03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کے بعد بچے کے نفقہ کا حکم
89309طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے بعد میرے بچے کے علاج اور غذا کا خرچ کس کے ذمہ واجب ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے بچے کے کھانے پینے، علاج معالجہ اور تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات شرعاً اس کے والد کے ذمہ لازم ہیں، آپ عدالت کے ذریعہ ان تمام اخراجات کا مطالبہ کر سکتی ہیں، عدالت کے فیصلے کے باوجود اگر وہ  نفقہ ادا نہیں کررہا تو آپ بچے کے نفقہ کے سلسلہ میں دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں، نیز بچے کا نفقہ نہ دینے کی صورت میں اس کا والد شرعاً گناہ گار ہو گا، جس کا آخرت میں اس سے مواخذہ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اس کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کا مکمل طور پر خرچہ برداشت کرے، کیونکہ شریعت نے بچے کے نان ونفقہ کی ذمہ داری اس کے والد کے ذمہ ڈالی ہے، جس کو ادا کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (3/ 64) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

وأما نفقة الولد على الأب فلما تلونا، ولما ذكرنا من المعنى، وروى الخصاف والحسن أن الولد البالغ تجب نفقته على الأبوين أثلاثا باعتبار الإرث بخلاف الولد الصغير حيث تجب نفقته على الأب وحده لأن الأب يختص بالولاية في الصغير فكذا في النفقة.

النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 197) مؤسسة الرسالة، بيروت:

 نفقة الولد على الوالد لا يشاركه فيها أحد اذا لم يكن لهما مال والخلاف في ذلك .

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16/جمادی الاخری1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب