03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک فریق کا سرمایہ اور دوسرے کی طرف سے کام زراعت کےکاروبار کا حکم
89552خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

سوال یہ ہے کہ ہم ایگری کلچر (Agriculture) کا بزنس  بھی شروع کر رہے ہیں، جس میں میرے پارٹنر ساری انویسٹمنٹ کریں گے، جبکہ کاشت کاری وغیرہ پورے کام کی نگرانی اور عملی طور پر میں اسے چلاؤں گا۔ہم شریعت کے اصول و ضوابط کے مطابق اپنا معاہدہ اور ٹرمز اینڈ کنڈیشنز طے کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ رہنمائی درکار ہے کہ تحریری معاہدہ کس نوعیت کا ہونا چاہیے؟سلیپنگ پارٹنر یا انویسٹر کی صورت میں منافع کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی صورت شرعی اعتبار سے  مزارعت کی ہے اور اس میں اگرایک آدمی کی طرف سے  زمین اورتمام پیداواری اخراجات پورے کرنا اور دوسرے کےذمہ محض کام کرنا ہو تو یہ معاملہ شرعاً جائز ہوتاہے، البتہ اس میں درج ذیل اصولوں کو  مدِ نطر رکھنا ضروری ہی:

  1. فریقین حاصل شدہ پیداوار میں فیصدی (Percentage)اعتبار سے شریک ہوں گے، خواہ پیداوار کم ہو یا زیادہ، کسی شریک کے لیے پیداوار کی متعین مقدار طے کرنا جائز نہیں، اگر کسی ایک فریق کے لیے پیداوار کی مخصوص مقدار طے کر دی گئی تو مزارعت کا معاملہ فاسد اور ناجائز ہو جائے گا۔
  2.   پیداوار حاصل ہونے پر سب سے پہلے کاشت کاری پر ہونے اخراجات نکالے جائیں گے، جن میں زمین کا ٹھیکہ بھی شامل ہو گا، ٹھیکہ اور مکمل اخراجات ادا کرنے کے بعد جو پیداوار باقی بچے وہ فریقین کے درمیان طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم ہو گی۔
  3. اگر بالفرض فصل میں نقصان ہو جائے تو ایسی صورت میں مكمل نقصان مال لگانے والے کا شماركياجائے گا اور کام کرنے والے شریک کو اس کے کام کے عوض کچھ نہیں ملے گا، گویا ایک شریک کا سرمایہ اور دوسرے کی محنت ضائع ہو گئی، اس لیے ہر یک کو دوسرے سے کسی رقم کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہو گا۔
  4. اگر کسی وجہ سے مزارعت فاسد ہو جائے تو ایسی صورت میں مزارعت کا اصول یہ ہے کہ جس فریق کی طرف سے بیج ہو گا وہ مکمل پیداوار کا مالک سمجھا جائے گا اور دوسرے فریق کو اجرتِ مثل ملے گی اور مذکورہ صورت میں چونکہ بیج سرمایہ کار کی طرف سے ہے اس لیے   تمام پیداوارسرمایہ کار  کی ہو گی  اور کام کرنے والے شخص کو  اجرت ِ مثل (اتنا عرصہ کاشت کاری کا کام کرنے پر آدمی کو عام طور پر جتنی اجرت دی جاتی ہو)   کا مستحق ہو گا، خواہ کاشت کاری میں نفع ہو یا نقصان ۔نیز مفتی بہ قول کے مطابق یہ اجرت  طے شدہ نفع سے زیادہ نہیں ہوگی۔
حوالہ جات

النتف في الفتاوى للسغدي (2/ 554) دار الفرقان / مؤسسة الرسالة:

فأما إذا كان البذر من رب الأرض فإن الزرع يكون كله طيبا وعليه مثل أجر المزارع.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 182) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

وأما حكم المزارعة الفاسدة فأنواع: (منها) : أنه لا يجب على المزارع شيء من أعمال المزارعة؛ لأن وجوبه بالعقد ولم يصح و (منها) : أن الخارج يكون كله لصاحب البذر سواء كان رب الأرض أو المزارع؛ لأن استحقاق صاحب البذر الخارج لكونه نماء ملكه لا بالشرط لوقوع الاستغناء بالملك عن الشرط، واستحقاق الأجر الخارج بالشرط وهو العقد فإذا لم يصح الشرط استحقه صاحب الملك ولا يلزمه التصدق بشيء؛ لأنه نماء ملكه.

(ومنها) : أن البذر إذا كان من قبل صاحب الأرض كان للعامل عليه أجر المثل؛ لأن البذر إذا كان من قبل صاحب الأرض كان هو مستأجرا للعامل فإذا فسدت الإجارة وجب أجر مثل عمله، وإذا كان البذر من قبل العامل كان عليه لرب الأرض أجر مثل أرضه؛ لأن البذر إذا كان من قبل العامل يكون هو مستأجرا للأرض، فإذا فسدت الإجارة يجب عليه أجر مثل أرضه.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (9/ 469) الناشر: دار الفك،بيروت:

قال (ولا تصح المزارعة إلا على مدة معلومة) لما بينا (وأن يكون الخارج شائعا بينهما) تحقيقا لمعنى الشركة (فإن شرطا لأحدهما قفزانا مسماة فهي باطلة) لأن به تنقطع الشركة لأن الأرض عساها لا تخرج إلا هذا القدر، فصار كاشتراط دراهم معدودة لأحدهما في المضاربة، وكذا إذا شرطا أن يرفع صاحب البذر بذره ويكون الباقي بينهما نصفين، لأنه يؤدي إلى قطع الشركة في بعض معين أو في جميعه بأن لم يخرج إلا قدر البذر فصار كما إذا شرطا رفع الخراج، والأرض خراجية وأن يكون الباقي بينهما لأنه معين.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

6/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب