03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی اور 5بیٹوں کے درمیان میراث کی تقسیم کے بعد شرکت کا معاملہ
89418شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

 محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ میں ہمارے والد مرحوم کی جائیداد کی تقسیم اور ہمارے خریدے گئے مکان میں موجودہ ملکیتی حصص کے بارے میں اسلامی (شرعی) حکم کے متعلق آپ کی رہنمائی کا طالب ہوں۔ پس منظر: ہمارے والد 1993 میں انتقال فرما گئے۔ ان کے ورثاء میں شامل تھے: 1 بیوہ (ہماری والدہ)، اور 5 بیٹے (جن میں میں بھی شامل ہوں)۔ والد کے انتقال کے کچھ سال بعد، ہمیں اپنے چچاؤں سے والد کا حصہ وراثت میں ملا۔ ہم نے اس رقم سے خاندان کے نام پر ایک مکان خریدا۔ 2022 میں، ہم نے وہ مکان 1 کروڑ 36 لاکھ روپے میں فروخت کیا۔ اس رقم سے پہلے ہم نے اپنی والدہ کا اسلامی حصہ یعنی 1/8واں (12.5%) الگ کیا، جو 17 لاکھ روپے بنتا ہے۔ باقی رقم 1 کروڑ 19 لاکھ روپے تھی، اور یہ پانچوں بیٹوں میں برابر حصوں میں تقسیم کی گئی۔ ہر بیٹے کو 23 لاکھ 80 ہزار روپے ملے۔ دو بھائیوں — عمیر عباسی اور یاسر عباسی — نے اپنے مکمل حصے لے لیے۔ باقی 3 بھائیوں اور والدہ کے حصوں سے خاندان کے پاس 88 لاکھ 40 ہزار روپے باقی رہے۔ بعد میں، ہم نے دوسرا مکان خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے: ایک بھائی، یاسر عباسی، جس نے پہلے ہی اپنا حصہ لے لیا تھا، نے اپنے ذاتی فنڈز سے اضافی 1 کروڑ 25 لاکھ روپے کا تعاون کیا۔ مکان کی خریداری کے لیے باقی رقم، 88 لاکھ 40 ہزار روپے، 3 بھائیوں (اویس عباسی، عابد عباسی، اسد عباسی) اور ہماری والدہ کے اجتماعی حصے سے آئی۔ اس تعاون کی بنیاد پر، ہم نے نئے مکان کی ملکیت اس طرح شمار کی: والدہ 3 بھائیوں کا اجتماعی حصہ: 88 لاکھ 40 ہزار روپے = 41.42% تعاون کرنے والے بھائی (یاسر عباسی) کا حصہ: 1 کروڑ 25 لاکھ روپے = 58.58% یہ بتا دوں کہ دونوں بار، پہلے وراثتی فنڈز سے خریدا گیا مکان اور بعد میں خریدا گیا نیا مکان، صرف سہولت اور خاندانی اعتماد کی وجہ سے ہماری بیوہ والدہ کے نام رکھے/رجسٹرڈ کیے گئے، نہ کہ اس لیے کہ انہوں نے خود مکمل رقم ادا کی تھی۔ ہمارا سوال: ہم عاجزی سے آپ سے رہنمائی چاہتے ہیں: کیا مذکورہ بالا تقسیم اور ملکیتی حصوں کا حساب شریعت کے مطابق ہے؟ اگر ہمارے طریقے میں کوئی خرابی ہے تو برائے کرم صحیح اسلامی حکم سے آگاہ فرمائیں تاکہ ہم باہمی رضامندی سے اسے درست کر سکیں۔ جو بھی شرعی حکم (فتویٰ) آپ اس معاملے پر مہربانی سے فراہم فرمائیں گے، ہم اسے تحریری طور پر دستاویز بنائیں گے اور اس کے مطابق عمل کریں گے۔ آپ کا تفصیلی مشورہ اس معاملے کو منصفانہ اور اسلام کے مطابق طے کرنے میں ہماری مدد کرے گا۔ جزاک اللہ خیر۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالا  تفصیل کے مطابق آپ  لوگوں کی   میراث کی تقسیم شرعی اعتبار سے درست تھی  اس کے بعد والا  معاملہ  شرکت کا ہے  ،جس نسبت سے  مکان کی خرید اری  میں  جس کا  جو حصہ ہے  وہ طے ہے   لہٰذا وہ بھی درست  ہے  ۔تاہم ڈاکومینٹ  میں  اگر  والدہ اور  تین بھائیوں میں  سے ہر ایک کا حصہ  بھی الگ الگ  کر کے لکھ لیا جائے  تو بہتر ہے۔

حوالہ جات

وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكتُم إِن لَّم يَكُن لَّكُم وَلَدۚ  فَإِن كَانَ لَكُم وَلَد فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكتُمۚ مِّنۢ بَعدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَو دَينٖ [الساء: 12] 

     المبسوط» للسرخسي (29/ 138):

ثم أقوى أسباب الأرث العصوبة فإنه يستحق بها جميع المال ولا يستحق بالفريضة جميع المال والعصوبة في كونها سببا للإرث مجمع عليها بخلاف الرحم فكانت العصوبة أقوى الأسباب، ثم إن محمدا رحمه الله بدأ الكتاب ببيان ميراث الآباء، وقد استحسن مشايخنا رحمهم الله البداءة ببيان ميراث الأولاد اقتداء بكتاب الله فقد قال الله عز وجل {يوصيكم الله في أولادكم} [النساء: 11]، ولأن الابن مقدم في العصوبة على الأب، وقد بينا أن أقوى الأسباب العصوبة فقدمنا بيان ميراث الأولاد لهذا والله أعلم بالصواب.

المبسوط» للسرخسي (11/ 151):

ثم الشركة نوعان: شركة الملك وشركة العقد. (فشركة الملك) أن يشترك رجلان في ملك مال، وذلك نوعان: ثابت بغير فعلهما كالميراث، وثابت بفعلهما، وذلك بقبول الشراء، أو الصدقة أو  الوصية. والحكم واحد، وهو أن ما يتولد من الزيادة يكون مشتركا بينهما بقدر الملك، وكل واحد منهما بمنزلة الأجنبي في التصرف في نصيب صاحبه.

(وأما شركة العقد) فالجائز منها أربعة أقسام: المفاوضة، والعنان، وشركة الوجوه، وشركة التقبل. ويسمى هذا شركة الأبدان، وشركة الصنائع.

وسیم اکرم بن محمد ایوب

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

22  /جمادی الثانیہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب