03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جس بھی لڑکی سے نکاح کروں وہ مجھ پر طلاق
89535طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

ایک لڑکا کسی لڑکی سے فون  پر بات کررہا تھا، لڑکا، لڑکی دونوں رضامندی سے بات کر رہے تھے، پھر اچانک لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چلا، جرگہ بیٹھ گیا،  جرگہ میں لڑکے نے، لڑکی کی عزت بچانے کے لیے،  لڑکی سے بات کرنے سے  انکار کیا ، جرگہ داروں نے کہا ہم آپ کی بات تب مانیں گے جب  آپ یوں طلاق لیں '' اگر تم نے اس لڑکی سے فون پر بات کی ہو تو تم مستقبل میں جس بھی لڑکی سے نکاح کرو گے وہ تجھ پر طلاق ہوگی ''  لڑکے نے اسی طرح الفاظ ادا کردیے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ  لڑکا اور لڑکی دونوں کال پر بات کیا کرتے تھے۔اس طلاق کا کیا حکم ہے، کیا یہ طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ مفصل مدلل جواب درکار ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں لڑکا جس بھی لڑکی سے نکاح کرے گا اس کو ایک طلاق واقع ہوجائے گی، اس کے بعد اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا چاہے تو کرسکتے ہیں لیکن تب شوہر کے پاس آئندہ کےلیے صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔(جو الفاظ کہے گئے ہیں یہ '' کلما '' والے مفہوم کو ادا نہیں کرتے، لہذا اس کا حکم یہی ہے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسی:(6/130)

وإذا قال: كل امرأة أتزوجها أبدا فهي طالق فتزوج امرأة فطلقت، ثم تزوجها ثانية لم تطلق؛ لأن كلمة " كل " تقتضي جميع الأسماء لا تكرار الأفعال، فإنما يتجدد وقوع الطلاق بتجدد الاسم، ولا يوجد ذلك بعقدين على امرأة واحدة

الدر المختار مع ردالمحتار:(3/345)

(قوله وكذا كل امرأة) أي إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق، والحيلة فيه ما في البحر من أنه يزوجه فضولي ويجيز بالفعل كسوق الواجب إليها أو يتزوجها بعد ما وقع الطلاق عليها لأن كلمة كل لا تقتضي التكرار. اهـ. وقدمنا قبل فصل المشيئة ما يتعلق بهذا البحث.

البحر الرائق:(4/403)

لو قال كل امرأة تدخل في عصمتي فهي طالق فإنه يزوجه فضولي ويجيز بالفعل ولا يحنث.

الدرالمختار مع ردالمحتار:(3/284)

)قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق ثلاثا وقعن وإن فرق بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية).

الفتاوی الھندیۃ( 1/373):

إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها، فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة، وذلك مثل أن يقول :أنت طالق ،طالق، طالق. وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة، وقعت واحدة .كذا في الهداية.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

02/07/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب