03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی کے موقع پر دیے گئے زیور کی ملکیت کا دعوی اورمطالبہ
89326نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میری والدہ کے پاس 12 تولہ ملکیتی سونا تھا ۔چارچارتولہ کے دو سیٹ تھے، اور الگ سے چار تولہ پکا سونا تھا۔ والدہ نے تینوں بہن بھائی کو جمع کرکے یہ زیور انہیں گفٹ کرنا چاہا۔ چونکہ ڈیزائن مختلف تھے، اس لیے والدہ نے قرعہ اندازی کرنا چاہی، تو میں نے کہا کہ مجھے پکا سونا چاہیے، وہ مجھے دے دیں، میرا نام قرعہ اندازی میں شامل نہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے مان لیا اور وہ پکا سونا (چار تولہ) مجھے دے دیا اور میں نے اس پر قبضہ بھی کرلیا۔ باقی دو سیٹوں پر دونوں بہنوں میں قرعہ اندازی ہوئی،اوران کو دیدیاگیا۔

مجھے جو چار تولہ سونا ملا تھا، اس میں سے ایک تولہ میں نے بیچ کر سہولت کے لیے گھرمیں سولر لگوایا کیونکہ پوری رات لائٹ نہیں ہوتی تھی۔ باقی تین تولہ مجھے اپنی شادی کے وقت بری (شادی) کے سامان کے ساتھ سسرال بھیجنا پڑا، مگر میں نے یہ ملکیت کے طور پر نہیں دیا تھا، اور ہمارے علاقے کے عرف میں ایسے موقع پر ملکیت کے طور پرسونا نہیں دیا جاتا، بلکہ طلاق کی صورت میں واپس لیا جاتا ہے۔ شادی کے دو ماہ بعد گھر میں جھگڑا ہوا تو میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ جو زیور میرے گھر سے دیا گیا ہے، وہ آپ کی ملکیت نہیں، میں جو چاہوں اس کا کرسکتا ہوں۔ پھر میں نے وہ تین تولہ سونا بیچ کر اس کی مالیت گھر پر لگائی۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہماری طلاق ہوچکی ہے تو سسرال والے کہہ رہے ہیں کہ وہ سونا ہماری بیٹی کا تھا،اس کی قیمت دو، جبکہ دیتے وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ یہ اس کا تحفہ ہے۔ مگر سسرال والے اب اس کی مالیت کا مطالبہ مجھ سے کر رہے ہیں۔ تو کیا میرے زیور پر ان کا حق ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کی والدہ کا دیا ہوا چار تولہ سونا آپ کی مکمل ملکیت تھا، اسے بری کے ساتھ بھیجنے سے بیوی کی ملکیت نہیں بنتی، اور آپ نے پہلے ہی وضاحت کردی تھی کہ یہ اس کا زیور نہیں، اس لیے طلاق کے بعد آپ پر اس سونے کی قیمت دینا لازم نہیں۔

حوالہ جات

شرح المجلة للعلامة خالد الأتاسی(3/350-348):

مادة 838:- تنبیهان: الأول: یستفاد من هذه المادة أن مجرد إعطاء الرجل لزوجته حلیًا و تمتعها به لا یکون تملیکا، بل لا بد أن یقول: خذیه أو علقیه أو نحو ذلك مما یکون تعبیرا یدل علی التملیك مجانا، حتی یکون إیجابا. و یؤیده ما فی رد المحتار آخر کتاب الهبة: رجل اشتري حليا ودفعه إلى امرأته واستعملته ثم ماتت ثم اختلف الزوج وورثتها أنها هبة أو عارية فالقول قول الزوج مع اليمين أنه دفع ذلك إليها عارية لأنه منكر للهبة ( منح).   

قال الرملی: وهذا صریح فی رد کلام أکثر العوام أن تمتع المرأة یوجب التملیك، و لا شك فی فساده، آه، و کذا قال فی البحر، و لا یکون استمتاع المرأة بمشری الزوج و رضاه بذلك دلیلا علی أنه ملکها ذلك کما تفهمه النساء و العوام، و قد أفتیت بذلك مرارًا، آه.

لکن فی رد المحتار أیضا أول کتاب الهبة ما نصه: أعطی لزوجته دنانیر لتتخذ بها ثیابا و تلبسها عنده فدفعتها معاملة فهی لها (قنیة).اتخذ لولده الصغير ثوبا يملكه وكذا الكبير بالتسليم، بزازية. اتخذ لولده ثيابا ليس له أن يدفعها إلى غيره إلا إذا بين وقت الاتخاذ أنها عارية وكذا لو اتخذ لتلميذه ثيابا فأبق التلميذ فأراد أن يدفعها إلى غيرها، بزازية.

 و کتب قبل هذا ما نصه: وفي خزانة الفتاوى إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك (بيري).  قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك، كمن دفع لفقير شيئا وقبضه ولم يتلفظ واحد منهما بشيء، وكذا يقع في الهداية ونحوها، فاحفظه، ومثله ما يدفعه لزوجته أو غيرها، آه.

و یظهر لی من مجموع هذه النقول أن الهبة کما تنعقد بالألفاظ الدالة علی التملیك مجانا لغة أو عرفا،تنعقد أیضا بالفعل بطریق التعاطی، کما ستأتی فی المادة الآتیة، لکن مع قرینة لفظیة أو حالیة، و منها والعادة، تعین أن ذلك الفعل أرید به التملیك، فاللفظیة کقول الرجل فی مسئلتنا "خذیه أوعلقیه"، أو کما لو دفع لها دراهم و قال: اتخذی بها ثیابا و البسها، و کذا لو قال لها: متعتك بهذه

الثیاب أو بهذه الدراهم کما فی الهندیة عن محیط السرخسی. و الحالیة کما إذا اتخذ لولده أو لتلمیذه ثیابا فإن الاتخاذ مشعر بمادته أنه فعل بالثیاب ما یجعلها ملایمة لهما طولا و عرضا و نحو ذلك، فکان ذلك قرینة علی إرادة التملیك، أو یقال: إن العرف فی مثل هذا قرینة علی إرادته، و کذا إذا دفع لابنیه کل واحد منهما مبلغا من الدراهم و کل منهما تصرف بما فی یده، ثم عمد إلی أحدهما فقال إن ما دفعته له قرض، و هو یعترف بأن ما دفعه للآخر تملیك؛ فإن هذا قرینة حالیة علی إرادة التملیك بالدفع للأول أیضا؛ لأن الظاهر التسویة بالعطیة بین الأولاد عرفا و شرعا، و لو لا هذه القرینة لکان القول قول الأب، و هکذا‎.

و قد أجاب فی الخیریة عما یرسله الشخص إلی غیره فی الأعراس و نحوها بقوله "إن کان العرف بأنهم یدفعونه علی وجه البدل یلزم الوفاء، إن مثلیًا فمثله و إن قیمیًا فقیمته. و إن کان العرف خلاف ذلك بأن کانوا یدفعونه علی وجه الهبة و لا ینظرون فی ذلك إلی إعطاء البدل فحکمه حکم الهبة فی سائر أحکامه، فلا رجوع فیه بعد الهلاك أو الاستهلاك. و الأصل أن المعروف عرفا کالمشروط شرطا، آه.

و لا ینافی ما قلناه ما فی رد المحتار فی باب المهر و آخر باب التحالف عن البدائع حیث قال: و هذا یعنی کون القول قولها مما یصلح لها إذا لم تقر المرأة أن هذا المتاع اشتراه الزوج لها، فإن أقرت بذلك سقط قولها؛ لأنها أقرت بالملك لزوجها ثم ادعت الانتقال إلیها، فلا یثبت الانتقال إلیها إلا ببینة، آه.؛ لأن الانتقال إلیها الذی کلفت لاثباته بالبینة یشمل ما إذا کان بطریق الهبة المدلول علیها بالقرائن اللفظیة کقوله لها "خذی هذا أو علقیه"، أو بالقرائن الحالیة کالعرف و العادة و نحوها، فتدبر.  و من تأمل فی فروعهم فی کتاب الهبة وجد أکثرها دایرا مع القرائن اللفظیة أو الحالیة، فتأمل و راجع لرشد. ثم إن القرینة إنما تعتبر إذا لم یعارضها الصریح، و إلا بأن أشهد حین التسلیم أنه بطریق العاریة فلا اعتبار لها؛ لأن الصریح أقوی من الدلالة. و بما ذکرنا تتخلص عباراتهم من شائبة الانتقاض و تنحسم مادة  الاعتراض عنها.

 سید حکیم شاہ

دارلافتاء جامعۃ الرشید کراچی

20/06/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب