| 89494 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرے میزان بینک کے اکاؤنٹ میں موجود رقم کے حساب سے مجھے ماہانہ کچھ نہ کچھ منافع آتا ہے، کیا یہ حلال ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ میزان بینک علمائے کرام کی نگرانی میں چلتا ہے۔ وہاں شریعہ بورڈ،شریعہ ایڈوائز،شریعہ کمپلائنس اور شریعہ آڈٹ کی ٹیمیں موجود ہوتی ہیں،جو تمام امور کی نگرانی کرتی ہیں۔اس میں سیونگ یا فکسڈ اکاؤنٹ عقدمضاربہ کے طور پر کھولا جاتا ہے،لہذااس پرملنے والےمنافع حلال ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 545)
"المضاربة...(عقد شركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب.وحكمها...ومن حيل الضمان أن يقرضه المال إلا درهما ثم يعقد شركة عنان بالدرهم وبما أقرضه على أن يعملا والربح بينهما ثم يعمل المستقرض فقط فإن هلك فالقرض عليه (وتوكيل مع العمل) لتصرفه بأمره..."
کذافی"فقہی مقالات ": شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب ،مد اللہ ظلہ ( /3ص(40
محمد شاہ جلال
دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
29/جماد الاخری 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


