03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بلا معاوضہ کام کرنے کے بعد اجرت مانگنے کا شرعی حکم
89206اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

          میں نے ایک میڈیکل لیب جوائن کی اورچھ ماہ وہاں کام سیکھا۔ اس کے بعد میں کافی کام کرنے لگا۔ لیب کے مالک نے بھی کئی مرتبہ مجھے کام کرتے دیکھا۔ میرے والد نے دو دفعہ لیب مینیجر سے کہا بھی کہ میرے بیٹے کو کچھ دیا کریں، لیکن اُس نے کبھی لیب مالک سے اس بارے میں بات ہی نہیں کی۔ میں اسٹوڈنٹ تھا لیکن میڈیکل لیب کا کافی کام کر لیتا تھا۔اب میں نے لیب چھوڑ دی ہے۔ اس صورت میں کیا میری کوئی تنخواہ بنتی تھی؟ اور اگر بنتی تھی تو کس پر بنتی تھی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

       صورت مسئولہ میں چونکہ لیب کے مالک یا مینیجر کی جانب سے کوئی تنخواہ مقرر کرنے یا دینے کا معاہدہ موجود نہیں تھا، لہذا آپ کی کوئی تنخواہ واجب نہیں بنتی۔ البتہ اگر وہ آپ کے مطالبہ پر یا اپنی طرف سے کچھ دینا چاہیں تو وہ لینا جائز ہے۔

حوالہ جات

     الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 230)

      وقوله عليه الصلاة والسلام: "من استأجر أجيرا فليعلمه أجره" وتنعقد ساعة فساعة على حسب حدوث المنفعة..."ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة" لما روينا،...

     المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 393)

     " الإجارة إنما تنعقد بلفظين يعبر بهما عن الماضي نحو أن يقول أحدهما أجرت، ويقول الآخر: قبلت استأجرت، ولا تنعقد بلفظين أحدهما يعبر به عن المستقبل نحو: أجرتني، فيقول: أجرت..."

    المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 395)

    "أما بيان شرائطها فنقول يجب أن تكون الأجرة معلومة، والعمل إن وردت الإجارة على العمل، والمنفعة إن وردت الإجارة على المنفعة...وإعلام المنفعة ببيان الوقت... وتقع على نقد البلد الذي وقع فيه الإجارة".

محمد شاہ جلال

 دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی   

    11/جماد الاخری/1447ھ    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب