| 89528 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
بعض اوقات پیریڈز کے دس دن شمار کرنے کے بعد اگلی بلیڈنگ چودہ دن کے گیپ کے بعد سے شروع ہو جاتی ہے۔ اور میں نے سنا ہے کہ دو پیریڈز کے درمیان میں پندرہ دن کا گیپ ہونا چاہیے، تو کیا میں جو چودہویں دن پر بلیڈنگ شروع ہوئی اس دن سے ہی پیریڈز شمار کروں؟ یا پھر پچھلے پیریڈز کے دس شمار کر کے پھر پاکی کے پندرہ دن شمار کرنے کے بعد سے پیریڈز کو شمار کرنا شروع کروں اور بلیڈنگ کے باوجود نمازیں ادا کروں؟ اور کیا گھنٹوں کا شمار کرنا بھی ضروری ہے؟یعنی اگر اگلی بلیڈنگ کو وقت کے اعتبار سے پندرویں دن کے پورے 24 گھنٹے نہ ہوئے ہوں، صرف 23 یا 23.5 گھنٹے ہوئے ہوں اور بلیڈنگ شروع ہو جائے تو کیا بلیڈنگ آنے کے باوجود اس وقت کی جو نماز ہے وہ نماز بھی ادا کرنی ہوگی یعنی طہر کی اقل مدت میں ایک دو گھنٹوں کا بھی اعتبارہے؟
تنقیح:سائلہ کی پرانی عادت نو(9)دن ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دو حیض کے درمیان کم از کم پندرہ دن کی طُہر ہونا ضروری ہے۔ اگرکسی کو حیض کا خون بند ہونے کے بعد طُہر کے پندرہ دن پورے ہونے سے پہلے دوبارہ خون شروع ہو جائے تو ایسی خاتون مستحاضہ کے حکم میں ہوگی اوریہ عورت ہرنمازکےلیےوضوءکرکےنماز ادا کرتی رہےگی جب تک طہرکی مقررہ عادت پوری نہ ہوجائے۔ اس کےبعدبھی اگرخون جاری رہے تویہ عورت حیض اور طہراپنی عادت کےمطابق گزارےگی ۔
جس طرح حیض کی اقل مدت تین دن سےمراد(72)گھنٹےہیں، اسی طرح طہر کی اقل مدت پندرہ دن سے مراد360گھنٹےہیں ،لہذا طہرکی اقل مدت میں گھنٹوں کا بھی اعتبارکیاجائےگااورپندرہ دن پوراہونےسے ایک دو گھنٹےپہلے جو خون آئے وہ استحاضہ کا خون ہے اس خون کےباوجود وہ خاتون اس وقت کی نماز پڑھےگی۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي :(1/ 285)
(وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا (ولا حد لأكثره) ، إن استغرق العمر (إلا عند) الاحتياج إلى (نصب عادة لها إذا استمر) بها (الدم) فيحد لأجل العدة بشهرين به يفتى، وعم كلامه المبتدأة والمعتادة.
منهل الواردين من بحار الفيض على ذخر المتأهلين في مسائل الحيض: (ص78)
(والطهر الناقص) عن اقله (كالدم المتوالى) لانه طهر فاسد كما في الهداية (لا يفصل بين الدمين) بل يجعل الكل حيضا ان لم يزد على العشرة والا فالزائد عليها أو على العادة استحاضة (مطلقا) أي سواء كان اقل من ثلاثة ايام وهو بالاتفاق أو ازيد وسواء كان ذلك الأزيد مثل الدمين المحيطين به أو اقل أو أكثر وسواء كان في مدة الحيض اولا عند أبي يوسف وهو قول أبي حنيفة آخر وعليه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (1/ 283)
و (أقله ثلاثة بلياليها) الثلاث، فالإضافة لبيان العدد المقدر بالساعات الفلكية لا للاختصاص، فلا يلزم كونها ليالي تلك الأيام؛ وكذا قوله (وأكثره عشرة) بعشر ليال، كذا رواه الدارقطني وغيره. (والناقص) عن أقله (والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة وجاوز أكثرهما. (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة(.(قوله بالساعات) وهي اثنتان وسبعون ساعة، والفلكية هي التي كل ساعة منها خمس عشرة درجة وتسمى المعتدلة أيضا. واحترز به عن الساعات اللغوية. (قوله والناقص إلخ) أي ولو بيسير. قال القهستاني: فلو رأت المبتدأة الدم حين طلع نصف قرص الشمس وانقطع في اليوم الرابع حين طلع ربعه كان استحاضة إلى أن يطلع نصفه، فحينئذ يكون حيضا.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري: (1/ 218)
(قوله وأقل الطهر خمسة عشر يوما) بإجماع الصحابة رضي الله عنهم ولأنه مدة اللزوم فصار كمدة الإقامة (قوله ولا حد لأكثره إلا عند نصب العادة في زمن الاستمرار) ؛ لأنه قد يمتد إلى سنة وإلى سنتين، وقد لا تحيض أصلا فلا يمكن تقدير أكثره إلا عند الضرورة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (1/ 285)
(وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا (ولا حد لأكثره) ، إن استغرق العمر (إلا عند) الاحتياج إلى (نصب عادة لها إذا استمر) بها (الدم) فيحد لأجل العدة بشهرين به يفتى.
رشيدخان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
04/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


