03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکان بیوی کے نام کروانے سے ملکیت کا حکم
89461ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

میرے شوہر نے زندگی میں اپنا گھر میرے نام پر کر دیا تھا، میرے چونکہ اولاد نہیں تھی، میرے شوہر کی دوسری بیوی سے ان کے نو بچے ہیں، چھ بیٹے اور تین بیٹیاں۔ شوہر کا کہنا تھا کہ لوگ میرے بعد آپ کو یہاں نہیں رہنے دیں گے، اس لیے انہوں نے یہ گھر میرے نام کیا تھا، البتہ اس کا باقاعدہ مکان خالی کر کے قبضہ نہیں دیا تھا اور نہ ہی انہوں نے گھر سے باہر نکل کر مکان کامجھے قبضہ دیا تھا، اب میرے ساتھ ان کے تین بیٹے رہتے ہیں، وہ بجلی اور گیس وغیرہ استعمال کرتے ہیں، مگر بل نہیں ادا کرتے، میں یہ سوچ رہی ہوں کہ میں آدھا گھر بیچ کر بچوں کو دے دوں اور بقیہ آدھا گھر میرے پاس رہے اور میری وفات کے بعد پھر وہ بھی ان کے پاس چلا جائے گا، مجھے شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ میں کیا کروں؟ گھر کا بل دو لاکھ روپیہ جمع ہو چکا ہے، میرے اندر بل ادا کرنے کی ہمت نہیں ہے، جبکہ پہلے ایک مرتبہ میں زکوة وصدقات اکٹھی کر کے ایک لاکھ روپیہ بل ادا کر چکی ہوں، ابھی پھر دو لاکھ روپیہ جمع ہو چکا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے شوہر نے مکان آپ کے نام کروانے کے بعد باقاعدہ قبضہ نہیں دیا تو یہ ہبہ شرعاً مکمل نہیں ہوا، کیونکہ شرعاً ہبہ کے تام اور مکمل ہونے کے لیے موہوب لہ (جس شخص کو وہ چیز ہبہ اور گفٹ کے طور پر دی گئی ہو) کو قبضہ دینا ضروری ہے، ورنہ وہ چیز ہبہ دینے والے کی ہی ملکیت میں رہتی ہے، لہذا ہبہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ مکان زندگی میں آپ کے شوہر کی ملکیت میں رہا اور ان کی وفات کے بعد آپ سمیت ان کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے۔

لہذا اصولی طور پر آپ کی ذمہ داری ہے کہ مکان بیچ کر ہر وارث کو اس کا حق دیں، البتہ اگر سب ورثاء باہمی رضامندی سے مکان نہ بیچنا چاہیں، بلکہ آپ کی زندگی تک اس کو اسی حالت میں رہنے دیں اور اس میں رہائش اختیار کیے رکھیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔

باقی جہاں تک بجلی اور گیس کے بلوں کا تعلق ہے تو  آپ کے ساتھ رہنے والے تینوں بیٹوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کا مکمل بل ادا کریں اور آپ کا خرچہ وغیرہ بھی برداشت کریں، کیونکہ شریعت نے باپ کی بیوی کا خرچ اولاد کے ذمہ واجب کیا ہے، لہذا آپ کے مکمل اخراجات برداشت کرنا ان سب بیٹوں کی ذمہ داری ہے، ورنہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاں گناہ گار ہوں گے اور اس کا آخرت میں ان سے مواخذہ بھی ہو سکتا ہے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (12/ 48) دار المعرفة - بيروت:

ثم الملك لا يثبت في الهبة بالعقد قبل القبض - عندنا - وقال مالك - رحمه الله تعالى - يثبت؛ لأنه عقد تمليك؛ فلا يتوقف ثبوت الملك به على القبض كعقد البيع، بل: أولى؛ لأن هناك الحاجة إلى إثبات الملك من الجانبين فمن جانب واحد أولى، وحجتنا في ذلك ما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم -: «لا تجوز الهبة إلا مقبوضة» معناه: لا يثبت الحكم، وهو الملك.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 224):

وفي الخلاصة يجبر الابن على نفقة زوجة أبيه ولا يجبر الأب على نفقة زوجة ابنه وفي نفقات الحلواني قال فيه روايتان في رواية كما قلناه، وفي رواية إنما تجب نفقة زوجة الأب إذا كان الأب مريضا أو به زمانة يحتاج إلى الخدمة أما إذا كان صحيحا فلا قال في المحيط فعلى هذا لا فرق بين الأب والابن فإن الابن إذا كان بهذه المثابة يجبر الأب على نفقة خادمه اهـ.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 418) الناشر: البابي الحلبي – القاهرة:

في الفتاوى: يجبر الابن على نفقة زوجة أبيه ولا يجبر الأب على نفقة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

یکم رجب المرجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب