03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فرض غسل کرنے کا طریقہ
89587پاکی کے مسائلغسل واجب کرنے والی چیزوں، فرائض اور ،سنتوں کا بیان

سوال

کچھ سالوں سے مجھے احتلام زیادہ ہوتا ہے۔ احتلام ہونے کی صورت میں ناپاکی اکثر کپڑوں پر زیادہ واضح نظر آتی ہے، لیکن شرمگاہ پر کبھی تھوڑی سی نظر آتی ہے اور کبھی بالکل دکھائی نہیں دیتی، اور آس پاس بھی یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں لگی ہوئی ہے۔غسل کرتے وقت میں پوری شرمگاہ کو ہاتھ سے کافی دیر تک دھوتا ہوں۔اگر شرمگاہ پر تھوڑی سی ناپاکی نظر آ جائے تو کیا پوری شرمگاہ کو ہاتھ سے دھونا ضروری ہے؟ اور اگر شرمگاہ پر ناپاکی نظر نہ آئے تو کیا صرف پانی بہا لینا کافی ہے؟ نیز اگر آس پاس کی جگہوں پر بھی ناپاکی دکھائی نہ دے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

مفتی صاحب! مہربانی فرما کر ان مسائل کے جوابات ارشاد فرما دیں۔ شکریہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فرض غسل کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے دونوں ہاتھ اور شرمگاہ کو دھویا جائے، پھر اگر بدن پر        کہیں نجاست نظر آئے تو اسے اچھی طرح دھویا جائے، اس کے بعد وضو کیا جائے، پھر سر اور پورے جسم پر تین   مرتبہ پانی ڈالا جائے۔لہٰذا اگر شرمگاہ پر ناپاکی نظر نہ بھی آئے، تب بھی اسے رگڑکر دھونا کہ سوکھی نجاست کے نکلنے   کا بھی اطمینان ہوجائے ضروری ہے۔

      البتہ اس اہتمام سے  غسل کرنے کے بعد کسی مخصوص جگہ کو بار بار دھونے سے گزیر کرنا چاہیے، کیونکہ اس   سے وسوسے کی بیماری پیدا ہوتی  ہے۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 19)

وفرض الغسل: المضمضة والاستنشاق وغسل سائر البدن.

 الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 19)

 وسنته أن يبدأ المغتسل فيغسل يديه وفرجه ويزيل نجاسة إن كانت على بدنه ثم يتوضأوضوءه للصلاة إلا رجليه ثم يفيض الماء على رأسه وسائر جسده ثلاثا ثم يتنحى عن ذلك المكان فيغسل رجليه.

 فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 57)

وتغسل فرجها الخارج لأنه كالفم، ولا يجب إدخالها الأصبع في قبلها وبه يفتى.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 152)

 (لا دلكه) لأنه متمم، فيكون مستحبا لا شرطا.

محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ

تخصص فی الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

6/رجب/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب