03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح نامہ میں کالم 17 کے جملہ کا آخری حصہ کالم 18 میں لکھنے سے تفویض طلاق
89559طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میری ساس نے کہا کہ مجھے اپنی بیوی کو ہر مہینے پانچ ہزار روپے جیب خرچ دینا ہوگا۔یہ بات میری ساس نے نکاح نامہ کے کالم نمبر 17 (جس کا عنوان ہوتا ہے اگر کوئی مخصوص شرائط  ہوں) میں لکھوایا، لکھنے والے نے جملہ کا یہ حصہ ''  5000پانچ ہزار روپے جیب خرچ ماہوار کے حساب سے ادا کرتا ''   کالم 17 میں لکھا، چونکہ کالم 17 میں جگہ ختم ہوگئی تو جملہ کا باقی حصہ '' رہوں گا '' کالم 18 میں لکھا۔

اب ماجرا یہ ہے کہ کالم 18 میں تفویض طلاق کا ذکر ہوتا ہے، 18 کالم میں لکھا ہوتا ہے کہ '' آیا شوہر نے طلاق کا حق بیوی کو تفویض کردیا ہے '' ۔ تو لکھنے والے نے سابقہ جملے کے حصہ ''رھوں گا '' کو اس کے سامنے لکھا ہے۔

میں نے نکاح نامہ بغیر پڑھے اس پر دستخط کردیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ کالم 18 میں چھیڑ چھاڑ نہیں کیا گیا ہے، بعد میں مجھے پتا چلا کہ کاکالم 18 میں تفویض طلاق کے آگے، سابقہ کالم 17 کا '' رہوں گا'' لکھا گیا ہے، تو مجھے پریشانی لاحق ہوئی کہ کیا اس سے بیوی کو تو طلاق تفویض نہیں ہوئی؟برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس صورت میں، جب کہ لکھنے والے نے غلطی کی ہے،  طلاق کی تفویض تو نہیں ہوئی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت اگر واقعہ کے مطابق ہے تو بیوی کو طلاق کی تفویض نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

المحیط البرھانی:(3/240)

والأصل في هذا: أن الزوج يملك إيقاع الطلاق بنفسه فيملك التفويض إلى غيره فيتوقف عمله على العلم؛ لأن تفويض طلاقها إليها يتضمن معنى التمليك، لأنها فيما فوض إليها من طلاقها عاملة لنفسها دون الزوج، والإنسان فيما يعمل لنفسه يكون مالكا.

الھدایۃ:(1/236)

 وإذا قال لامرأته اختاري ينوي بذلك الطلاق أو قال لها طلقي نفسك فلها أن تطلق نفسها ما دامت في مجلسها ذلك...

الفتاوی الھندیۃ:(1/384)

قالت لزوجها من باتو نميباشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق كن فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.

فتح القدیر:(4/7)

ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال، ولو قالت أنت طالق فقال: نعم طلقت. ولو قال له في جواب طلقني لا تطلق وإن نوى. ولو قيل له: ألست طلقتها فقال: بلى طلقت أو نعم لا تطلق.

البحر الرائق:(3/271)

وليس منه أطلقك بصيغة المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

04/رجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب