| 89573 | نماز کا بیان | نماز کےمفسدات و مکروھات کا بیان |
سوال
ایک مصلی ایسی جگہ بنایا گیا ہے جو زمین سے تقریباً دو فٹ اونچا ہے، لیکن اس کے سامنے کوئی سترہ موجود نہیں اورلوگوں کا وہاں سے گزرنا عام ہےتو کیا مذکورہ مقام پر نماز پڑھنے والے کے آگے تین صف کے فاصلے کے برابر فاصلے سے گزرنا جائز ہوگا یا نہیں ؟شرعی رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اونچی جگہ پر نماز پڑھنے والے کے سامنے گزرنے کی ممانعت کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ گزرنے والے کے جسم کا کتنا حصہ نمازی کے بالمقابل آتا ہے۔ اگر گزرنے والے کا آدھا یا اس سے زیادہ جسم نمازی کے برابر آ رہا ہو تو اس کے سامنے سےبلا حائل گزرنا جائز نہیں ہوگا۔ چونکہ دو فٹ کی بلندی عام طور پر انسانی قد کے آدھے کے برابر نہیں ہوتی، اس لیے ایسی صورت میں نمازی کے سامنے سے بلا حائل گزرنا جائز نہیں۔ لہٰذا ایسی جگہ نماز پڑھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ سترے کا انتظام کرے؛ تاکہ سامنے سے گزرنے والا گناہ میں مبتلا نہ ہو اور نماز میں بھی خلل نہ آئے۔
البتہ اگر نمازی کی صف کے علاوہ دو صفوں کے فاصلےسے گزرنا پڑے تو سترے کے بغیر بھی گزر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 635):
)قوله بعض أعضاء المار إلخ) قال في شرح المنية: لا يخفى أن ليس المراد محاذاة أعضاء المار جميع أعضاء المصلي فإنه لا يتأتى إلا إذا اتحد مكان المرور ومكان الصلاة في العلو والتسفل بل بعض الأعضاء بعضا، وهو يصدق على محاذاة رأس المار قدمي المصلي اهـ لكن في القهستاني: ومحاذاة الأعضاء للأعضاء يستوي فيه جميع أعضاء المار هو الصحيح، كما في التتمة؛ وأعضاء المصلي كلها كما قاله بعضهم أو أكثرها كما قاله آخرون كما في الكرماني. وفيه إشعار بأنه لو حاذى أقلها أو نصفها لم يكره وفي الزاد أنه يكره إذا حاذى نصفه الأسفل النصف الأعلى من المصلي.
المحيط البرهاني (1/ 432):
«قال بعض مشايخنا: فإنما يكره المرور بين المصلي وبين السترة إذا كان بين المصلي والمار أقل من مقدار الصفين، أما إذا كان مقدار الصفين فصاعدا فلا يكره، وإن كان يصلي في المسجد، فإن كان بينه وبين المار أسطوانة أو إنسان قائم أو قاعد لا يكره؛ لأن به وقعت الحيلولة بين المار وبين المصلي، وإن لم يكن بينهما حائل إن كان المسجد صغيرا يكره في أي موضع يمر» البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 18):
(قوله بشرط محاذاة أعضاء المار أعضاءه) أي أعضاء المصلي كلها كما قال بعضهم أو أكثرها كما قال آخرون كما في الكرماني وفيه إشعار بأنه لو حاذى أقلها أو نصفها لم يكره وفي الزاد أنه يكره إذا حاذى نصفه الأسفل النصف الأعلى من المصلي.
محمد طلحہ فلک شیر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
07/رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طلحہ ولد فلک شیر | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


