03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکی رضامندی کے بغیر عدالتی خلع کا حکم
89435طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرا نام جنید الرحمن ہے، میری بیوی نے کراچی کورٹ سے بغیر کسی وجہ کے خلع کی ڈگری لی ہے، میں نے خلع کے فیصلے پر دستخط نہیں کیے اور میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں، میری بیوی کی بہنیں اور ان کے شوہر اور کچھ خاندان کے افراد ذاتی دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے میری بیوی کا دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتے ہیں، برائے مہربانی مجھے بتایے کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر عورت کا خلع کی ڈگری لینا معتبر ہے اور اس کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً آپ کی بیوی نے بغیر کسی معتبر شرعی وجہ کے عدالت میں کیس دائر کر کے خلع کی ڈگری لی ہے اور نہ آپ نے اس پر دستخط کیے ہیں، (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو ایسی صورت میں عورت کا عدالت سے یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری لینا شرعاً معتبر نہیں، کیونکہ خلع کے معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی کی باہمی رضامندی ضروری ہے، لہذا اس فیصلہ کی وجہ سے فریقین کا نکاح شرعاً ختم نہیں ہوا اور آپ کی بیوی کا آپ سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا ناجائز ہے اور اس کی ذمہ داری ہےکہ وہ جلد از جلد  گھر واپس آئے۔

نیز آپ کی بھی ذمہ داری ہے کہ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کریں، بلا وجہ سختی اور غصہ کا اظہار نہ کریں، بلکہ اخلاق اور نرمی کابرتاؤ کریں، تاکہ وہ دونوں کی زندگی خوشگوار گزرے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

یکم رجب المرجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب