03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زوجہ، تین بیٹے اور تین بیٹیوں میں تقسیم میراث
89445میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

       ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ (اللہ ربُّ العزت ہمیں جنتُ الفردوس میں اکٹھا فرمائے، آمین) ورثہ میں ہماری والدہ، ہم تین بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں۔ تمام بہن بھائی شادی شدہ ہیں۔ والد صاحب کا ایک پینتالیس گز کا مکان ہے، جس میں والدہ اور دو بھائی رہتے ہیں۔ ایک چھوٹا فلیٹ ہے، کچھ نقدی بینک میں موجود ہے، اور ضرورت استعمال کی چیزیں (جیسے کپڑے، گھڑی، موبائل، چپلیں وغیرہ) بھی ہیں۔

      اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا تمام اشیاء کی شرعاً تقسیم ترکہ کس طرح ہوگی؟نیز والدہ محترمہ نے بتایا ہے کہ والد صاحب نے فلیٹ کے بارے میں زبانی طور پر کہا تھا کہ یہ تمہارا ہے۔ کیا ان کی یہ بات شرعاً قابل قبول ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   آپ کی والدہ محترمہ کو جو والد صاحب نے کہا تھا کہ یہ فلیٹ تمہارا ہے، تو اگر انہوں نے وہ فلیٹ ان کے قبضے اور تصرف میں دے دیا تھا تو یہ والدہ محترمہ کا ہے۔ اور اگر صرف کہا تھا، قبضہ نہیں دیا تھا، تو یہ آپ کے والد صاحب کی ایک خواہش تھی۔ اب اگر آپ اور آپ کے بہن بھائی خوشی سے اس کی اجازت دیتے ہیں ،تو وہ فلیٹ آپ کی والدہ محترمہ کا ہو جائے گا، اس میں کوئی حرج نہیں؛ ورنہ وہ ترکہ میں شامل ہوگا۔

   آپ کے والد صاحب نے اپنے انتقال کے وقت منقولہ ، غیر منقولہ جو کچھ چھوڑا ہےاور اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، وہ سب ان  کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلےان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گاکہ اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچے  اس میں سے فیصدی اعتبار سے میت کی بیوی کو 12.5%اور  ہر ایک بیٹے کو 44%.19اور ہر ایک بیٹی کو           72%.9ملے گا۔

ورثہ

زوجہ

بیٹا

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                 بیٹا

بیٹا

بیٹی

بیٹی

بیٹی

عددی حصہ

9

14

14

14

7

7

7

فیصدی حصہ

12.5%

19.44%

19.44%

19.44%

9.72%

9.72%

9.72%

حوالہ جات

    سورۃ النساء:آیت( 12)

" وَلَهُنَّ نِصْفُ مَا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ، فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ".

    سورۃ النساء:آیت(11)

"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ، لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ".

    الفتاوى الهندية (6/ 447)

التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط ...ويكفن في مثل ما كان يلبس من الثياب الحلال حال حياته على قدر التركة من غير تقتير ولا تبذير، ...وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو ودين الصحة سواء، كذا في المحيط ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث...

محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

28/جماد الا خری/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب