03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانوروں کا فارم بنانے سے متعلق کاروبار کا حکم
89551شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

سوال یہ ہے کہ ہم دو افراد مل کر اینیمل اور لائیو اسٹاک فارمنگ (Animal & Livestock Farming) کرنا چاہتے ہیں، میرے پارٹنر ساری انویسٹمنٹ کریں گے، جبکہ میں اس پورے کام کی نگرانی اور عملی طور پر اسے چلاؤں گا، ابتدائی سرمایہ کاری تقریباً 30 سے 35 لاکھ روپےکی ہوگی، جس سے ہم اس کاروبار کا آغاز کریں گے،مستقبل میں خاص طور پر بقرہ عید کےبعدہم اس کاروبار کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں مزید جانوروں کی خریداری اور فارمنگ کے لیے زمین کی خرید شامل ہوگی، جانوروں سے دودھ حاصل کرنے کے لیے ڈیری فارم بھی بنایا جائے گا۔

عرض یہ ہے کہ ہم شریعت کے اصول و ضوابط کے مطابق اپنا معاہدہ اور ٹرمز اینڈ کنڈیشنز طے کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ رہنمائی درکار ہے کہ تحریری معاہدہ کس نوعیت کا ہونا چاہیے؟سلیپنگ پارٹنر یا انویسٹر کی صورت میں منافع کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اور مستقبل میں انتظامی امور کو کس طریقے سے منظم کیا جائے؟ براہِ کرم ان تمام امور پر شریعت کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکرکی گئی صورت شرعاً مضاربت کی ہے، کیونکہ اس میں ایک آدمی کی طرف سے سرمایہ اور دوسرے کی طرف سے کام کرنا طے کیا گیا ہے اور جانوروں کی خریدوفروخت کے فارم اور ڈیری فارم  میں اوّلاً جانور خریدے جاتے ہیں اور ان کے لیے چارہ اور ونڈا وغیرہ بھی خریدا جاتا ہے اور پھر وہ جانوروں کو کھلا کر دودھ حاصل کر کے آگے بیچ کر نفع حاصل کیا جاتا ہے، نیز ان جانوروں کو بھی کچھ مدت (جب ان کا دودھ بہت کم ہو جائے) کے بعد بیچ کر نئے جانور خریدے جاتے ہیں، الغرض دونوں قسم کے فارمز میں خریدوفروخت کا عنصر پایا جاتا ہے اور فقہی اعتبار سے یہی مضاربت کے معاملہ کی حقیقت ہے، جس کے اصول اور قواعد درج ذیل ہیں:

  1. سرمایہ کار مکمل طور پر سرمایہ مضارب یعنی کام کرنے والے فریق کے حوالے کرے اور اور اس میں  تصرف کا  کاروبار کی حدود کے اندررہتے ہوئے آزادانہ اختیار دے۔
  2. کسی بھی فریق کے لیے  متعین رقم کی صورت میں نفع طے کرنا  یا نفع کی شرح کو مجہول رکھنا (مثلاً یہ کہنا کہ کچھ نفع آپ کا ہو گا)  جائز نہیں۔اس سے مضاربت فاسد ہو جائے گی، نفع کی شرح  فیصد کے حساب سے طے کرنا ضروری ہے۔
  3. عقد ِ مضاربت  میں رب المال (سرمایہ کار) کے کام کرنے کی شرط نہیں ہو نی چاہیے ،اگر عقد کے وقت  رب المال کا بھی  کام کرنا طے  ہو ا تو مضاربت  فاسد ہو جائے گی، تاہم اگر عقد میں سرمایہ کار کا کام  کرنا طے نہیں تھا  اور سرمایہ کار   اپنی رضامندی سے بطورِ تعاون  کاروبار میں  کام کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
  4. کاروبار پر ہونے والے براہ راست اخراجات  مال ِ مضاربت سے  اد اکیے جائیں گے۔البتہ سفری اخراجات  کا حکم یہ ہے کہ  اگر رب المال نے عقد کے وقت مضارب پر کاروبار  سے متعلق کوئی شرائط لگائیں،مثلا  ً:خا ص  کاروبار یا خاص شہر میں کاروبار کرنے کے لیے کہا تو مضارب پر ان کی پابندی لازم ہو گی ۔
  5. رب المال کا مضارب  پر سرمایہ کے ضمان کی شرط لگانا درست نہیں، بلکہ مضارب کے پاس سرمایہ امانت ہوگا، اگر عقد میں سرمایہ کے ضمان کی  شرط لگا دی گئی تو شرعاً اس کا اعتبار نہیں ہو گا،لہذامضارب کی طرف سے کسی قسم کی  غفلت، کوتاہی اور شرائط کی مخالفت  کے بغیر ہونے والے نقصان کا  ذمہ دار سرمایہ کار ہی ہو گا۔
  6. اگر کسی وجہ سے مضاربت فاسد ہو جائے تو   تمام نفع سرمایہ کار کو ملے  گا  اور مضارب اجرت ِ مثل(اس جیسا کام کرنے پر آدمی کو عام طور پر جتنی اجرت دی جاتی ہو)   کا مستحق ہو گا، خواہ مضاربت کے کاروبار میں نفع ہو یا نقصان ۔نیز یہ اجرت  طے شدہ نفع سے زیادہ نہیں ہوگی۔
  7. اگر مضارب نے غبنِ فاحش(اس قدر مہنگا خریدنا جو عرفاً قابل ِ تحمل نہ ہو، مثلاً: سو  روپے کی چیز دو سو کی خرید لی وغیرہ) کے ساتھ  کوئی چیز خریدی  تو یہ شرکت کے مال میں شامل  نہ ہو گی، بلکہ وہ چیز اس کی ذاتی شمار ہو گی اور اس کی قیمت کی ذمہ داری بھی اسی پر  ہو گی۔
  8. نفع کی تقسیم کا طریقہ کار یہ  ہےکہ جب مضاربت  کی مدت ختم ہو جائے گی تو  کاروبار میں موجود تمام اثاثہ جات کو کرنسی میں تبدیل  کیاجائے گا، جو قرض  لوگوں کے ذمہ واجب  ہو وہ وصول کیاجائے گا۔ سرمایہ کار اور مضارب اب تک جو نفع علی الحساب لے چکے ہیں  اس کا بھی حساب کیا جائے گا۔ اس کے بعد کاروباری اخراجات،واجب الادء  قرضے اورکاروبار میں لگایا گیا سرمایہ نکالا جائے گا۔ جو رقم باقی بچے وہ نفع شمار ہو گا  جس کو عقد میں طے شدہ تناسب کے مطابق  تقسیم کیا جائے گا۔اگر کچھ بھی رقم باقی نہ بچے تو مضارب کو کچھ نہیں ملےگا۔

مذکورہ بالا اصولوں کی روشنی میں آپ لوگ مضاربت کا ایگریمنٹ کر سکتے ہیں، البتہ اس میں فارم کے انتظامی نوعیت کے کام بھی مضارب کے ہی ذمہ ہوں گے، البتہ اگر رب المال یعنی انویسٹر اپنی مرضی سے کوئی کام کرے تو اس میں حرج نہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع(ج:6، ص:85) فصل في شرائط ركن المضاربة ط: دارالكتب العلمية،بيروت:

"ولو سلم رأس المال إلى رب المال ‌ولم ‌يشترط ‌عمله، ثم استعان به على العمل أو دفع إليه المال بضاعة جاز؛ لأن الاستعانة لا توجب خروج المال عن يده، وسواء كان المالك عاقدا أو غير عاقد لا بد من زوال يد رب المال عن ماله؛ لتصح المضاربة."

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 11) دار احياء التراث العربي – بيروت:

قال: "ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح" لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى لأحدهما، ونظيره في المزارعة.

الاختيار لتعليل المختار (3/ 20) الناشر: مطبعة الحلبي - القاهرة :

فإذا ربح صار شريكا، فإن شرط الربح للمضارب فهو قرض (ف) ، وإن شرط لرأس المال فهو بضاعة، وإذا فسدت المضاربة فهي إجارة فاسدة، وإذا خالف صار غاصبا، ولا تصح إلا أن يكون الربح بينهما مشاعا، فإن شرط لأحدهما دراهم مسماة فسدت، والربح لرب المال، وللمضارب أجر مثله، واشتراط الوضيعة على المضارب باطل، ولا بد أن يكون المال مسلما إلى المضارب، وللمضارب أن يبيع ويشتري بالنقد والنسيئة ويوكل ويسافر ويبضع، ولا يضارب إلا بإذن رب المال، أو بقوله: اعمل برأيك.

بداية المبتدي (ص: 178) مكتبة ومطبعة محمد علي صبح – القاهرة:

المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر ولا تصح إلا بالمال الذي تصح به الشركة ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق احدهما دراهم مسماة فإن شرط زيادة عشرة فله أجر مثله ولا بد أن يكون المال مسلما إلى المضارب ولا يد لرب المال فيه.

المبسوط للسرخسي (11/ 157) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

 (ثم) الوضيعة هلاك جزء من المال، وكل واحد منهما أمين فيما في يده من مال صاحبه، واشتراط الضمان على الأمين باطل، ألا ترى أن في المضاربة لا يجوز اشتراط شيء من الوضيعة على المضارب.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

6/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب