| 89561 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
ایک شخص جس کانکاح ہوچکاتھا،ابھی رخصتی عمل میں نہیں آئی تھی،اس نے اپنی ساس کے ساتھ ہوش وحواس میں شہوت کے ساتھ بوس وکنارکیا اورگلے لگایا،جس کے گواہ متعلقہ عورت کی دوبیٹیاں بھی ہیں اوراس عورت نے ایک مستندعالم دین کے روبروحلفااقرارکیاہے کہ اس کے ہونے والے داماد نے یہ ناجائزکام کیاہے،اس کے بعد لڑکی والوں نے قریبی دارالافتاء سے فتوی لیا اورعدالت سے تنسیخ نکاح کی ڈگری لے لی،جس کی کاپی ساتھ منسلک ہے،اس کامحرک اورسبب یہی واقعہ بنا،تاہم دعوی تنسیخ میں اس بات کاذکربدنامی کے اندیشہ سے صراحتا تونہیں کیاگیا،لیکن غیرمحرم عورتوں سے ناجائزتعلقات کاذکرکیاگیاہے،اب صورت حال یہ ہے کہ لڑکی عاقلہ بالغہ ہے،اس کے گھروالے کسی دوسری جگہ نکاح کرناچاہتے ہیں،جبکہ لڑکامتارکت اورتفریق پرآمادہ نہیں ہے باوجودیکہ لڑکی والوں کی طرف سے طلاق لینے کی بارہاکوشش کی گئی ہے،کیاموجودہ صورت میں تنسیخ نکاح کی ڈگری کومتارکت تصورکرکے آگے نکاح کرناجائز ہے یانہیں؟
تنقیح:لڑکاخاندان کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں، کیونکہ اس میں عزت کامسئلہ ہے،واضح رہے کہ لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی اورنہ ہی کبھی تنہائی میں ملاقات ہوئی ہے،نیز اس واقعہ کوگیارہ سال ہوچکے ہیں،لڑکی والے بے حد پریشان ہیں کہ لڑکی کی عمرزیادہ ہورہی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حرمت مصاہرت ثابت ہوجانے کے بعد عورت اپنے شوہرپرحرام ہوجاتی ہے،لیکن اس سے نہ تو نکاح ختم ہوتا ہے اورنہ ہی طلاق واقع ہوتی ہے،نکاح ختم کرنے کے لئے متارکت(علیحدگی) ضروری ہے،متارکت(علیحدگی) قاضی اورعدالت کرسکتی ہے یاشوہرایسے الفاظ کہدے یالکھ کردیدے جس میں علیحدگی کامعنی ہویاطلاق دیدے،اگرشوہرمتارکت اورطلاق پرآمادہ نہ ہوتوایسی صورت میں اگرعورت کی رخصتی نہ ہوئی ہوتوعورت بھی متارکت(علیحدگی) والے الفاظ بول کرنکاح ختم کرسکتی ہے،صورت مسؤلہ میں قضاء توحرمت مصاہرہ ثابت نہیں ہوئی،کیونکہ عدالت کے ذریعہ مصاہرت کوبنیاد بناکرنکاح ختم کرانے کے لئے دومرد یاایک مرداوردوعورتوں کی گواہی یاخوداس شخص کااقرارجرم ضروری ہے،صورت مسؤلہ میں عدالت میں دومردوں/ایک مرد اوردوعورتوں کی گواہی یا ایک مرد کی گواہی اور قسم (مالکیہ کے مسلک کے مطابق)کے بغیر عدالتی کاروائی کوپوراکیاگیا اورفسخ نکاح کی ڈگری جاری کی گئی ہے، اس لئے حرمت مصاہرت کے ثبوت کے حوالہ سے شرعی طور پریہ فیصلہ معتبرنہیں،البتہ عورت کاعدالت سے رجوع کرنا اورفیصلہ لینا یہ عورت کے متارکت کے قائم مقام ہے، اورعورت اس متارکت کی بنیاد پردیانتا یعنی”فیمابینہ وبین اللہ“دوسرانکاح کرسکتی ہے،کیونکہ عورت کے لئے حکم یہ ہے کہ اگراس کو اپنی والدہ کی بات پریقین ہےاوروہ اس پر(شہوت کے ساتھ بوس وکنارکیاہے)قسم بھی کھاتی ہے توعورت کے لئے اس مرد کے ساتھ رہناجائز نہیں اوردیانتا یعنی”فیمابینہ وبین اللہ“ اس کانکاح اس مرد سے ختم ہوچکاہے،کیونکہ عورت اس معاملہ میں قاضی کی طرح ہے،جس طرح قاضی بعض صورتوں میں اپنے علم کےمطابق فیصلہ کرسکتاہے( جب اس کے پاس معلومات قوی ذریعہ سے پہنچی ہوں،جیسے عادل شخص خبردے یاخود اس نے واقعہ کودیکھاہو) تواسی طرح عورت بھی قرائن قویہ ہونے کی صورت میں اپنے یقین پرعمل کرسکتی ہے،لہذاصورت مسؤلہ میں اگرلڑکامتارکت پرکسی طرح آمادہ نہ ہو مذکورہ لڑکی کے لئے دیانتا متارکت کے الفاظ بول کر یااس فیصلہ کومتارکت کے قائم مقام سمجھ کر دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کرناجائزہے۔
حوالہ جات
وفی الدرالمختار(126/8):
وان ادعت الشہوۃ فی تقبیلہ اوتقبیلھا ابنہ وانکرھاالرجل فھومصدق،لاھی الاان یقوم الیھا منتشراآلتہ فیعانقھا لقرینۃ کذبہ اویاخذ ثدیھا اویرکب معھا اویمسھاعلی الفرج۔
وفی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 6 / ص 290):
”والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به ؛ لأنها لا تعلم إلا الظاهر “
وفی المحيط البرهاني في الفقه النعماني (ج 1 / ص 292):
إن محمدا رحمه الله اعتبر علم القاضي في هذه المسألة حتى قال: إذا علم القاضي أن فلانا غصبها من المدعي، يأخذها من صاحب اليد ويدفعها الى المدعي، وهذا جواب رواية «الأصول». وروى ابن سماعة عن محمد رحمه الله: أن القاضي بعلمه يقضي، قال ابن سماعة: رجع إلى هذا القول في آخر عمره القاضي لا يقضي بعلمه، وإن استفاد العلم في حالة القضاء حتى يشهد معه شاهد واحد، قال: لعل القاضي غالط فيما يقول، فشرط مع علمه شهادة شاهد آخر حتى يصير علمه مع شهادة شاهد آخر في معنى شاهدين، والله أعلم بالصواب.
وفی المحيط البرهاني في الفقه النعماني (ج 16 / ص 361):
القاضي إذا علم بحادثة في البلدة التي هو فيها قاض في حال قضائه، ثم رفعت إليه تلك الحادثة في البلدة، وهو في قضائه بعد، يقضي بعمله في حقوق العباد قياسا واستحسانا، في الأموال وغيرها، كالنكاح والطلاق وغير ذلك فيه على السواء، لأن العلم الحاصل له بمعاينة السبب فوق العلم الحاصل بالشهادة؛ لأن في الشهادة احتمال الكذب، ولا احتمال في المعاينة، ثم القاضي يقضي بالشهادة في هذه الحقوق، فبمعاينة السبب أولى.
ثم إن صاحب «الأقضية» ذكر في هذه المسألة إذا علم بحادثة في حال قضائه، وفي مجلس قضائه.
الفتاوى الهندية (ج 42 / ص 414):
وإذا شهد شاهدان عند المرأة بالطلاق ، فإن كان الزوج غائبا وسعها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر ، وإن كان حاضرا ليس لها ذلك ، ولكن ليس لها أن تمكن من زوجها ، وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه ، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه ، وإن لم تقدر على ذلك قتلته ، وإذا هربت منه لم يسعها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر ، قال شمس الأئمة السرخسي - رحمه الله تعالى - : ما ذكر أنها إذا هربت ليس لها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر جواب القضاء ، أما فيما بينها وبين الله تعالى - فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد ما اعتدت ، كذا في المحيط۔
وفی خلاصۃ الفتاوی(41/2):
والمتارکۃ فی النکاح الفاسد بعد الدخول لایکون الابالقول :ترکتک أو خلیت سبیلک،فلوأنکر نکاحھا وقال لھا:اذھبی وتزوجی،فبمجرد الانکار لایکون متارکۃ وفی مجموع النوازل: الطلاق فی النکاح الفاسد یکون متارکۃ ولاینتقص من عدد الطلاق،وفی المحیط: لکل واحد فسخ ھذاالعقد بغیرمحضر من صاحبہ قبل الدخول،وبعدالدخول لیس لکل واحد منھما حق الفسخ إلا بحضرۃ صاحبہ کالبیع الفاسد،وعندبعض المشائخ لکل واحد حق الفسخ بعد الدخول وقبلہ۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۷/رجب ۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


