03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک طلاق کے بعدشوہرکےرجوع کے باوجودبیوی کا دوسرےشخص سے نکاح کرنے کا حکم
89458طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

محترم مفتی صاحب!

میں، ...........شوہر ثانی، درجِ ذیل معاملہ آپ کی خدمت میں شرعی رہنمائی کے لیے پیش کر رہا ہوں۔ براہِ کرم تمام حقائق، فریقین کے بیانات اور دستیاب دستاویزات کو سامنے رکھتے ہوئے واضح اور حتمی شرعی جواب عنایت فرمائیں۔

معاملے کی تفصیل:

زوجہ....... کے پہلے شوہر ........... کی جانب سے تحریری طلاق اس طرح دی گئی تھی کہ طلاق نامے میں ابتدا میں تین طلاقیں درج تھیں۔ لیکن عبد الرحمن شوہراول کا مؤقف یہ ہے کہ اس نے وہ دستاویزات مکمل طور پر نہیں پڑھیں صرف عنوان پڑھا اوروہاں سے تین کاٹ کر ایک لکھ دیا اوراس پر گواہ بھی بنایا کہ میں ایک طلاق دے رہاہوں اور نیت بھی اس کی صرف ایک طلاق دینے کی تھی۔ اس کے بعد اس نے طلاق نامے پر دستخط کیے،اس کا یہ گمان تھااوراب تک ہے کہ صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہےاور اس نے عدت کے دوران دو گواہوں کی موجودگی میں رجوع بھی کر لیا تھا،وہ آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہے۔

 اسی سلسلے میں محترم مفتی صاحب نے مجھے (یوسف شوہرثانی) اور عبد الرحمن شوہراول دونوں کو دارالافتاء میں طلب فرمایا، تاکہ عبد الرحمن کا مؤقف براہِ راست سنا جا سکے۔ چنانچہ میں اتوار، 14 دسمبر کو عبد الرحمن کو دارالافتاء لے کر حاضر ہوا۔

دارالافتاء میں زوج اول نے محترم مفتی صاحب کے سامنے مکمل بیان دیا، جس میں اس نے کہا کہ:

   * اس نے طلاق کے کاغذات بغیر پڑھے دستخط کیے تھے

   * اسے علم نہیں تھا کہ نیچےبھی تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں

   * اس نے اوپر سے تین کو کاٹ کر ایک سمجھا اور اس کے بعد دستخط کیے

   * اس نے عدت کے اندر رجوع بھی کیا

   * اور وہ آج بھی اسی بیان پر قائم ہے۔ محترم مفتی صاحب کے ارشاد پر عبد الرحمن نے اپنے اس مؤقف پر تحریری حلفیہ بیان بھی دارالافتاء میں جمع کرا دیا ہے۔

محترم مفتی صاحب!

میں نے ......زوجہ  سے نکاح اس یقین کے ساتھ کیا تھاکہ وہ اپنے پہلے شوہر سے مکمل طور پر جدا ہو چکی ہے۔

   لیکن بعد ازاں مجھے معلوم ہوا کہ زوج اول نے ایک طلاق دی ہے اوررجوع کا دعویٰ بھی کر رہا ہے، جس کی بنیاد پر میرے نکاح کی شرعی حیثیت کے بارے میں شدید ابہام پیدا ہو گیا ہے۔

 میں شوہرثانی،  ........ شوہراول کا مؤقف اس لیے براہِ راست سن رہا ہوں اورمجھے اس پر اطمینان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے یا چھوڑنے کا اختیار مرد کو عطا فرمایا ہے۔ اسی بنا پر یہ معاملہ میرے لیے نہایت اہم ہے کہ میں عبد الرحمن کا بیان سن کر اور آپ سے شرعی فتویٰ حاصل کر کے ہی اپنے لیے کوئی حتمی فیصلہ کروں۔

مذکورہ حالات کی روشنی میں دریافت طلب اموردرج ذیل ہیں:

  1. عبد(زوج اول....... )کے تحریری طلاق نامے، دارالافتاء میں دیے گئے اس کے تحریری و حلفیہ بیان، اور رجوع کے دعوے کی روشنی میں کیا ماہ نور پر ایک طلاق واقع ہوئی تھی یا تین؟
  2.  کیا عدت کے دوران رجوع کرنے سے شرعاً  وہ صحیح ہوجاتاہے یا نہیں؟
  3. اگر عبد الرحمن کا رجوع شرعاً درست تسلیم کیا جائے توکیا میرا ماہ نور سے کیا گیا نکاح شرعاً باطل شمار ہوگا؟ یا اس نکاح کی کوئی شرعی حیثیت باقی رہتی ہے؟
  4. اگر میرا نکاح ماہ نور سے باطل قرار پاتا ہے توکیا مجھے شرعاً اس تعلق کو ختم کرنے کے لیے طلاق دینا ضروری ہوگی، یا نکاح ازخود ختم شمار ہوگا؟
  5. ایسی صورت میں کیا مجھ پر حقِ مہر کی ادائیگی لازم ہوگی یا نہیں؟

آخر میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ تمام حقائق اور بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے واضح، غیر مبہم اور حتمی شرعی رہنمائی عنایت فرمائی جائے، تاکہ کسی قسم کے شبہ یا اضطراب کی گنجائش باقی نہ رہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال میں بیان کردہ صورتِ حال کے مطابق جواب دیتا ہے۔ حقیقتِ حال اور بیان کی سچائی کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی غلط بیانی سے فتویٰ حاصل کرے تو اس کا گناہ اسی کے ذمہ ہوگا۔

سابقہ استفتاءات، زبانی بیانات، حلفیہ بیان اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں آپ کے دریافت طلب امور کے شرعی جوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں:

1۔ چونکہ شوہرِ اوّل ...... نے دستخط کرنے سے پہلے طلاق نامے میں موجود “تین طلاق” کو

کاٹ کر “ایک طلاق” لکھ دیا تھا، اور بعد میں لکھی ہوئی تین طلاقوں کا اس کو علم نہیں تھا، جیسا کہ اس نے زبانی بیان میں بھی کہا ہے، حلفیہ بیان بھی دیا ہے اور گواہ کی گواہی سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، اور شوہرِ ثانی بھی اس کی تصدیق کرتا ہے جیسا کہ اس نے زبانی بیان میں کہا ہے، لہٰذا ایسی صورت میں ماہ نور پر عبدالرحمن کی طرف سے ایک رجعی طلاق واقع ہوئی تھی، نہ کہ تین طلاقیں، جیسا کہ سابقہ دو فتاویٰ میں لکھا جا چکا ہے۔ اور اس کے بعد چونکہ شوہرِ اوّل عبدالرحمن نے گواہ بنا کر عدت میں رجوع بھی کر لیا تھا، لہٰذا یہ عورت (ماہ نور) ابھی تک شوہرِ اوّل عبدالرحمن کے نکاح میں ہے۔

2۔ جی ہاں، طلاقِ رجعی کی عدت کے اندر رجوع کرنے سے شرعاً رجوع صحیح ہو جاتا ہے، لہٰذا عبدالرحمن شوہرِ اوّل کا رجوع صحیح ہوا ہے اور ماہ نور اب بھی پہلے شوہر عبدالرحمن کے نکاح میں ہے۔

3۔ جب پہلے شوہر عبدالرحمن نے ایک رجعی طلاق دی ہے اور پھر عدت میں رجوع بھی کر لیا ہے تو ماہ نور اب بھی اسی کے نکاح میں ہے، اور چونکہ نکاح پر نکاح شرعاً جائز نہیں، لہٰذا آپ کا ماہ نور سے کیا ہوا نکاح سرے سے صحیح ہوا ہی نہیں، بلکہ باطل ہے، اور اس کے علاوہ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔

4۔ باطل نکاح اصل میں وجود ہی نہیں رکھتا، اس لیے اس کو ختم کرنے کے لیے طلاق دینا ضروری نہیں۔البتہ احتیاطاً فسخِ نکاح کا اعلان یا علیحدگی کا واضح اظہار کیا جا سکتا ہے، تاکہ کوئی نزاع باقی نہ رہے۔

5۔ اگر شروع سے آپ کو اس کا علم تھا تو مہر واجب نہیں ہوگا، اور اگر شروع سے علم نہیں تھا تو چونکہ بعض فقہاء کرام نے اس صورت میں نکاح کو فاسد کہا ہے، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ مہر دیا جائے، اور اگر پہلے ہی دے دیا ہو تو واپس نہ لیا جائے۔

مذکورہ عورت اگرچہ پہلےشوہرعبدالرحمن کے نکاح میں ہے،لیکن چونکہ دوسراشوہریوسف خان اس کے ساتھ جماع کرچکاہے،لہذا اس عورت پر عدت واجب ہوگی،اس کے بغیر پہلا شوہر اس کے قریب نہیں جاسکتا۔

حوالہ جات

فی المحيط البرهاني:

وإن لم تقم عليه بينة بالكتاب ولم يقر أنه كتابه ولكنه وصف الأمر على وجهه، فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى، وكذلك كل كتاب لا يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه.(المحيط البرهاني،باب الخلع،ج3ص429):

قال اللہ تعالیٰ:

{الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229]

فی الھدایة:

واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا.(ج:2، ص:394، کتاب الطلاق)

وفی الشامیة:

"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم

ينعقد أصلا".(کتاب النکاح، باب العدّۃ، مطلب عدة المنكوحة فاسدا و الموطوءة بشبهة، ج:3، ص:516، ط: ایچ ایم سعید)

ردالمحتار: (131/3، ط: سعید(

قلت: لكن سيذكر الشارح في آخر فصل في ثبوت النسب عن مجمع الفتاوى: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل اه. وهذا صريح فيقدم على المفهوم فافهم، ومقتضاه الفرق بين الفاسد والباطل في النكاح، لكن في الفتح قبيل التكلم على نكاح المتعة. أنه لا فرق بينهما في النكاح، بخلاف البيع، نعم في البزازية حكاية قولين في أن نكاح المحارم باطل أو فاسد. والظاهر أن المراد بالباطل ما وجوده كعدمه، ولذا لا يثبت النسب ولا العدة في نكاح المحارم أيضا كما يعلم مما سيأتي في الحدود. وفسر القهستاني هنا الفاسد بالباطل، ومثله بنكاح المحارم وبإكراه من جهتها أو بغير شهود إلخ وتقييده الإكراه بكونه من جهتها قدمنا الكلام عليه أول النكاح قبيل قوله وشرط حضور شاهدين، وسيأتي في باب العدة أنه لا عدة في نكاح باطل. وذكر في البحر هناك عن المجتبى أن كل نكاح اختلف العلماء في جوازه كالنكاح بلا شهود فالدخول فيه موجب للعدة. أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اه.والحاصل أنه لا فرق بينهما في غير العدة، أما فيها فالفرق ثابت.
کذا فی قاموس الفقه: (238/5، ط: زمزم پبلشرز(

وفی الشامیة

ویجب مہر المثل في نکاح فاسد،وہوالذي فقد شرطاً من شرائط الصحۃ کشہود (در مختار) وتحتہ في الشامیۃ:

ومثلہ تزوج الأختین معاً، ونکاح الأخت في عدۃ الأخت، ونکاح المعتدۃ، والخامسۃ في عدۃ الرابعۃ،والأمۃ علی الحرۃ۔ (شامي، زکریا۴/۲۷۴، کراچي۳/۱۳۱)(۲)

وفي إمداد الفتاوى الجديد، الجديد المطوّل، حاشية شبير أحمد القاسمي (5/56):

إنّ النكاح الذي يُعقد في غير محلِّه الشرعي بسبب الجهل وعدم المعرفة يكون نكاحًا فاسدًا، وأما النكاح الذي يُعقد في غير محلِّه عن قصدٍ وعلمٍ فهو نكاح باطِل.ويُجرى في النكاح الفاسد أحكامُ النكاح؛ مثل: ثبوت المهر، وثبوت النسب، ووجوب العدّة.أما النكاح الباطل فلا تَجري فيه أحكام النكاح، فلا يثبت به مهرٌ، ولا عدّة، ولا نسب.

وفی رد المحتار:

"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته ... فلم ينعقد أصلا".( رد المحتار ج:3، ص:516، ط: ایچ ایم سعید)

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 158)

فإن حضر الغائب وأقرّ بالنكاح وأنكر الطلاق قضي بالمرأة للذي حضر؛ لأن نكاح الذي حضر ثبت بتصادق الكل ولم يثبت طلاقه لما أنكر الطلاق، فظهر أن الثاني تزوجها وهي منكوحة الأول، فلم يصح نكاح الثاني فيفرق بين الثاني وبين المرأة ويقضى بالمرأة للأول.

ثم ننظر إن كان الثاني لم يدخل بها كان للأول أن يقربها للحال؛ لأنها امرأته ولم تجب عليها العدة عن الغير، وإن كان الثاني قد دخل بها فليس للأول أن يدخل بها للحال؛ لأنه وجب عليها العدة من الثاني؛ لأنه وطئها بشبهة النكاح ولا يجوز وطء معتدة الغير كما لا يجوز وطء منكوحة الغير. ونكاح الأول على حاله وإن صارت معتدة عن الثاني.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

  30/6/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب