| 89309 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے بعد میرے بچے کے علاج اور غذا کا خرچ کس کے ذمہ واجب ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے بچے کے کھانے پینے، علاج معالجہ اور تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات شرعاً اس کے والد کے ذمہ لازم ہیں، آپ عدالت کے ذریعہ ان تمام اخراجات کا مطالبہ کر سکتی ہیں، عدالت کے فیصلے کے باوجود اگر وہ نفقہ ادا نہیں کررہا تو آپ بچے کے نفقہ کے سلسلہ میں دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں، نیز بچے کا نفقہ نہ دینے کی صورت میں اس کا والد شرعاً گناہ گار ہو گا، جس کا آخرت میں اس سے مواخذہ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اس کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کا مکمل طور پر خرچہ برداشت کرے، کیونکہ شریعت نے بچے کے نان ونفقہ کی ذمہ داری اس کے والد کے ذمہ ڈالی ہے، جس کو ادا کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (3/ 64) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
وأما نفقة الولد على الأب فلما تلونا، ولما ذكرنا من المعنى، وروى الخصاف والحسن أن الولد البالغ تجب نفقته على الأبوين أثلاثا باعتبار الإرث بخلاف الولد الصغير حيث تجب نفقته على الأب وحده لأن الأب يختص بالولاية في الصغير فكذا في النفقة.
النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 197) مؤسسة الرسالة، بيروت:
نفقة الولد على الوالد لا يشاركه فيها أحد اذا لم يكن لهما مال والخلاف في ذلك .
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
16/جمادی الاخری1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


