبیر میں میری قرض کے اقرار کی نیت وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ اب علی اس میسج کو 200 ڈالرز کے نقصان کے بعد قرض کا نام دے کر طلب کررہا ہے۔
نیز اس سے پہلے زید نے علی کو دس ہزا روپے کرپٹو میں تجارت کے لیے دیے تھے، اس میں علی نے فیوچر سیل کی، جس کے نتیجے میں نقصان ہوگیا۔
دوسرے فریق (علی) کا بیان:
تقریباً دو سال قبل میں خود اپنی ذمہ داری پر کرپٹو ٹریڈنگ (اسپاٹ اور فیوچرسیل) کر رہا تھا۔ ایک شخص، جس کا نام "زید" ہے، کو علم ہوا کہ میں ٹریڈنگ کرتا ہوں تو اس نے مجھے دس ہزار روپے دیے کہ ان پیسوں کو کرپٹو ٹریڈنگ میں لگاؤ اور جو نفع ہوگا وہ آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔ میں نے مضاربت کے طور پر کام کیا، لیکن نقصان ہو گیا۔ شرعاً یہ نقصان زید کا بنتا تھا، لیکن زید نے مجھے بہت تنگ کیا کہ مجھے 10 ہزار پورے دو، میں نے احسان کرتے ہوئے بعد میں پورے دس ہزار روپے واپس کر دیے۔
اس کے بعد زید نے بائنانس پر اپنا ذاتی اکاؤنٹ بنا لیا اور خود ٹریڈنگ شروع کر دی۔ وہ مجھ سے رہنمائی لیتا رہتا تھا، میں اسے صرف مشورہ دیتا تھا۔ میں نے اسے صاف طور پر کہا تھا کہ فیوچر ٹریڈنگ خطرناک ہے، اگر کرنی ہے تو اپنی ذمہ داری پر کرے، کیونکہ فیوچر میں یہ ہوتا ہے کہ سارے پیسوں کا نقصان ہو جاتا ہے یا زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ ہم دونوں نے اپنے اپنے بائنانس اکاؤنٹ میں الگ الگ طور پر اپنی اپنی ذمہ داری پر ایک ہی کوئن میں ٹریڈ کی، جس میں اس کو نقصان ہو رہا تھا۔ اس وقت زید نے مجھ سے کہا کہ میرا اکاؤنٹ نقصان میں جانے کے قریب ہے، لہٰذا 200 ڈالر قرض دے دو، تاکہ نقصان سےبچ جائے اس نے دو، اس نےتین مرتبہ اصرار کیا کہ مجھے ادھار دے دو۔ پھر میں نے احسان کرتے ہوئے قرض کے طور پر 200 ڈالرز دے دیے۔ بعد میں وہ ٹریڈ مکمل طور پر نقصان میں چلی گئی اور اس کے سارے پیسے ختم ہو گئے۔
اب زید وہ 200 ڈالر واپس نہیں کر رہا، میرے قرض سے انکار کر رہا ہے، حالانکہ اس نے مجھے کئی بار بولا تھا ابھی پیسے نہیں ہیں بعد میں دوں گا اور اس نے میسج میں بھی خود لکھا تھا کہ "ابھی نہیں دے سکتا، بعد میں دوں گا۔"
اور دوسری بات یہ کرتا ہے کہ وہ آپ کا قرض نہیں ہے، کیونکہ آپ کی رہنمائی کی وجہ سے نقصان ہوا ہے۔اگر واقع میں ایسا ہوتا کہ میری وجہ سے نقصان ہوتا تو میرے سے اس نقصان کے بعد رہنمائی نہ لیتا اور نہ ہی ٹریڈنگ کرتا، لیکن اس کے بعد مجھ سے ہی رہنمائی لے رہا ہے اور جب میں اس سے اپنا قرض مانگا تو اس کے بعد اس نے مجھ سے بات ہی کرنا چھوڑ دیا۔
میں نے بعد میں ایک سال قبل (35 ڈالر) قرض کے طور پر لئے کہ ایک ہفتہ میں واپس کردوں گا، پھر ایک ہفتہ بعد میں نے زید سے اپنے 200 ڈالرز (جو قرض کے طور پر میں نے دیے تھے) مانگے اس نے کہا کہ یہ 35 ڈالرز واپس کردو اس سے ٹریڈنگ کرکے آپ کو ہر ماہ قرض واپس کردوں گا ( اس کا میسیج تصویر میں موجود ہے)۔اس کے بعد میں نے وہ 35 ڈالر اس کو واپس نہیں کئے اور میں نے بولا بقایا 165 ڈالرز مجھے دے دو، جو کہ اس نے ابھی تک نہیں دئیے، ابھی زید کے پاس میرا قرض 165 ڈالرز باقی ہیں،اب فریقین کے مندرجہ ذیل سوالات ہیں:
1۔ پہلا معاملہ200 ڈالر(جو باقی 165 ڈالرز ہیں)کا جو علی نے زید کے اکاؤنٹ میں ڈالے تھے، کیا وہ شرعاً قرض ہیں یا تبرع؟
2۔ زید کا اس ٹریڈنگ میں تین سو ڈالر کا نقصان ہوا،کیا زید کا یہ کہنا درست ہے کہ "یہ نقصان علی کی وجہ سے ہوا"؟ کیونکہ اس نے یہ سگنل کسی اور گروپ سے اٹھا کر لگایا تھا؟
وضاحت: علی نے اس سوال کی وضاحت کرتے ہوئےپہلے فریق یعنی زید کے سامنے حلفیہ بیان دیا کہ یہ سگنل اسی شخص کا دیا ہوا تھا جو پہلے سگنل دیتا تھا، نیز یہ سگنل زید نے اپنے موبائل میں خود لگایا تھا، میں نے نہیں لگایا تھا،اس پر بھی اس نے حلفیہ بیان دیا۔جس پر زید خاموش گیا۔
3۔ زید کا دس ہزار روپے والا نقصان کس پر لازم ہو گا؟جبکہ اس میں زید کی حیثیت رب المال کی اور علی کی حیثیت مضارب کی تھی، البتہ علی نے کرپٹو میں فیوچر ٹریڈنگ کی، جس کے نتیجے میں نقصان ہوا۔
وضاحت: علی نے اس سوال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ زید نے مجھے یہ کہا تھا کہ کرپٹومیں ٹریڈنگ کرو، زید کے بقول اس وقت مجھے یہ علم تو تھا کہ یہ کرپٹو میں ٹریڈنگ کرتا ہے۔ آگے یہ علم نہیں تھا کہ کرپٹو میں کونسی ٹریڈنگ کرتا ہے؟ فیوچر یا کوئی اور؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1)فریقین کی طرف سے سوال میں ذکر کی گئی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو دو سو ڈالر علی کی طرف سے زید کو دیے گئے تھے ان کی شرعی حیثیت قرض کی ہے، کیونکہ علی کے بیان میں تو واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ یہ رقم بطورِ قرض دی گئی تھی، زید نے اگرچہ شروع میں قرض کی صراحت کرنے کی نفی کی ہے، مگر بعد میں اس نے بھی قرض کی تعبیر استعمال کرتے ہوئے کہ یہ قرض کی رقم میں فراغت کے بعد آپ کو لوٹا دوں گا، اس وقت اس کی جو بھی نیت ہو، بہرصورت اس میں قرض کا اقرار موجود ہے اور فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول لکھا ہے کہ"المرأيؤخذ بإقراره"یعنی اگر آدمی کسی چیز کا اقرار کر لے تو اس سے اس کے اقرار کی وجہ سے اس چیز کا مطالبہ کیا جائے گا اور وہ اس کو ادا کرنے کا پابندہو گا۔
نیز اگر بالفرض زیدکے شروع کے بیان کے مطابق یہ تسلیم کر لیا جائے کہ دوسو ڈالر اکاؤنٹ میں ڈالتے وقت قرض کی تصریح نہیں کی گئی تھی تو بھی فقہائے کرام رحمہم اللہ نے صراحت کی ہے کہ قرض اور ہبہ میں اختلاف کے وقت ان میں سے ادنی عقد ثابت ہو گا اور وہ قرض ہے،کیونکہ ہبہ میں دائمی تملیک ہوتی ہے، جبکہ قرض میں عارضی تملیک ہوتی ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں زیدکے ذمہ شرعی اعتبار سے یہ دو سو ڈالر ادا کرنا لازم ہے، جو علی نے اس کے اکاؤنٹ میں ڈالے تھے۔
تنقيح الفتاوى الحامدية (4/ 425):
دفع إلى ابنه مالًا فأراد أخذه صدق أنه دفعه قرضًا؛ لأنه مملك. دفع إليه دراهم فقال له أنفقها ففعل فهو قرض كما لو قال اصرفها إلى حوائجك، ولو دفع إليه ثوبا وقال اكتس به ففعل يكون هبة ؛ لأن قرض الثوب باطل، لسان الحكام في هبة المريض وغيره. دفع إلى غيره دراهم فأنفقها، وقال صاحب الدراهم أقرضتك وقال القابض لا بل وهبتني، كان القول قول صاحب الدراهم، من نكاح الخانية.
رد المحتار (5/ 710) الناشر: دار الفكر-بيروت:
فروع: دفع دراهم إلى رجل وقال: أنفقها ففعل فهو قرض، ولو دفع إليه ثوبًا وقال ألبسه نفسك فهو هبة. والفرق مع أنه تمليك فيهما أن التمليك قد يكون بعوض، وهو أدنى من تمليك المنفعة، وقد أمكن في الأول؛ لأن قرض الدراهم يجوز، بخلاف الثانية، والوالجية.
جامع الفصولين (1/ 99) محمود بن إسرائيل الشهير بابن قاضي سماونه:
ولو شهد أحدهما بكفالة والآخر بحوالة تقبل في الكفالة لأنها أقل وهذان اللفظان جعلا كلفظة واحدة ألا يرى أن الكفالة بشرط براءة الأصيل حوالة والحوالة بشرط أن لا يبرأ كفالة.
شرح القواعد الفقهية (ص: 55) الناشر: دار القلم، دمشق ، سوريا:
لو ادعى كفالة وأقام شاهدين شهد أحدهما بالكفالة وشهد الآخر بالحوالة تقبل وتثبت الكفالة، لأنها أقل، وهذان اللفظان جعلا كلفظة واحدة. (ر: جامع الفصولين، آخر الفصل الحادي عشر) .
-
سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق جب علی نے زید کے سامنے حلفیہ بیان دےدیا کہ یہ سگنل اسی شخص کا دیا ہوا تھا، جس کے سگنلز پہلے سے وہ لیتا تھا، نیز زید نے یہ سگنل اپنے موبائل میں خود لگایاتھا، جس کے نتیجے میں نقصان ہوا، اس لیے اب علی اس نقصان کا ذمہ دار نہیں ہے، بلکہ اس نقصان کا ضامن خود زید ہی ہو گا۔
-
بطورتمہیدواضح رہے کہ کرپٹو کرنسی کے متعلق علماء کی تین طرح کی آراء ہیں: پہلی رائے اس کے مطلقاً ناجائز ہونے کی ہے، دوسری رائے توقف کی ہے یعنی جب تک اس کے متعلق تمام تر صورتحال واضح نہیں ہوجاتی اس کو جائز یا ناجائز نہیں کہا جاسکتا اور اس وقت تک کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے بچنا ضروری ہے، تیسری رائے کے مطابق کرپٹو کرنسی کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ حکومتی قوانین میں اس کو کرنسی تسلیم کیا گیا ہو اور اس میں خریدوفروخت کی اجازت دی گئی ہو۔دارالافتاء جامعة الرشید کی رائے یہ ہے کہ جب تک حکومت کی طرف سے باقاعدہ اس کرنسی کی قانونی حیثیت واضح نہیں ہو جاتی اور اس کو کنٹرول کرنے کا کوئی ریگولیٹری ادارہ نہیں بن جاتا اس وقت تک اس میں کاروبار وغیرہ کرنا جائز نہیں ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں اولا تو کرپٹو کرنسی میں مضاربت کے لیے کیا گیا معاملہ ناجائز ہوا اور دوسرا مضارب نے فیوچر سیل (Future Sale) میں کام کیا، جبکہ فیوچر سیل (Future Sale) شرعی اعتبار سے باطل (لتعليق التمليك بالخطروهو باطل كذا في فتح القدير) ہے اور مضارب كو شرعاً باطل خریدوفروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے فیوچر سیل (Future Sale) کرنے میں مضارب کی طرف سے تعدی پائی گئی،لہذا اس کے نتیجے میں جو نقصان ہوا اس کاضمان اشرعی اعتبار سے مضارب کے ذمہ لازم ہو گا۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (22/ 60) الناشر: دار المعرفة – بيروت:
ولا يتحرز في ذلك، فيكره للمسلم أن يكتسب الربح بتصرف مثله له، ولكن مع هذا جازت المضاربة؛ لأن الذي من جانب المضارب البيع والشراء، والنصراني من أهل ذلك، فإن اتجر في الخمر والخنزير فربح، جاز على المضاربة في قول أبي حنيفة - رحمه الله - وينبغي للمسلم أن يتصدق بحصته من الربح. وعندهما تصرفه في الخمر والخنزير لا يجوز على المضاربة، وهو فرع الاختلاف الذي بينا في البيوع، في المسلم يوكل الذمي بشراء الخمر، فإن اشترى ميتة فنقد فيها مال المضاربة فهو مخالف ضامن عندهم جميعا؛ لأنه اشترى ما لايمكنه أن يبيعه. وأن تصرفهم في الميتة لا يكون نافذا، والمضارب لا يشتري بمال المضاربة مالا يمكنه أن يبيعه، وإن أربى فاشترى درهمين بدرهم كان البيع فاسدا؛ لأنهم يمنعون من المعاملة بالربا لأنفسهم كما يمنع المسلم منه ولكن لا يصير ضامنا لمال المضاربة، والربح بينهما على الشرط، لما بينا أن المضارب لا يصير مخالفا بإفساد العقد إذا كان هو يتمكن من بيع ما اشتراه.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 87) دار الكتب العلمية،بيروت:
(أما) الذي يرجع إلى حال المضارب في عقد المضاربة فهو أن رأس المال قبل أن يشتري المضارب به شيئا أمانة في يده بمنزلة الوديعة؛ لأنه قبضه بإذن المالك لا على وجه البدل والوثيقة، فإذا اشترى به شيئا صار بمنزلة الوكيل بالشراء والبيع؛ لأنه تصرف في مال الغير بأمره، وهو معنى الوكيل فيكون شراؤه على المعروف، وهو أن يكون بمثل قيمته أو بما يتغابن الناس في مثله، كالوكيل بالشراء وبيعه على الاختلاف المعروف في الوكيل بالبيع المطلق.
ولو اشترى شراء فاسدا يملك إذا قبض لا يكون مخالفا ويكون الشراء على المضاربة. وكذا إذا باع شيئا من مال المضاربة بيعا فاسدا لا يصير مخالفا ولا يضمن؛ لأن المضاربة توكيل، والوكيل بالشراء والبيع مطلقا يملك الصحيح والفاسد، فلا يصير مخالفا، فإذا ظهر في المال ربح صار شريكا فيه بقدر حصته من الربح؛ لأنه ملك جزءا من المال المشروط بعمله، والباقي لرب المال؛ لأنه نماء ماله.
(بدائع الصنائع،کتاب المضاربۃ،ج:8،ص:50):
(وأما) القسم الذي ليس للمضارب أن يعمله أصلا ورأسا، فشراء ما لا يملك بالقبض وما لا يجوز بيعه فيه إذا قبضه.(أما) الأول فنحو شراء الميتة والدم والخمر والخنزير وأم الولد والمكاتب والمدبر.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
10/جمادی الاخری1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


