03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں والد کا بیٹی کی اجازت سے صرف بیٹوں کو حصہ دینے کا حکم
89437ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرے دادا مر حوم نے اپنی زندگی میں اپنی تمام ملکیت اپنی اولاد میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور پھرتقسیم بھی کر دی تھی،میرے دادا نے دو شادیاں کی تھیں ، ایک دادی سے میرے والد اور پھوپھو کی پیدائش ہوئی اور دوسری سے کوئی اولاد نہیں تھی (دوسری دادی سے ان کے سابقہ شوہر سے ایک لڑکا تھا) دادا مرحوم نے اس لڑکے کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا اور جس وقت دادا نے اپنے مال کی تقسیم کی تو اپنی اولاد سے مشورہ کیا، جس میں پھوپھو نے کسی قسم کا مال لینے سے انکار کر دیا تو دادا نےاپنا گھر اپنے سگے اور سوتیلے بیٹوں کے نام کر دیا۔جس پر دونوں بھائیوں نےآدھا آدھا گھر بنا لیا۔

بعد میں میرے والد مرحوم نے اپنےوالا گھر 2006ءمیں فروخت کر دیا، جو کہ 1 لاکھ کا فروخت ہوا، جبکہ اس وقت اس کی مالیت 2 لاکھ کے قریب تھی۔ (ہماری والدہ کا انتقال ابھی 2022ءمیں ہوا ہے) اب ہمارے دل میں الحمد للہ یہ خیال آرہا ہےکہ پھوپھو جنہوں نے اپنے والد سے کسی قسم کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا اور وہ آج بھی نہیں کر ر ہیں توہم ان کے ساتھ کیا معاملہ کریں ؟اور جو سابقہ فیصلے مرحومین نے کیے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ والد محترم کے سوتیلے بھائی کا بھی کچھ سال قبل انتقال ہو چکا ہے اور ان کے بعد ان کے بچے بھی پھوپھو کو کچھ دینےمیں دلچسپی نہیں رکھتے۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ جب دادا نے گھر اپنے دونوں بیٹوں کے حوالے کیا تھا تو اس بعد دادا کی زندگی میں ہی انہوں نے آپس میں تقسیم کر کے اپنا اپنا گھر بنا لیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق جب آپ کی پھوپھو یعنی دادا کی بیٹی نے ان کے سامنے اپنا حصہ لینے سے انکار کر دیا تو گویا وہ اپنے حق سے دستبردار ہو گئیں اور زندگی میں  اس طرح اپنے حق سے دستبردار ہونا جائز ہے۔ اس کے بعد جب دادا نے اپنا گھر مشترکہ طور پر اپنے دونوں بیٹوں کے نام کیا تو حضرات صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ ہبہ درست ہوگیا، خصوصاً جبکہ دادا کی زندگی میں دونوں بیٹوں نے تقسیم کر کے علیحدہ علیحدہ اس پر تعمیر بھی کر لی تھی، اس لیے دادا کی زندگی میں جب دونوں نےدادا کی اجازت سےعلیحدہ علیحدہ حصے پرقبضہ کر لیا تو یہ دونوں اس مکان کے مالک بن گئے، اب دادا کی وفات کے بعد یہ مکان دادا کی وراثت میں شامل نہیں اور اس مکان میں سے کچھ بھی آپ کے ذمہ پھوپھو کو دینا لازم نہیں، البتہ  اس کے علاوہ دادا کی دیگر وراثت میں آپ کی پھوپھو سمیت  ان کے سب ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے۔

باقی آپ حضرات کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنی پھوپھو کے ساتھ احسان اور حسنِ سلوک کا معاملہ کریں، ان کی ضروریات کا خیال کریں اور ضرورت کے مطابق اپنا مال بھی ان پر خرچ کرتے رہیں، اس کے بدلے میں ان شاء اللہ آپ حضرات کو اللہ تعالیٰ بہترین جزاء عطا فرمائیں گے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (12/ 67) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

قال: (ولو وهب دارا لرجلين، وسلمها إليهما فالهبة لا تجوز، في قول أبي حنيفة - رضي الله عنه -، وفي قول أبي يوسف ومحمد رحمهما الله: يجوز)؛ لأن العقد والتسليم لاقى مقسوما، فإنه حصل في الدار جملة، فيجوز، كما لو وهبها لرجل واحد؛ وهذا لأن تمكن الشيوع باعتبار تفرق المالك، والملك هنا حكم الهبة، وحكم الشيء يعقبه. فالشيوع الذي ينبني على ملك يقع للموهوب لهما لا يكون مقترنا بالعقد ولا تأثير للشيوع الطارئ في الهبة كما لو رجع الواهب بالنصف؛ ولأن المعنى استحقاق ضمان المقاسمة على المتبرع - وذلك لا يوجد هنا -؛ فالعين تخرج من ملك المتبرع جملة، وإنما ضمان المقاسمة بين الموهوب لهما باعتبار تفرق ملكهما؛ ولأن تأثير الشيوع في الرهن أكثر منه في الهبة حتى لا يجوز الرهن في مشاع لا يحتمل القسمة بخلاف الهبة ثم لو رهن من رجلين: جاز فالهبة أولى، وكذلك الإجارة عند أبي حنيفة - رضي الله عنه - لا تصح مع الشيوع، ثم إذا أجر داره من رجلين: يجوز، فكذلك الهبة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

29/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب