03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز کے بعد تسبیحات وادعیہ ماثورہ کے بارے میں چند سؤالات کے جوابات
89440نماز کا بیاننماز کی سنتیں،آداب اورپڑھنے کا طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین ان مسائل کے بارے میں  کہ

۱۔ آیا عقد انا مل کا قدیم عرب سے منقول طریقہ شمار ہی سنت ہے ؟ اگر یہی سنت ہے تو اس کی سنیت کی دلیل کیا ہے ؟ زید کہتا ہے کہ عقدا نامل  کےلفظ کے اطلاق   میں انگلیوں کے ذریعہ ذکر کرنے کی جملہ صورتیں داخل ہیں اور کسی خاص صورت(عقدا نامل  کی معروف  صورت ) کو على التعیین سنت قرار دینا اور دوسری طرق کی سنیت کی نفی کرنا درست نہیں - کیا زید کی مذکورہ رائے صحیح ہے ؟

۲۔نیز تسبیحات فاطمی میں مسنو ن طریقہ کیا ہے ؟ آیا تینوں کلمات تسبیح، تحمید و تکبیر کو الگ الگ پڑھنا یا کہ تینوں کلمات کو ایک سا تھ ملا کر،مثلا سبحان اللہ والحمدللہ  واللہ اکبر پڑھنا مسنون ہے ؟

۳۔ ان کلمات کے شمارکے بارے میں صحیح اور مسنون عدد کیا ہے ؟

۴۔تسبیحات کی گنتی میں بائیں ہا تھ سے مددلینا یا صرف بائیں ہاتھ پر اکتفا کر شرعاً کیسا ہے ؟

۵۔ان تسبیحات کو فرض کے بعد متصلاً پڑھنا مسنون ہے یا کہ سنن و نوافل کے بعد پڑھنا؟

۶۔ ان تسبیحات کی ماثور تعداد میں کمی بیشی کا کیا حکم ہے ؟

۷۔ تسبیحات کے اختتام پر بطور تکملہ کونسا کلمہ پڑھنا مسنون ہے تہلیل یعنی لا الہ الا اللہ یا کہ حو قلہ  یعنی  لا حول ولا قوة الا بالله العلى العظیم؟

۸۔انگلیوں کے بجائے تسبیح  کے دانوں  یا کسی دیگر آلہ  کے ذریعہ شمار کرنا کیا ہے ؟

۹۔تسبیح کے دانے اندرکی جانب شمار کرنا چاہیے یاکہ باہرکی جانب ؟

۱۰۔نمازکے بعد تسبیحات کتنے وقفہ   کے  بعد تک پڑھنے سے سنت ادا ہو گی ؟

۱۱۔تسبیحات  کے کلمات   وادعیہ  ماثورہ  کے درمیان تقدیم و تاخیر کے اعتبا ر سے ترتیب مسنون کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔زید کی بات درست ہے، اس لئے کہ احادیث میں اس بار ے میں صرف مختلف صیغوں  سے عقد کا مادہ استعمال ہوا ہے،

باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم سےاس بارے میں کوئی خاص طریقہ عقد منقول نہیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف عقد انامل کے بعض اعداد کے بعض اشارے چندا حادیث میں مختلف مواقع پر منقول ہیں، جن سے بعض اہل علم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ چونکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں  انگلیوں سے شمار کرنے کا یہ طریقہ معروف تھا لہذا عقد انامل میں بھی اسی طریقے پر ذکر کرنا مسنون ہوگا، لیکن  خاص اس طریقہ سے ذکر کرنے کی چونکہ صراحت منقول نہیں ، اس لیے اس طریقہ سے عقد انامل کے مخصوص طریقے کو من جملہ دیگر طرق کے ایک طریقہ ہی سمجھا جائے گا اور خاص اس طریقہ  کومسنون طریقہ  کہنا درست نہیں،یہی وجہ ہے کہ شیخ القراء حضرت مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی رحمہ اللہ تعالی نے ناظمۃالزھر للشاطبی رحمہ اللہ تعالی کی شرح کا شف العسر" میں لفظ عقد کے اطلاق کے تحت داخل تمام طرق کو عقد انامل کا  مصداق  اور مسنون طریقہ قرار دیا ہے۔البتہ عقد انامل کے معروف طریقہ کی اصل فی الجملہ احادیث سے ثابت ہونے کی بناء پر     اورمشایخ وصلحاء میں  معمول ہونے کی بناء پر  اس پر عمل مستحسن اور افضل ہے۔

چنانچہ شیخ القراء حضرت مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی رحمہ اللہ تعالی  کا شف العسر شرح ناظمۃالزھر للشاطبی رحمہ اللہ تعالی کے" ص۳۴   پرفرماتے ہیں کہ:

 لغت کی رو سے عقد انامل عام ہے ، اور ذیل کی چار صورتوں کو شامل ہے :

(۱)شمار کیلئے بند انگلیوں کو کھولتا چلا جائے ۔ (۲) اس( پہلے طریقے) کا الٹ یعنی کھلی اُنگلیوں کو بند کرتا چلا جائے۔(۳) انگلیوں کو نمبر وار دباتا چلا جائے ۔ (۴) انگوٹھا اُنگلیوں کے سروں پر رکھتا چلا جائے۔

پس جس شکل سے بھی شمار کرے ان میں سے ہر ایک کو عقد انا مل کہتے ہیں اور ہر صورت میں سنت پر عمل نصیب ہو جاتا ہے۔ کسی خاص صورت کا مقرر کرنا ضروری نہیں، شیوخ سے جو صورت بھی پہنچی ہو، اس پر عمل کرے اور مقصود یہ ہے کہ غفلت کو دور کرے۔ چنانچہ عقد انا مل کی حدیث کے اخیر میں کلام کے خلاصہ کے طور پر ارشاد ہوا ہے کہ غافل نہ بنو ورنہ رحمت سے دور کر دیئے جاؤ گے۔ لیکن جو احادیث او پر (یعنی  شرح کاشف العسرمیں)نمبر 3 اور نمبر4 میں گذریں اُن سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عقد انا مل کی کیفیت ضرور معتین تھی،پس اس خاص طریقہ سے شمار کرنے میں فضیلت زیادہ ہے اور وہ طریقہ اکثر صالحین میں مشہور (بھی )ہے اور بعض دہائیوں میں تھوڑا اختلاف بھی ہے۔ لیکن ان میں جس پر بھی عمل کرلیں ہر ایک سے سنت ادا ہو جاتی ہے اور اس بارہ میں سب یکساں ہیں۔ (کاشف العسر کی عبارت مکمل ہوئی ۔)

۲۔ دونوں طریقے روایات  میں منقول ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ ان کلمات کو الگ الگ پڑھا جائے ۔

شرح صحيح مسلم للنووي (16/ 136):

قوله في كيفية عدد التسبيحات والتحميدات والتكبيرات (ان أبا صالح رحمه الله تعالى قال يقول الله أكبر وسبحان الله والحمد لله ثلاثا وثلاثين مرة) وذكر بعد هذه الأحاديث من طرق غير طريق أبي صالح وظاهرها أنه يسبح ثلاثا وثلاثين مستقلة، ويكبر ثلاثا وثلاثين مستقلة، ويحمد كذلك، وهذا ظاهر الأحاديث. قال القاضي عياض: وهو أولى من تأويل ابي صالح. وأما قول سهيل إحدى عشرة إحدى عشرة فلا ينافي رواية الأكثرين ثالثا وثلاثين بل معهم زيادة يجب قبولها. وفي رواية تمام المائة لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير. وفي رواية أن التكبيرات أربع وثلاثون، وكلها زيادات من الثقات يجب قبولها، فينبغي أن يحتاط الإنسان فيأتي بثلاث وثلاثين تسبيحة ومثلها تحميدات، وأربعة وثلاثين تكبيرة ويقول معها: لا إله إلا الله وحده لا شريك له إلى آخرها ليجمع بين الروايات.

۳۔ اس بارے میں بھی  احادیث   مبارکہ  میں مختلف اعداد  منقول ہیں:

۱۔۳۳، ۳۳ مرتبہ تینوں کلمات کو پڑھنا ۔

۲۔تسبیح ، تحمید کو ۳۳، ۳۳ بار جبکہ تکبیر کو ۳۴ بار پڑھنا۔

۳۔تسبیح ، تحمید و تکبیر کے ساتھ تہلیل کا اضافہ کر کے ہر ایک کو ۲۵ ،۲۵ مرتبہ پڑھنا ۔

۴۔گیاره ،گیاره مرتبہ تینوں کلمات کو پڑھنا۔

۵۔دس ،دس مرتبہ تینوں کلمات کو پڑھنا۔

 واضح رہے کہ  اصولی طور پر عدد اقل چونکہ عدد اکثر کی نفی نہیں کرتا ، اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ دوسرے قول پر عمل کیا جائے ، البتہ دیگر اقوال پر عمل کرنا بھی درست ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 54):

 قال ابن حجر واعلم أن في كل من تلك الكلمات الثلاث روايات مختلفة ذكر بعضها ونذكر باقيها فنقول ورد التسبيح ثلاثا وثلاثين وخمسا وعشرين وإحدى عشرة وعشرة وثلاثا ومرة واحدة وسبعين ومائة ورد التحميد ثلاثا وثلاثين وخمسا وعشرين وإحدى عشرة وعشرة ومائة وورد التهليل عشرة وخمسا وعشرين ومائة قال الحافظ الزين العراقي وكل ذلك حسن وما زاد فهو أحب إلى الله تعالى وجمع البغوي بأنه يحتمل صدور ذلك في أوقات متعددة وأن يكون على سبيل التخيير أو يفترق بافتراق الأحوال اه وصح أنه عليه السلام كان يعقد التسبيح بيمينه وورد أنه قال واعقدوه بالأنامل فإنهن مسؤلات مستنطقات

۴۔اس بارے میں ایک حدیث مروی ہے کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے فرماتے ہیں کہ فر ماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے تسبیحات  شمارکرتے ہوئے دیکھا،نیزایک عام ضا بطہ شرعی بھی ہے کہ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم ہر اچھے کام کو دائیں ہاتھ اور دائیں طرف سے شروع فرمانے کو پسند فرماتے تھے۔لہذا صرف دائیں ہاتھ سے تسبیح   شمار کرنامسنون  ہے،جبکہ دونوں ہاتھوں سے  فقط جائزہے اور بلاوجہ اور بلاعذر صرف بائیں  ہاتھ سے تسبیح  شمار کرنا خلاف  سنت ہے۔

السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي (2/ 187):

حدثنا أبو الحسن : على بن عبد الله الخسروجردى أخبرنا أبو بكر : أحمد بن إبراهيم الإسماعيلى حدثنا أبو حفص : عمر بن الحسن الحلبى حدثنا محمد بن قدامة بن أعين حدثنا عثام عن الأعمش عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو قال : رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يعقد التسبيح بيمينه.

الأذكار النووية للإمام النووي (1/ 30):

 وروينا فيهما (صحيحي البخاري ومسلم،)وفي سنن النسائي، بإسناد حسن، عن عبد اللّه بن عمرو رضي اللّه عنهما قال :رأيتُ رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم يعقد التسبيح . وفي رواية " بيمينه

سنن أبي داود للسجستاني (1/ 556)

1503 - حدثنا مسدد حدثنا عبد الله بن داود عن هانئ بن عثمان عن حميضة بنت ياسر عن يسيرة أخبرتها أن النبى -صلى الله عليه وسلم- أمرهن أن يراعين بالتكبير والتقديس والتهليل وأن يعقدن بالأنامل فإنهن مسئولات مستنطقات.

۵۔اس بارے میں علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی نے قول راجح اسی کو قرار دیا ہے کہ جن فرائض کے بعد سنن ہیں، ان کے بعد مختصر ادعیہ  ماثورہ سے فراغت کے بعد سنن پڑھکر تسبیحات وغیرہ وطویل اذکار وادعیہ کا اہتمام کیا جائے۔

لیکن بعض دیگر محققین مثل شاه  ولی  الله رحمہ اللہ تعالى اور امام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ  تعالی  اور علامہ  شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی رائے اور میلان یہ ہے کہ انہیں فرائض کے متصل  بعدادا کرنا ہی اصل سنت ہے،اس لیےکہ  دبر الصلوات وغیرہ الفاظ کا حقیقی اور متبادر الى الفہم مفہوم  یہی ہے۔ لہذا اس رائے پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔

۶۔بھول سے ایسا ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن جان بوجھ کر ماثور تعداد میں کمی بیشی خلاف سنت ہونے کی وجہ سے درست نہیں ۔ (شامیہ:ج۱،ص۵۳۱ ، سعایہ :ج۲،ص)

رد المحتار (4/ 147):

 [ تنبيه ] لو زاد على العدد ، قيل يكره لأنه سوء أدب ، وأيد بأنه كدواء زيد على قانونه أو مفتاح زيد على أسنانه ، وقيل لا بل يحصل له الثواب المخصوص مع الزيادة ، بل قيل لا يحل اعتقاد الكراهة ، لقوله تعالى - { من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها } - والأوجه إن زاد لنحو شك عذر أو لتعبد فلا لاستدراكه على الشارع وهو ممنوع .ا هـ .ملخصا من تحفة ابن حجر

 وفی السعایۃ: (ج۲،ص۲۵۹):

ومن الفوائد التي نص عليه العلماء ان مراعاة العدد المخصوص في الأذكا معتبرة لان الاعداد المخصوصة اذا رتب عليها ثواب من صاحب الشرع اذا زيد عليها لا يحصل له ذلك الثواب لاحتمال ان تكون لتلك الاعداد خصوصية لا نعلمها وقد بالغ الغزالى فى القواعد وقال من البدع المكروهة الزيادة في المندوبات المندوبة شرعا انتھی و تعقبه الحافظ العراقي في شرح جامع الترمذى بأنه اذا زاد فقد اتى بالمقدار الذي رتب الثواب عليہ فحصل له الثواب المذكورمع زيادة والحق ان الحال يتبين في صورة الزيادة بالنية فان نوى عند الانتهاء الى العدد المخصوص امتثال الأمربہ ثم الزيادة عليه فالامر كماقال العراقی والافالامر كما قال غيرہ كذا في فتح البارى

۷۔ ۳۳ ،۳۳مرتبه کلمات تسبیح پڑھنے کی  روایات کے مطابق آخر میں ایک بار کلمہ توحید پر مشتمل پر مشتمل یہ دعا . لا إله الا الله

وحدہ ه لاشريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شى قدير پڑھنا بھی ثابت ہے ۔( کمافی مختصر الترغیب و الترہیب:ص۱۹۸ ومجموعۃ فتاوی لابن تیمیۃ :ج۲،ص۳۹۲)واضح رہے کہ  نماز کے بعد کی تسبیحات میں بطور اختتامیہ  کےحوقلہ پڑھنے کی روایت منقول نہیں ۔

 البتہ بعد از نماز کے علاوہ عام دیگر اوقات میں پڑھی جانے والی تسبیحات میں دیگر اعداد و زیادات بھی مختلف روایات سے ثابت ہیں ۔( کما  مر عن المرقاۃ نقلا عن الفتح)

۸۔ فی الجملہ  روایات سے انگلیوں ، کھجور کی گھٹلیوں اور کنکریوں پر تسبیحات شمار کرنے کا ثبوت ملتا ہےوقدجمعها العلامۃ اللكھنوی رحمہ الله تعالى في رسالته المسماة بنزھۃ الفكر في سبحۃ الذکر

باقی رہا یہ مسئلہ کہ  انگلیوں اور تسبیح و غیره آلات عددو شمار کے ذریعہ ذکر کرنے میں سے افضل اور بہتر کیا ہے ؟ تو اس بارے میں قول مختار یہ ہے کہ عام اوراصل حکم تو یہ ہے کہ انگلیوں کے ذریعہ ذکر کرنا اصل سنت ہے،جیساکہ احادیث عقد انامل واصابع سے یہی ثابت ہوتا ہے، البتہ جو شخص  غلطی کرنے کا عادۃشکار ہوتا ہو تو اس کیلئے اس عارض کی وجہ سے کسی آلہ کا استعمال بہتر ہے۔( کذا فی المرقاۃ:ج۳،ص۴۹، نزھۃ الفکر:۳۷)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 54):

وصح أنه عليه السلام كان يعقد التسبيح بيمينه وورد أنه قال واعقدوه بالأنامل فإنهن مسؤلات مستنطقات وجاء بسند ضعيف عن علي رضي الله عنه مرفوعا نعم المذكر المسبحة وعن أبي هريرة أنه كان له خيط فيه ألف عقدة فلا ينام حتى يسبح به وفي رواية كان يسبح بالنوى قال ابن حجر والروايات في التسبيح بالنوى والحصى كثيرة عن الصحابة وبعض أمهات المؤمنين بل رآها عليه السلام وأقر عليها قيل وعقد التسبيح بالأنامل أفضل من المسبحة وقيل إن أمن الغلط فهو أولى وإلا فهي أولى

۹۔اس بارے میں کوئی خاص طریقہ منقول و ماثور نہیں، لہذا دونوں طریقے درست ہیں کسی خاص طریقہ کا التزام مناسب نہیں جیسے سہولت ہو ذکر کرنا چاہیے ۔

۱۰ - جب تک فرض یا سنتوں سے فارغ ہو کر کسی منافی نمازکام میں مشغول نہ ہو جائے ان کلمات تسبیح کو پڑھنے سے سنت اداء ہو جائے گی، اس لئے کہ ان تسبیحات کیلئے  عقب ودبر الصلوات وغیرہ کے الفاظ احادیث میں وارد ہوئے ہیں، جن کا آخری اور ادنی درجہ یہ ہے کہ فرض اور سنتوں کے بعد جب تک کوئی غیر متعلقہ عمل نہ کیا جائے ،اس وقت تک کو یہ الفاظ شامل ہیں۔ لہذا اس وقت کے بعد تسبیحات پڑھنے سے نفس تسبیحات پڑھنے کا ثواب تو ملے گا ،لیکن سنت کی ادائیگی نہ ہوگی، البتہ اگر اتفاقا یا کسی عذر سے ایسا ہو جائے تو ناغہ کے بجائے تسبیحات پڑھ لینی چاہیے شاید کہ اللہ تعالی کی رحمت اس پر بھی وہ درجات عطا فرما دے ۔وما ذلك على الله بعزيز۔

۱۱- نماز سے فراغت کے بعد تین مرتبہ استغفر الله اور پھر اللھم انت السلام ومنك السلام تباركت یا ذا الجلا ل والاکرام ،پڑھے، البتہ اس دعاء میں عوام میں معروف زیادتی ثابت نہیں۔( کذا في المرقاة لملا علی القاری:ج۳،ص۴۰)

پھر یہ دعائیں بھی پڑھی جائیں: لاالہ الا الله وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد وهو على كل شئ قدير، اللھم  لا مانع  لما  اعطیت ولا معطى لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد نیز اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہے: لاالہ الا الله وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد وهو على كل شئ قدير، لاحول ولا قوة الا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا اياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن، لا الہ الا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ ا لکافرون

اور فجر کے بعد اللھم انی اسألک علما نافعا ورزقاً طيباً و عملاً متقبلا( ابن ماجہ ومسند احمد) اور فجر اور مغرب کے بعد سات سات مرتبہ اللهم اجرنی من النار پڑھنا(سنن ابوداوود)بھی ثابت ہے۔ اس کے بعد مسنون تسبیحات پڑھی جائیں اور اس کے بعد دیگر ادعیه ماثوره وغیره مانگی جائیں۔

واضح رہے کہ ادعیہ واذکار  کی اس مذکورہ ترتیب میں  اذکار مسنونہ کے بارے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی جمہور کے ساتھ ہیں کہ انہیں فرائض کے بعد ہی پڑھنا مسنون ہے،البتہ علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ تعالی نے فتاوی  کبری میں اور ان کے شاگر علامہ ابن قیم  رحمہ اللہ تعالی نےاپنے شیخ کی پیروی میں   کتاب   زاد المعاد میں ان ادعیہ سے متعلق احادیث میں لفظ  دبر الصلوۃ  کو قبل ازسلام  پرحمل   فرمایا ہے، جبکہ جمہور علماء امت نے ان کونماز سے فراغت کے بعد پر حمل فرمایا ہے جیساکہ یہی بات ظاہر اور راجح بھی ہے۔چنانچہ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے فتح الباری میں  بعض الحنابلہ کے نام سے علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن  قیم رحمہ اللہ کی  اس بات کی تردید فرمائی ہے اور اس کو خلاف ظاہر تاویل قرار دیا ہے ،اسی طرح معارف السنن میں بھی علامہ بنوری رحمہ اللہ تعالی نے   علامہ شاہ  انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالی کے حوالے سے بھی اس کی تردید نقل فرمائی ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الكبرى لابن تيمية (2/ 205):

مسألة : في حديث عقبة بن عامر قال : [ أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أقرأ بالمعوذات دبر كل صلاة ] وعن أبي أمامة قال : [ قيل : يا رسول الله ! أي الدعاء أسمع ؟ قال : جوف الليل الأخير ودبر الصلوات المكتوبة ] وعن معاذ بن جبل [ أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ بيده فقال : يا معاذ ! والله إني لأحبك فلا تدعن في دبر كل صلاة أن تقول : اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك ] فهل هذه الأحاديث تدل على أن الدعاء بعد الخروج من الصلاة سنة أفتونا وابسطوا القول في ذلك مأجورين ؟

 الجواب : الحمد لله رب العالمين الأحاديث المعروفة في الصحاح والسنن والمساند تدل على أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يدعو في دبر صلاته قبل الخروج منها وكان يأمر أصحابه بذلك ويعلمهم ذلك ولم ينقل أحد أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا صلى بالناس يدعو   بعد الخروج من الصلاة هو والمأمومون جميعا لا في الفجر ولا في العصر ولا في غيرهما من الصلوات بل قد ثبت عنه أنه كان يستقبل أصحابه ويذكر الله ويعلمهم ذكر الله عقيب الخروج من الصلاة  ففي الصحيح : [ أنه كان قبل أن ينصرف يستغفر ثلاثا ويقول : اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت ياذا الجلال والإكرام ] وفي الصحيحين من حديث المغيرة بن شعبة أنه كان يقول : [ لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهوعلى كل شئ قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد ] وفي الصحيح من حديث ابن الزبير [ أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يهلل بهؤلاء الكلمات : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون ] وفي الصحيح عن ابن عباس : [ إن رفع الناس أصواتهم بالذكر كان على عهد النبي صلى الله عليه و سلم ] وفي لفظ كنا نعرف انقضاء صلاته بالتكبير

 والأذكار التي كان النبي صلى الله عليه و سلم يعلمها المسلمين عقيب الصلاة أنواع :

 أحدها : [ إنه يسبح ثلاثا وثلاثين ويحمد ثلاثا وثلاثين ويكبر ثلاثا وثلاثين فتلك تسع وتسعون ويقول تمام المائة : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ] رواه مسلم في صحيحه

 والثاني : يقولها خمسا وعشرين ويضم إليها لا إله إلا الله وقد رواه مسلم

 والثالث : يقول : الثلاثة ثلاثا وثلاثين وهذا على وجهين :

 أحدهما : أن يقول كل واحدة ثلاثا وثلاثين

 والثاني : أن يقول كل واحدة إحدى عشرة مرة والثلاث والثلاثون في الحديث المتفق عليه في الصحيحين

 والخامس : يكبر أربعا وثلاثين ليتم مائة

 والسادس : يقول : الثلاثة عشرا عشرا فهذا هو الذي مضت به سنة رسول الله صلى الله عليه و سلم وذلك مناسب لأن المصلي يناجي ربه فدعاؤه له ومسألته إياه وهو يناجيه أولى به من مسألته ودعائه بعد انصرافه عنه

 وأما الذكر بعد الانصراف فكما قالت عائشة - رضي الله عنها - هو مثل مسح المرآة بعد صقالها فإن الصلاة نور فهي تصقل القلب كما تصقل المرآة ثم الذكر بعد ذلك بمنزلة مسح المرآة وقد قال الله تعالى : { فإذا فرغت فانصب * وإلى ربك فارغب } قيل : إذا فرغت من أشغال الدنيا فانصب في العبادة وإلى ربك فارغب وهذا أشهر القولين وخرج شريح القاضي على قوم من الحاكة يوم عيد وهم يلعبون فقال : مالكم تلعبون ؟ قالوا : إنا تفرغنا قال : أوبهذا أمر الفارغ ؟ وتلا قوله تعالى : { فإذا فرغت فانصب * وإلى ربك فارغب }

 ويناسب هذا قوله تعالى : { يا أيها المزمل * قم الليل إلا قليلا } إلى قوله : { إن ناشئة الليل هي أشد وطئا وأقوم قيلا * إن لك في النهار سبحا طويلا } أي ذهابا ومجيئا وبالليل تكون فارغا وناشئة الليل في أصح القولين إنما تكون بعد النوم يقال نشأ إذا قام بعد النوم فإذا قام بعد النوم كانت مواطأة قلبه للسانه أشد لعدم ما يشغل القلب وزوال أثر حركة النهار بالنوم وكان قوله ( أقوم )

 وقد قيل : ( إذا فرغت ) من الصلاة ( فانصب ) في الدعاء ( وإلى ربك فارغب ) وهذا القول سواء كان صحيحا أو لم يكن فإنه يمنع الدعاء في آخر الصلاة لا سيما والنبي صلى الله عليه و سلم هو المأمور بهذا فلا بد أن يمتثل ما أمره الله به

 ودعاؤه في الصلاة المنقول عنه في الصحاح وغيرها إنما كان قبل الخروج من الصلاة وقد قال لأصحابه في الحديث الصحيح [ إذا تشهد أحدكم فليستعذ بالله من أربع يقول : اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال ]

 وفي حديث ابن مسعود الصحيح لما ذكر التشهد قال : [ ثم ليتخير من الدعاء أعجبه إليه ] وقد روت عائشة وغيرها دعاءه في صلاته بالليل وأنه كان قبل الخروج من الصلاة

 فقول من قال : إذا فرغت من الصلاة فانصب في الدعاء يشبه قول من قال في حديث ابن مسعود لما ذكر التشهد فإذا فعلت ذلك فقد قضيت صلاتك فإن شئت أن تقوم فقم وإن شئت أن تقعد فاقعد وهذه الزيادة سواء كانت من كلام النبي صلى الله عليه و سلم

 أو من كلام من أدرجها في حديث ابن مسعود كما يقول ذلك من ذكره من أئمة الحديث ففيها أن قائل ذلك جعل ذلك قضاء للصلاة فهكذا جعله هذا المفسر فراغا من الصلاة مع أن تفسير قوله : { فإذا فرغت فانصب } أي فرغت من الصلاة قول ضعيف فإن قوله : إذا فرغت مطلق ولأن الفارغ أن أريد به الفارغ من العبادة فالدعاء أيضا عبادة وإن أريد به الفراغ من أشغال الدنيا بالصلاة فليس كذلك

 يوضح ذلك أنه لا نزاع بين المسلمين أن الصلاة يدعى فيها كما كان النبي صلى الله عليه و سلم يدعو فيها فقد ثبت عنه في الصحيح أنه كان يقول في دعاء الإستفتاح : [ اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كما

 ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد ] وأنه كان يقول : [ اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق فإنه لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها فإنه لا يصرف عني سيئها إلا أنت ]

 وثبت عنه في الصحيح أنه كان يدعو إذا رفع رأسه من الركوع وثبت عنه الدعاء في الركوع والسجود سواء كان في النفل أو في الفرض وتواتر عنه الدعاء آخر الصلاة وفي الصحيحين [ أن أبا بكر الصديق - رضي الله عنه - قال : يا رسول الله ! علمني دعاء أدعو به في صلاتي فقال : قل : اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الدنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم ] فإذا كان الدعاء مشروعا في الصلاة لا سيما في آخرها فكيف يقول : إذا فرغت من الصلاة فانصب في الدعاء والذي فرغ منه هو نظير الذي أمر به فهو في الصلاة كان ناصبا في الدعاء لا فارغا ثم انه لم يقل مسلم إن الدعاء بعد الخروج من الصلاة يكون أوكد وأقوى منه في الصلاة ثم لو كان قوله : ( فانصب ) في الدعاء لم يحتج إلى قوله : ( وإلى ربك فارغب ) فإنه قد علم أن الدعاء إنما يكون لله

 فعلم أنه أمره بشيئين : أن يجتهد في العبادة عند فراغه من أشغاله وأن تكون رغبته إلى ربه لا إلى غيره كما في قوله : { إياك نعبد وإياك نستعين } فقوله : إياك نعبد موافق لقوله فانصب وقوله : وإياك نستعين موافق لقوله : وإلى ربك فارغب

 ومثله قوله : { فاعبده وتوكل عليه } وقوله : { هو ربي لا إله إلا هو عليه توكلت وإليه متاب } وقول شعيب عليه السلام : {عليه وكلت وإليه أنيب } ومنه الذي يروى عند دخول المسجد : اللهم اجعلني من أوجه من توجه إليك وأقرب من تقرب إليك وأفضل من سألك ورغب إليك والأثر الآخر وإليك الرغباء والعمل وذلك أن دعاء الله المذكور في القرآن نوعان : دعاء عبادة ودعاء مسألة ورغبة فقوله : { فانصب * وإلى ربك فارغب } يجمع نوعي دعاء الله قال تعالى : { وأنه لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا } وقال تعالى : { ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به فإنما حسابه عند ربه } الآية ونظائره كثيرة

 وأما لفظ دبر الصلاة فقد يراد به آخر جزء منه وقد يراد به ما يلي آخر جزء منه كما في دبر الإنسان فإنه آخر جزء منه ومثله لفظ العقب قد يراد به الجزء المؤخر من الشيء كعقب الإنسان وقد يراد به ما يلي ذلك فالدعاء المذكور في دبر الصلاة إما أن يراد به آخر جزء منها ليوافق بقية الأحاديث أو يراد به ما يلي آخرها ويكون ذلك ما بعد التشهد كما سمي ذلك قضاء للصلاة وفراغا منها حيث لم يبق إلا السلام المنافي للصلاة بحيث لو فعله عمدا في الصلاة بطلت صلاته ولا تبطل سائر الأذكار المشروعة في الصلاة أو يكون مطلقا أو مجملا وبكل حال فلا يجوز أن يخص به ما بعد السلام لأن عامة الأدعية المأثورة كانت قبل ذلك ولا يجوز أن يشرع سنة بلفظ مجمل يخالف السنة المتواترة بالألفاظ الصريحة

 والناس لهم في هذه فيما بعد السلام ثلاثة أحوال :

 منهم من لا يرى قعود الإمام مستقبل المأموم لا بذكر ولا دعاء ولا غير ذلك وحجتهم ما يروى عن السلف أنهم كانوا يكرهون للإمام أن يستديم استقبال القبلة بعد السلام فظنوا أن ذلك يوجب قيامه من مكانه ولم يعلموا أن انصرافه مستقبل المأمومين بوجهه كما كان النبي صلى الله عليه و سلم يفعل يحصل هذا المقصود وهذا يفعله من يفعله من أصحاب مالك

 ومنهم من يرى دعاء الإمام والمأموم بعد السلام ثم منهم من يرى ذلك في الصلوات الخمس ومنهم من يراه في صلاة الفجر والعصر كما ذكر ذلك من ذكره من أصحاب الشافعي وأحمد وغيرهم وليس مع هؤلاء بذلك سنة وإنما غايتهم التمسك بلفظ مجمل أو بقياس كقول بعضهم ما بعد الفجر والعصر ليس بوقت صلاة فيستحب فيه الدعاء ومن المعلوم أن ما تقدمت به سنة رسول الله صلى الله عليه و سلم الثابتة الصحيحة بل المتواترة لا يحتاج فيه إلى مجمل ولا إلى قياس

