| 89456 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
ایک مستحاضہ کو معمول کے مطابق ہمیشہ تھوڑا سا سبز ڈسچارج آتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے جب ماہواری کا سرخ خون ختم ہونے لگتا ہے تو سبز رنگ دوبارہ ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے، اور اس کویہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ حیض کب ختم ہوا ہے۔ بعض اوقات سفید ڈسچارج بھی آتا ہے، لیکن تیز روشنی میں دیکھنے پر وہ بھی سبز نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے مزید شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ آیا حیض ختم ہوا ہے یا نہیں۔انہی شبہات کی بنا پر میں غسل نہیں کرتی، مگر دس دن گزر جانے کے بعد بھی سبز ڈسچارج جاری رہتا ہے۔ ایسی صورت میں میں کس وقت غسل کروں؟ میری سابقہ عادتِ حیض نو دن کی ہے، تو کیا میں نویں دن غسل کر لوں؟
دوسراسوال اگرڈسچارج مسلسل آتا رہتا ہےاور بعض اوقات یہ دسویں دن کےبعد بھی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ماہواری کے اختتام میں شبہ رہتا ہے کہ عادت بدل گئی ہے یا نہیں۔ کیا مجھے ہر مہینے دسویں دن تک غسل مؤخر کرنا چاہیے یا نویں دن ہی غسل کرو ں؟ نیزاگر نویں دن کو حیض کا اختتام مانا جائے تو کیا مستحاضہ پردسویں دن کی چھوٹی ہوئی نمازیں قضا کرنا لازم ہوں گی؟ کیا ہر مہینے اسی وجہ سے نمازیں قضا کرنی پڑیں گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عادت کے دنوں میں اگر سفیدرطوبت کے علاوہ سیاہ، سرخ، زرد، سبز، گدلا یا مٹیالا کسي بھی رنگ كاخون ظاہر ہو تو وہ حیض شمار ہوگا۔اگرخاتون کویہ مسئلہ مسلسل پیش آتا ہےکہ سفید مادہ روشنی میں سبز دکھائی دے اور سفید کپڑے پر اس کا سبز یا سرخ نشان نظر آئے تو ایسی صورت میں خاتون کو دیکھنے کے وقت جس رنگ کا غالب گمان ہو اسی کا اعتبار کیا جائے گا۔اگر دیکھنے کے وقت اسے صاف طور پر سفید رطوبت نظر آئے تو اس کوطہارت (پاکی) سمجھاجائےگااور اگر دیکھنے کے وقت اسے سبزیا سرخ رنگ نظر آئے، تو وہ بدستور حیض ہی شمار ہوگا ۔
اگر عادت کےنودنوں سے خون بڑھ جائے تو دس دن مکمل ہونے تک انتظار کرنا ضروری ہے تاکہ پتہ چلے کہ عادت بدلی ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں مستحاضہ کو اگرمسلسل خون آرہاہے اور نویں دن اور دسویں دن بھی سبزرنگ کاخون آرہاہے تواسے ہر مہینے دسویں دن تک غسل کو موخرکرناچاہیے۔ پھرجب خون دس دن سے بڑھ جائے توسابقہ عادت یعنی نو دن ہی حیض شمار ہوگی جبکہ دسویں دن کا خون استحاضہ ہوگا،لہذا صرف دسویں دن کی نمازوں کی قضا پڑھے گی ۔ اگر خون ٹھیک دس دن پر رک جائے توعادت نو دنوں سےتبدیل ہو کر دس دن ہو جائے گی ،لہٰذانئے حساب کے مطابق دس دن حیض شمار ہوگاجبکہ دس دن کے بعد کا خون استحاضہ شمار ہوگااور ایسے میں دسویں دن کی نمازوں کی قضا نہیں ہوگی۔ جب تک عادت دوبارہ تبدیل نہ ہوجائے ،اسی عادت پر عمل کیا جائے گا ۔ایک باربھی اگرکسی اورمقدارمیں مثلاً آٹھ دن یا نو دن خون آئےتو عادت کی تبدیلی سمجھی جائےگی۔
حوالہ جات
موطأ مالك - رواية محمد بن الحسن الشيباني (ص53)
عن أمه مولاة عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، أنها قالت: " كان النساء يبعثن إلى عائشة بالدرجة فيها الكرسف، فيه الصفرة من الحيض فتقول: لا تعجلن حتى ترين القصة البيضاء ".
تريد بذلك الطهر من الحيض، قال محمد: وبهذا نأخذ، لا تطهر المرأة ما دامت ترى حمرة، أو صفرة، أو كدرة، حتى ترى البياض خالصا، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.
الهداية في شرح بداية المبتدي:(1/ 32)
وما تراه المرأة من الحمرة والصفرة والكدرة في أيام الحيض حيض حتى ترى البياض خالصا وقال أبو يوسف رحمه الله: لا تكون الكدرة حيضا إلا بعد الدم لأنه لو كان من الرحم لتأخر خروج الكدر عن الصافي ولهما ما روي أن عائشةرضي الله عنه جعلت ما سوى البياض الخالص حيضا وهذا لا يعرف إلا سماعا.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي:(1/ 176)
(قوله ولو زاد الدم على عشرة أيام ولها عادة معروفة دونها ردت إلى أيام عادتها) فيكون الزائد على العادة استحاضة وإن كان داخل العشرة....وإن لم يتجاوز الزائد العشرة فالكل حيض بالاتفاق.
"الفتاوى الهندية" (1/ 39)
انتقال العادة يكون بمرة عند أبي يوسف وعليه الفتوى. هكذا في الكافي.فإن رأت بين طهرين تامين دما لا على عادتها بالزيادة أو النقصان أو بالتقدم والتأخر أو بهما معا انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقيا كان الدم أو حكميا هذا إذا لم يجاوز العشرة فإن جاوزها فمعروفتها حيض وما رأت على غيرها استحاضة فلا تنتقل العادة هكذا في محيط السرخسي.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري: (1/ 202)
وفي التجنيس امرأة رأت بياضا خالصا على الخرقة ما دام رطبا فإذا يبس اصفر فحكمه حكم البياض؛ لأن المعتبر حال الرؤية لا حالة التغير بعد ذلك. اهـ.
وكذا لو رأت حمرة أو صفرة فإذا يبست أبيضت يعتبر حالة الرؤية لا حالة التغير بعد ذلك. اهـ.ومن المشايخ من أنكر الخضرة فقال لعلها أكلت قصيلا استبعادا لها قلنا هي نوع من الكدرة ولعلها أكلت نوعا من البقول وفي الهداية، وأما الخضرة فالصحيح أن المرأة إذا كانت من ذوات الأقراء يكون حيضا ويحمل على فساد الغذاء، وإن كانت آيسة لا ترى غير الخضرة يحمل على فساد المنبت فلا يكون حيضا. اهـ.
وفي البدائع قال بعضهم الكدرة والتربة والصفرة والخضرة إنما تكون حيضا على الإطلاق من غير العجائز، أما في العجائز فينظر إن وجدتها على الكرسف ومدة الوضع قريبة فهي حيض، وإن كانت مدة الوضع طويلة لم تكن حيضا؛ لأن رحم العجوز يكون منتنا فيتغير الماء فيه لطول المكث وما عرفت الجواب في هذه الأبواب من الحيض فهو الجواب فيها في النفاس؛ لأنها أخت الحيض. اهـ.
وفي معراج الدراية معزيا إلى فخر الأئمة لو أفتى مفت بشيء من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلبا للتيسير كان حسنا اهـ.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
28/جمادی الآخرۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


