| 89449 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
السلام علیکم ! میرا سوال اپنے نسب اور اس پر لگنے والے کچھ شرعی اور فقہی مسائل پر ہے حافظ محمد عبداللہ بن حافظ امجد شاہین بن محمد شفیع بن محمد یا سین بن غلام محمد بن مولانا منگا(عرف) بن ملا کالو بن مولانا نور محمد بن مولانا جان محمد بن مولانا خان محمد بن مولانا لال بن مولانا شیر عالم بن ملا کالو بن حافظ شریف بن مولانا حسین بن مولانا مراد بن ملا معروف بن حافظ کمال بن قاری محمد خان بن حافظ نظام بن حافظ قائم بن فیروز خان بن شیر عالم خان بن حافظ ایس بن پیر سخی تیس بن معظم شاہ المعروف پیر دھنی مانک (مدفن کوٹلی ستیاں ، پنجاب) بن پیر چن شاہ بن بیر زمان شاہ بن پیر احمد شاہ بن جمال شاہ بن قلیل شاہ بن ظہیر شاہ بن قطب شاہ بن الف شاہ بن سلطان شاہ بن فیروز شاہ بن کرتاب شاہ بن نواب شاہ بن دراب شاہ بن حیدر شاہ بن انت شاہ بن ابک شاہ بن سکندر شاہ بن احمد شاہ بن شاہ حمید زبیر قاسم بن محمد الاکبر الحنفیہ بن علی المرتضی بن ابو طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف اس شجرے کی روشنی میں کیا ہم صدقات و خیرات لے سکتے ہیں؟ ہمارے بڑے سید بھی لکھتے تھے اور شاہ مشہور بھی ہوئے 44 نسلوں تک حضرت علی سے مولانا منگا تک سب علما بھی رہے ہیں پر محمد بن علی کربلا میں نہ تھے جس کی وجہ سے ہم اعوان نہ کہلائے اسطرح جس طرح عباس علمدار بن علیالمرتضی کی اولاد کہلائی ۔ اب بہت سے لوگ اختلاف کرتے ہیں کہ حضرت علی کی اولاد ہو تو اعوان لکھو لیکن معظم شاہ المعروف پیر دھنی مانک کی اولاد کہتی ہے ہم سب مل کر اپنی ایک الگ برادری بنا لیں جو ہمارا لقب ہے "دھنیال علوی" ۔ پر یہ صرف لقب ہے خطاب ہے اور شائد کہ کنیت ہے ہمارے اباؤ اجداد شاہ اور کچھ اپنے پورے نام میں سید لکھتے تھے تو ہم اب کیا قوم لکھیں۔ دلائلی رہنمائی فرمائیں ۔ کچھ لوگ آل اہل بیت صرف فاطمی سید کو کہتے ہیں پر ہاشم بن عبد مناف کی اولاد کو جو ایمان لائے ان کو بھی بہت سے لوگ اہل بیت کہتے ہیں کیا ہماری نسبت اس شجرہ کی روشنی میں آل اہل بیت سے ملتی ہے ؟اور کیا ہم اپنے بڑوں کو اہل بیت کہہ سکتے ہیں؟ کیا خاندان میں لوگ جنہوں نے صدقات اس سے قبل لہے ہیں اور اگر ناجائز تھا تو اس کا کفارہ کیا ہو گا؟ ہمارے اباؤ اجداد نے جنگ ازادے کے بعد چھپ کر ہجرت کر کے قوم چھپا دی تھی اب اگر اپنا نسب اور قوم اصل والی لکھیں تو سماج نے باتیں کچھ ایام کرنی ہیں پر شریعت کیا کہتی ہے اس معاملے میں یہ سوال میری ذات کے حوالے سے ہے میں ذاتی طور پر چاہتا ہوں کہ میں اپنے اباؤ اجداد کی علمی حیثیت دوبارہ زندہ کروں اور خود سے حفظ کر لیا بہے بغیر مدرسے کے نیز ثالثہ رابعہ تک کی کتب گھر میں پڑھی ہیں کوئی طریقہ و راستہ بتائیں کہ میں اپنی خاندانی عظمت کو فی سبیل اللہ دوبارہ بحال کر دوں کیا جامعہ الرشید اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ جو علم ہمارے اکابر کے پاس تھا ہو علم اسی منہج پر جامعہ پڑھائے اور فقہ حدیث اور تفسیر میں انتہائی مضبوط بنیاد دے؟ نیز جامعہ میں داخلہ انٹر پاس کا درس نظامی میں کیسے ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکور شجرہ نسب اگر درست اور ثابت ہو تو اس کے مطابق آپ کا تعلق اس خاندان سے ہے جس کے لیے زکوٰۃ اور صدقات واجبہ لینا جائز نہیں ۔ ہاشم کی اولاد میں سے حضرت جعفر،حضرت حارث بن عبد المطلب ،حضرت علی ،حضرت عباس ،حضرت عقیل رضی اللہ عنھم کی اولاد کے لیے صدقات وزکوٰۃ لینا جائز نہیں ۔ البتہ سید کا اطلاق ہمارے عرف میں حسنی وحسینی خاندان پر کیا جاتا ہے ، باقی خاندانوں کو علوی ،عباسی و غیرہ کہا جاتا ہے ۔ اعوان خاندان كا شجره نسب محمد بن حنفيہ کے واسطے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے ،چناچہ اعوان خاندان کے لیے اپنے نام کے ساتھ اگرچہ فی نفسہ سید لگانا جائز ہے ،لیکن متا خرین کے عرف میں سید کا لگانا حضرات حسنین رضی اللہ عنھما کی اولاد کے ساتھ خاص ہو گیاہے ،اس لیے ان کو اپنے ساتھ سید نہیں لگانا چاہیے ۔ اوپر ذکر شدہ حضرات کی اولاد کے لیے زکوٰۃ وصدقات لینا جائز نہیں ، اگر لاعلمی میں صدقات واجبہ لیے ہیں تو جن سے لیے ہوں ان کو واپس کردیں یا معلوم نہ ہو تو کسی مستحق کو صدقہ کریں ۔ جو صدقات واجبہ ان کے آباء واجداد نے لیے ہیں وہ ان کا اپنا معاملہ ہے ،اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے۔ ہر ادارہ اپنے نصاب کے مطابق تعلیم دیتا ہے، مدارس کا نصاب اکابر کے منہج پر قائم، مضبوط بنیادوں والا اور جامع استعداد پیدا کرنے والا ہے، البتہ طالبِ علم کو اختیار ہے کہ وہ اپنی سہولت و رغبت کے مطابق جس ادارے میں چاہے تعلیم حاصل کرے۔باقی جامعہ میں داخلہ لینے کے لیے جامعہ کی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کریں ۔https://jtr.edu.pk/admissions / website link:
حوالہ جات
صحيح مسلم (4/ 1873 ت عبد الباقي):
حدثني زهير بن حرب وشجاع بن مخلد........فحث على كتاب الله ورغب فيه. ثم قال "وأهل بيتي. أذكركم الله في أهل بيتي. أذكركم الله في أهل بيتي. أذكركم الله في أهل بيتي". فقال له حصين: ومن أهل بيته؟ يا زيد! أليس نساؤه من أهل بيته؟ قال: نساؤه من أهل بيته. ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده. قال: وهم؟ قال: هم آل علي، وآل عقيل، وآل جعفر، وآل عباس. قال: كل هؤلاء حرم الصدقة؟ قال: نعم.
الحاوي للفتاوي (2/ 39):
إن اسم الشريف كان يطلق في الصدر الأول على كل من كان من أهل البيت سواء كان حسنيا أم حسينيا أم علويا، من ذرية محمد بن الحنفية وغيره من أولاد علي بن أبي طالب، أم جعفريا أم عقيليا أم عباسيا، ولهذا تجد تاريخ الحافظ الذهبي مشحونا في التراجم بذلك يقول: الشريف العباسي، الشريف العقيلي، الشريف الجعفري، الشريف الزينبي، فلما ولي الخلفاء الفاطميون بمصر قصروا اسم الشريف على ذرية الحسن والحسين فقط، فاستمر ذلك بمصر إلى الآن، وقال الحافظ ابن حجر في كتاب الألقاب: الشريف ببغداد لقب لكل عباسي، وبمصر لقب لكل علوي انتهى.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 112):
ولا تدفع إلى بني هاشم " لقوله عليه الصلاة والسلام " يا بني هاشم إن الله تعالى حرم عليكم غسالة الناس وأوساخهم وعوضكم منها بخمس الخمس " بخلاف التطوع لأن المال ههنا كالماء يتدنس بإسقاط الفرض أما التطوع فبمنزلة التبرد بالماء.
قال: " وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب ومواليهم".
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 350):
(قوله: وبني هاشم إلخ) اعلم أن عبد مناف وهو الأب الرابع للنبي صلى الله عليه وسلم أعقب أربعة وهم: هاشم والمطلب ونوفل وعبد شمس، ثم هاشم أعقب أربعة انقطع نسل الكل إلا عبد المطلب فإنه أعقب اثني عشر تصرف الزكاة إلى أولاد كل إذا كانوا مسلمين فقراء إلا أولاد عباس وحارث وأولاد أبي طالب من علي وجعفر وعقيل قهستاني، وبه علم أن إطلاق بني هاشم مما لا ينبغي إذ لا تحرم عليهم كلهم بل على بعضهم ولهذا قال في الحواشي السعدية: إن آل أبي لهب ينسبون أيضا إلى هاشم وتحل لهم الصدقة.
الموسوعة الفقهية الكويتية» (23/ 333):
لا يحل لمن ليس من أهل الزكاة أخذها وهو يعلم أنها زكاة، إجماعا. فإن أخذها فلم تسترد منه فلا تطيب له، بل يردها أو يتصدق بها؛ لأنها عليه حرام.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 275):
(قوله وقال أبو يوسف رحمه الله: عليه الإعادة) ولكن لا يسترد ما أداه، وهل يطيب للقابض إذا ظهر الحال، ولا رواية فيه، واختلف فيه، وعلى القول بأنه لا يطيب يتصدق به.وقيل: يرده على المعطي على وجه التمليك منه ليعيد الأداء.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 353):
في القهستاني عن الزاهدي: ولا يسترد منه لو ظهر أنه عبد أو حربي وفي الهاشمي روايتان ولا يسترد في الولد والغني وهل يطيب له؟ فيه خلاف، وإذا لم يطب قيل يتصدق وقيل يرد على المعطي.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
25/جمادی الثانيہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


