| 89462 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یونیورسٹی میں ہمارے ساتھ بعض ایسے لوگ بھی پڑھتے ہیں جو اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب اور باطل فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔کیاہم ان سے دوستی کر سکتے ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ یونیورسٹی ایک تعلیمی ادارہ ہے، جہاں طالب علم کا اصل مقصد علم حاصل کرنا، مستقبل سنوارنا اور اپنی اخلاقی تربیت کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ موجودہ دور میں اکثر یونیورسٹیوں کا ماحول بالخصوص مخلوط نظام ِ تعلیم کی وجہ سے دینی و اخلاقی اعتبار سے بڑی پستی کا شکار ہے، اس لیے ہر طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری دوستیوں ، پارٹی بازی اور لایعنی مشغولیات سے حتی الامکان پرہیز کرے، تاکہ اس کا وقت اور مقصد دونوں محفوظ رہیں۔
چنانچہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب اور باطل فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ قلبی تعلق اور دلی دوستی کسی مسلمان کے لیے کسی حال میں جائز نہیں۔
البتہ خوش اخلاقی، ہمدردی یا نرمی کا برتاؤ کسی دینی مصلحت (یعنی توقعِ ہدایت یا دین کی اچھی تصویر پیش کرنے) کے تحت کیا جائے، تو اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ اس تعلق سے دین کو نقصان یا خوداس کے متاثر ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
نیز اگر مذکورہ یونیورسٹی میں مخلوط نظامِ تعلیم ہو، تونامحرم مرد و عورت کا باہم دوستی اور تعلقات قائم کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:لَايَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِي شَيۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَىٰةٗۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِير. [آل عمران: 28]
وفی أحكام القرآن للجصاص :قال الله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم} الآية. قال أبو بكر بطانة الرجل خاصته الذين يستنبطون أمره ويثق بهم في أمره; فنهى الله تعالى المؤمنين أن يتخذوا أهل الكفر بطانة من دون المؤمنين، وأن يستعينوا بهم في خواص أمورهم، وأخبر عن ضمائر هؤلاء الكفار للمؤمنين فقال: {لا يألونكم خبالا} يعني: لا يقصرون فيما يجدون السبيل إليه من إفساد أموركم; لأن الخبال هو الفساد.( أحكام القرآن للجصاص :2/ 46)
قال اللہ تعالی:وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ... [النور: 31]
قال اللہ تعالی:يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يُعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا.[الأحزاب: 59]
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/02رجب المرجب ،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