 وأما قول عقبة بن عامر : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أقرأ بالمعوذات دبر كل صلاة فهذا بعد الخروج منها

 وأما حديث أبي أمامة [ قيل : يا رسول الله أي الدعاء أسمع ؟ قال : جوف الليل الأخير ودبر الصلوات المكتوبة ] فهذا يجب أن لا يخص ما بعد السلام بل لا بد أن يتناول ما قبل السلام وإن قيل : إنه يعم ما قبل السلام وما بعده لكن ذلك لا يستلزم أن يكون دعاء الإمام والمأموم جميعا بعد السلام سنة كما لا يلزم مثل ذلك قبل السلام بل إذا دعا كل واحد وحده بعد السلام فهذا لا يخالف السنة وكذلك قوله صلى الله عليه و سلم لمعاذ بن جبل : [ لا تدعن في دبر كل صلاة أن تقول : اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك ] يتناون ما قبل السلام : ويتناول ما بعده أيضا كما تقدم فإن معاذا كان يصلي إماما بقومه كما كان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي إماما وقد بعثه إلى اليمن معلما لهم فلو كان هذا مشروعا للإمام والمأموم مجتمعين على ذلك كدعاء القنوت لكان يقول : اللهم أعنا على ذكرك وشكرك فلما ذكره بصيغة الإفراد علم أنه لا يشرع للإمام والمأموم ذلك بصيغة الجمع

 ومما يوضح ذلك ما في الصحيح عن البراء بن عازب قال : [ كنا إذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم أحببنا أن نكون عن يمينه يقبل علينا بوجهه قال : فسمعته يقول : رب قني عذابك يوم تبعث عبادك أو يوم تجمع عبادك ] فهذا فيه دعاؤه صلى الله عليه و سلم بصيغة الإفراد كما في حديث معاذ وكلاهما إمام

 وفيه أنه كان يستقبل المأمومين وأنه لا يدعو بصيغة الجمع وقد ذكر حديث معاذ بعض من صنف في الأحكام : في الأدعية في الصلاة قبل السلام موافقة لسائر الأحاديث كما في مسلم والسنن الثلاثة عن أبي هريرة أن النبي قال : [ إذا فرغ أحدكم من التشهد الأخير فليتعوذ بالله من أربع : من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال ] في مسلم وغيره عن ابن عباس [ أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يعلمهم هذا الدعاء كما يعلمهم السورة من القرآن يقول : اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال ]

 وفي السنن [ أنه قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لرجل : ما تقول في الصلاة ؟ قال : أتشهد ثم أقول : اللهم إني أسألك الجنة وأعوذ بك من النار أما والله ما أحسن دندنتك ولا دندنة معاذ فقال صلى الله عليه و سلم حولهما ندندن ] رواه أبو داود وأبو حاتم في صحيحه وظاهر هذا أن دندنتهما أيضا بعد التشهد في الصلاة ليكون نظير ما قاله وعن شداد ابن أوس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول في صلاته : [ اللهم إني أسألك الثبات في الأمر والعزيمة على الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألك من خير ما تعلم وأعوذ بك من شر ما تعلم وأستغفرك لما تعلم ] رواه النسائي

 وفي الصحيحين عن عائشة رضي الله عنها [ أن النبي صلى الله عليه و سلم يدعو في الصلاة : اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللهم إني أعوذ بك من المغرم والمأتم فقال له قائل : ما أكثر ما تستعيذ يا رسول الله من المغرم قال : إن الرجل إذا غرم حدث فكذب ووعد فأخلف ]

 قال المصنف في الأحكام : والظاهر أن هذا يدل على أنه كان بعد التشهد يدل عليه حديث ابن عباس [ أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقول بعد التشهد : اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال ] وقد تقدج حديث ابن عباس الذي في الصحيحين أنه كان يعلمهم هذا الدعاء كما يعلمهم السورة من القرآن وحديث أبي هريرة وأنه يقال بعد التشهد : وقد روي في لفظ الدبر ما رواه البخاري وغيره عن سعد بن أبي وقاص أنه كان يعلم بنيه هؤلاء الكلمات كما يعلم المعلم الغلمان الكتابة ويقول : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يتعوذ بهن دبر الصلاة : [ اللهم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وأعوذ بك من عذاب القبر ]

 وفي النسائي عن أبي بكرة [ أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقول في دبر الصلاة : اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر ] وفي النسائي أيضا [ عن عائشة رضي الله عنها قالت : دخلت علي امرأة من اليهود فقالت : إن عذاب القبر من البول فقلت : كذبت فقالت : بلى إنا لنقرض منه الجلود والثوب فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الصلاة وقد ارتفعت أصواتنا فقال : ما هذا فأخبرته بما قالت قال : صدقت فما صلى بعد يومئذ إلا قال في دبر الصلاة : اللهم رب جبرائيل وميكائيل وإسرافيل أجرني من حر النار وعذاب القبر ]

 قال المصنف في الأحكام : والظاهر أن المراد بدبر الصلاة في الأحاديث الثلاثة قبل السلام توفيقا بينه وبين ما تقدم من حديث ابن عباس وأبي هريرة قلت : وهذا الذي قاله صحيح فإن هذا الحديث في الصحيح من حديث عائشة - رضي الله عنها - أن يهودية دخلت عليها فذكرت عذاب القبر فقالت لها : أعاذك الله من عذاب القبر فسألت عائشة - رضي الله عنها - رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عذاب القبر فقال : نعم عذاب القبر حق قالت عائشة : فما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد صلى صلاة إلا تعوذ من عذاب القبر والأحاديث في هذا الباب يوافق بعضها بعضا وتبين ما تقدم والله أعلم۔

الفتاوى الكبرى (4/ 318):

المسألة الثامنة والعشرون: في الدعاء عقيب الصلاة هل هو سنة أم لا ومن أنكر على إمام لم يدعُ عقيب صلاة العصر هل هو مصيب أم مخطئ؟ وسئل عن الصلاة على الميت الذي كان لا يصلي هل لأحد فيها أجر أم لا؟ وهل عليه أثم إذا تركها مع علمه أنه كان لا يصلي؟ وكذلك الذي يشرب الخمر وما كان يصلي هل يجوز لمن كان يعلم حاله أن يصلي عليه أم لا؟ أفتونا مأجورين

أجاب: الحمد لله، لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يدعو هو والمأمومون عقيب الصلوات الخمس كما يفعله بعض الناس عقيب الفجر والعصر، ولا نقل ذلك عن أحد ولا استحب ذلك أحد من الأئمة ومن نقل عن الشافعي أنه استحب ذلك فقد غلط عليه، ولفظه الموجود في كتبه ينافي ذلك وكذلك أحمد وغيره من الأئمة لم يستحبوا ذلك.

ولكن طائفة من أصحاب أحمد وأبي حنيفة وغيرهما استحبوا الدعاء بعد الفجر والعصر. قالوا لأن هاتين الصلاتين لا صلاة بعدهما فتعوض بالدعاء عن الصلاة واستحب طائفة أخرى من أصحاب الشافعي وغيه الدعاء عقيب الصلوات الخمس وكلهم متفقون على أن من ترك الدعاء لم ينكر عليه ومن أنكر عليه فهو مخطئ باتفاق العلماء فإن هذا ليس مأمورا به لا أمر إيجاب وى أمر استحباب في هذا الموطن والمنكر على التارك أحق بالإنكار منه، بل الفاعل أحق بالإنكار فإن المداومة على ما لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يداوم عليه في الصلوات الخمس ليس مشروعا بل مكروه كما لو داوم على الدعاء قبل الدخول في الصلوات أو داوم على القنوت في الركعة الأولى أو في الصلوات الخمس أو داوم على الجهر بالاستفتاح في كل صلاة ونحو ذلك فإنه مكروه وإن كان القنوت في الصلوات الخمس قد فعله النبي صلى الله عليه وسلم أحيانا، وقد كان عمر يجهر بالاستفتاح أحيانا وجهر رجل خلف النبي صلى الله عليه وسلم بنحو ذلك فأقره عليه، فليس كل ما يشرع فعله أحيانا تشرع المداومة عليه، ولو دعا الإمام والمأمومون أحيان عقيب الصلاة لأمر عارض لم يعد هذا مخالفا للسنة كالذي يداوم على ذلك، والأحاديث الصحيحة تدل على أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يدعو دبر الصلاة قبل السلام ويأمر بذلك كما قد بسطنا الكلام على ذلك وذكرنا ما في ذلك من الأحاديث وما يظن أن فيه حجة للمنازع في غير هذا الموضع وذلك لأن المصلي يناجي ربه فإذا سلم انصرف عن مناجاته. ومعلوم أن سؤال السائل لربه حال مناجاته هو الذي يناسب دون سؤاله بعد انصرافه كما أن من يخاطب ملكا أو غيره فإن سؤاله له وهو مقبل على مخاطبته أولى من سؤاله له بعد انصرافه عنه.

فتح الباري شرح صحيح البخاري (6/ 58):

 ويؤخذ من مجموع الأدلة أن للإمام أحوالا لأن الصلاة إما أن تكون مما يتطوع بعدها أولا يتطوع الأول اختلف فيه هل يتشاغل قبل التطوع بالذكر المأثور ثم يتطوع وهذا الذي عليه عمل الأكثر وعند الحنفية يبدأ بالتطوع وحجة الجمهور حديث معاوية ويمكن أن يقال لا يتعين الفصل بين الفريضة والنافلة بالذكر بل إذا تنحى من مكانه كفى فإن قيل لم يثبت الحديث في التنحى قلنا قد ثبت في حديث معاوية أو تخرج ويترجح تقديم الذكر المأثور بتقييده في الأخبار الصحيحة بدبر الصلاة وزعم بعض الحنابلة أن المراد بدبر الصلاة ما قبل السلام وتعقب بحديث ذهب أهل الدثور فإن فيه تسبحون دبر كل صلاة وهو بعد السلام جزما فكذلك ما شابهه وأما الصلاة التي لا يتطوع بعدها فيتشاغل الإمام ومن معه بالذكر المأثور ولا يتعين له مكان بل إن شاءوا انصرفوا وذكروا وإن شاءوا مكثوا وذكروا وعلى الثاني إن كان للإمام عادة أن يعلمهم أو يعظهم فيستحب أن يقبل عليهم بوجهه جميعا وأن كان لا يزيد على الذكر المأثور فهل يقبل عليهم جميعا أو ينفتل فيجعل يمينه من قبل المأمومين ويساره من قبل القبلة ويدعو الثاني هو الذي جزم به أكثر الشافعية ويحتمل إن قصر زمن ذلك أن يستمر مستقبلا للقبلة من أجل أنها أليق بالدعاء ويحمل الأول على ما لو طال الذكر والدعاء والله أعلم ۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۸جمادی الثانیۃ ۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب