| 89283 | نماز کا بیان | نماز کی سنتیں،آداب اورپڑھنے کا طریقہ |
سوال
سوال یہ ہےکہ کیا قومہ میں ہاتھ باندھنا بھی سنت ہے بعض لوگ کہتے کہ حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی قیام کی حالت میں ہوتے ہاتھ باندھتے تھے اور کہتے ہیں کہ اس حدیث میں قیام یا قومہ کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ قومہ میں ہاتھ نہ باندھنے کے کیا دلائل ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز سکھائی ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تابعین کو سکھائی اسی طرح ہم تک نماز پہنچی ۔بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی تفصیل منقول ہے اور بعض صحابہ کرام ؓنے لوگوں کے سامنے نماز پڑھ کر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نماز پڑھتے تھے۔
ذخیرہ حدیث میں ایسی کوئی صریح روایت نہیں جس میں صحابہ کرام نے نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے قومہ میں ہاتھ باندھنے کا ذکر کیا ہو۔ صرف رکوع سے پہلے ہاتھ باند ھنے کا ذکر ملتا ہے ۔اگر رکوع کے بعد بھی ہاتھ باندھنا مسنون ہوتا تو جسے رکوع سے پہلے کا ذکر ہے رکوع کے بعد کا بھی ذکر ملتا ۔ اسی طرح امت کا تعامل اور توارث بھی اسی پر ہے۔ ہاتھ باندھنے کے لیے جوروایات ذکر کی جاتی ہیں ان میں سےکسی میں بھی صراحتا قومے میں ہاتھ باندھنے کا ذکر نہیں ۔ نماز میں بالعموم ہاتھ باندھنے کی روایت سے استدلال کیا گیا جو کہ ہمارے نزدیک راجح نہیں ہے۔
حوالہ جات
فتاوی دار العلوم دیو بند: ۲۴۳/۲
بندہ نے رسالہ اتمام الخشوع کو دیکھا، کوئی حدیث صریح اس بارے میں نقل نہیں کی گئی، جس سے بعد الرکوع صراحۃ ہاتھ باندھنا معلوم ہو، بلکہ روایت حضرت علی صلی اللہ عنہ جو صفحہ: ۷ کتاب مذکور میں منقول ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں : أنه كان إذا قام إلى الصلاة وضع يمينه على الشمال ، فلا يزال كذلك حتى يركع سے معلوم ہوا کہ وضع يمين على الشمال قبل الرکوع تک ہوتا تھا، بہر حال حنفیہ کثرهم الله تعالیٰ اور جمہور سلف و خلف کا یہی مذہب ہے کہ بعد الرکوع ہاتھ چھوڑے جاتے ہیں ، پھر تعجب ہے کہ آپ بندہ کی رائے دریافت کرتے ہیں، بندہ کی رائے خلاف اپنے ائمہ اور جمہور کے کیسے ہو سکتی ہے؟ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔
مرعاة : مولانا عبیداللہ مبارکپوری ؒ ،۱/۵۵۸
انسان کے قیام کی اصل حالت اور طبعی وضع ارسال یدین ہے(ہاتھوں کو لٹکائے رکھنا ہے )۔ داخل صلوۃ ہو یا خارج صلوة -صلوٰۃ میں قیام کی یہی وضع برقرار ہوگی الّا یہ کہ اس کے خلاف کوئی نص وارد ہو ( جس میں کسی دوسری وضع کا حکم دیا گیا ہو، تو پھر اسی منصو ص وضع پر عمل کیا جائے گا )جیسا کہ قیام قبل الرکوع کے بارے میں وضع یدین کی نص وارد ہے ، اس لئے اس میں وضع یدین مشروع ومسنون ہے لیکن قومہ یعنی اعتدال و رفع من الرکوع سے متعلق کوئی ایسی نص ایسی حدیث مرفوع صحیح صریح وارد نہیں جو اس حالت میں بھی وضع یدین کرنے پر دلالت کرتی ہو، اس لئے اس حالت میں یعنی قومہ میں اصل پر عمل کرتے ہوئے ارسال ہی مشروع ہوگا
عبداللہ المسعود
دارالافتا ء،جامعۃالرشید کراچی
۱۵⁄جمادی الاخری ⁄۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


