| 89493 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے اسکول میں دعا کرائی جاتی ہے جس میں دو دعائیں ہوتی ہیں: پہلی ’اتنی شَکتی ہمیں دینا داتا‘ اور دوسری ’جن گن من‘ قومی ترانہ۔ہمیں یہ روز پڑھنا پڑتا ہے اور ہاتھ جوڑ کر یہ کام کرنا پڑتا ہے۔تو کیا یہ صحیح ہے اور عقائد کے خلاف تو نہیں ہے نا؟"“ शक्ति हमें देना दाता .اتنی طاقت ہمیں دینا داتا، دل کا یقین کمزور نہ ہو۔ہم چلیں نیک راستے پر، ہم سے بھول کر بھی کوئی غلطی نہ ہو۔دور جہالت کے ہوں اندھیرے، تُو ہمیں علم کی روشنی دے۔ہر بُرائی سے بچ کر رہیں ہم، جتنی بھی دے اچھی زندگی دے۔نہ ہو کسی کا کسی سے بیر، نہ دل میں بدلے کی کوئی بات ہو۔ہم چلیں نیک راستے پر، ہم سے بھول کر بھی کوئی غلطی نہ ہو۔اتنی طاقت ہمیں دینا داتا، دل کا یقین کمزور نہ ہو۔ہم نہ سوچیں ہمیں کیا ملا ہے، ہم یہ سوچیں کیا کیا ہے قربان۔خوشیوں کے پھول بانٹیں سبھی کو، سب کی زندگی بن جائے باغ۔اپنی رحمت کا پانی بہا کر، پاک کر دے ہر دل کا گوشہ۔ہم چلیں نیک راستے پر، ہم سے بھول کر بھی کوئی غلطی نہ ہو۔اتنی طاقت ہمیں دینا داتا، دل کا یقین کمزور نہ ہو۔ہر طرف ظلم ہے، بے بسی ہے، سہما سہما سا ہر آدمی ہے۔گناہ کا بوجھ بڑھتا ہی جائے، جانے کیسے یہ زمین رکی ہے۔بوجھ مَمتاسے تُو یہ اُٹھا لے، تیری تخلیق کا یہ انجام نہ ہو۔ہم چلیں نیک راستے پر، ہم سے بھول کر بھی کوئی غلطی نہ ہو۔اتنی طاقت ہمیں دینا داتا، دل کا یقین کمزور نہ ہو۔ہم اندھیرے میں ہیں، روشنی دے، خود کو دشمنی میں کھونے نہ دے۔ہم سزا پائیں اپنے کیے کی، موت بھی ہو تو سہہ لیں خوشی سے۔کل جو گزرا ہے پھر سے نہ گزرے، آنے والا کل ویسا نہ ہو۔ہم چلیں نیک راستے پر، ہم سے بھول کر بھی کوئی غلطی نہ ہو۔اتنی طاقت ہمیں دینا داتا، دل کا یقین کمزور نہ ہو۔
Jana Gana Mana جن گن من ادھینایک جے ہےبھارت بھاگیہ وَدھاتاپنجاب سندھ گجرات مراٹھادراوڑ اُتکل بنگونڈیا ہِماچل جمنا گنگااُچھل جل دھِی ترنگاتَوَ شبھ نامے جاگےتَوَ شبھ آشیष مانگےگائے تَوَ جے گاتھاجن گن منگل دایک جے ہےبھارت بھاگیہ وَدھاتاجے ہے جے ہے جے ہےجے جے جے جے ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
درج بالا بھارتی قومی ترانے کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس بارے میں بھارت کے علمائے کرام کے متعدد فتاویٰ کا بھی مطالعہ کیا گیا ہے، جن میں ’’امارتِ شرعیہ (سوال: 2215، جواب: 2210)‘‘ کے فتاویٰ بھی شامل ہیں۔ ان فتاویٰ کی روشنی میں ہم کہتے ہیں کہ ہمیں اس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی جو شرکیہ یا اسلام کے مذہبی تصورات سے متصادم ہو۔ لہذا مسلمانوں کے لیے اسے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
البتہ ’’وندے ماترم‘‘جو ایک قدیم بھارتی گیت ہے،اس میں بعض ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جو موہم شرک ہیں ،اس لیے ہندوستان کے علمائے کرام کی بھی یہی رائے ہے کہ مسلمانوں کے لیے اس سے اجتناب اور پرہیز لازم ہے۔
حوالہ جات
کذا فی "فتاوی دار العلوم دیوبند":فتوی (ھ): 741=569-4/1431،( جواب نمبر: 21173)۔
کذا فی "جدید فقہی مسائل"(مفتی خالد سیف اللہ رحمانی صاحب):(314/1)۔
کذا فی "فتاوی محمودیہ":(425/24)،سوال(11450)۔
کذا فی" فتاوی امارت شرعیۃ ": (سوال: 2215، جواب: 2210)۔
محمد شاہ جلال
دارالإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
29/ جماد الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


