| 89252 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاته، میری نیت صرف قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ میرا معاملہ یہ ہے: 1. مجھے اپنی بیوی پر شک ہوا کہ وہ میرے ساتھ بے وفائی کر رہی ہے تو میرا جسم کانپنا شروع کر گیا اور میں نے اس کو مارنا شروع کر دیا اور گالی بھی بہت دی کہ میری زبان میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی پھر وہ اپنی جان چھڑا کے بھاگی کمرے سے باہر میں نکلا تو میں فرش پر گر گیا پھر میں اس کو مارنے کے لیے گیا تو امی اور بہن نے پکڑ لیا تو بس غصے میں تین طلاقیں بول دی ہیں، لیکن یہ سب غصے اور جذبات کی حالت میں ہوا، نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔ میں واپس رجوع کی طرف جانا چاہتا ہوں اور بیوی بھی اپنی غلطی پر شرمندہ ہے اور واپس گھر بسانا چاہتی ہے۔ 2. میں جاننا چاہتا ہوں: کیا یہ تین طلاقیں تین شمار ہوں گی یا ایک شمار ہوگی؟ کیا میں قرآن و سنت کے مطابق رجوع کر سکتا ہوں؟ 3. میں کسی فقہی مسلک کے پابند نہیں، صرف قرآن اور صحیح حدیث کے مطابق جواب چاہتا ہوں۔ براہ کرم واضح اور عملی رہنمائی دیں۔ جزاک اللہ خیر۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایک ساتھ یا ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینا خلاف سنت اور سخت گناہ ہے ،تاہم اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح تین طلاقیں دے دے تو قرآن وحدیث ،جمہور صحابہ ،تابعین اور ائمہ اربعہ اور سعودیہ کی لجنۃ شرعیہ کے فتوٰی کے مطابق ایک موقع پر تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں ۔لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی کو تین طلاقیں ہوگئی ہیں اور اب وہ آپ پر مکمل طور پر حرام ہوچکی ہے ،اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ جب تک وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کر کے ازدواجی تعلق قائم کرے اور پھر اس سے طلاق ہوجائے یا وہ شخص مر جائے اور پھر وہ عدت پوری کرےتو اس کے بعد ہی آپ اس سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ۔
حوالہ جات
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوجًا غَرَهُۥفَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ وَتِلكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَومٖ يَعلَمُونَ 230 [البقرة: 230]
صحيح البخاري(5/ 2014): 4959 -
حدثنا عبد الله بن يوسف: أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، أن سهل بن سعد الساعدي أخبره……………………………… كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقها ثلاثا قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم.قال ابن شهاب: فكانت تلك سنة المتلاعنين.
صحيح البخاري (5/ 2014): 4960 -
حدثنا سعيد بن عفير قال: حدثني الليث قال: حدثني عقيل، عن ابن شهاب قال: أخبرني عروة بن الزبير:أن عائشة أخبرته: أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إن رفاعة طلقني فبت طلاقي، وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي، وإنما معه مثل الهدبة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته).
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 353):
يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرةوطلاق اللاعب والهازل به واقع وكذلك لو أراد أن يتكلم بكلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع كذا في المحيط.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 233):
وأما ثانيا فالعبرة في نقل الإجماع نقل ما عن المجتهدين والمائة ألف لا يبلغ عدة المجتهدين الفقهاء منهم أكثر من عشرين كالخلفاء والعبادلة وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل وأنس وأبي هريرة، والباقون يرجعون إليهم ويستفتون منهم وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - {فماذا بعد الحق إلا الضلال} [يونس: 32]- وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف وغاية الأمر فيه أن يصير كبيع أمهات الأولاد أجمع على نفيه وكن في الزمن الأول يبعن اهـ ملخصا ثم أطال في ذلك.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/جمادی الثانیہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


