| 89549 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
امارہ ہاشم دخترسیدندیم ہاشم نے مورخہ 2025/12/06کوفیملی کورٹ سے اپنے شوہر ذاکر وجیہ بن وجیہ الدین کے خلاف فیملی کورٹ سے خلع کی ڈگری اورآرڈرحاصل کیاہے،جو منسلک ہے اب ہمیں اس کے بارےمیں پوچھناہے کہ اس کی شرعی حیثیت کیاہے۔برائے مہربانی ہمیں عطاء کیاجائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع شرعاً ایک عقدہے،کسی بھی عقد کی طرح اس میں بھی طرفین کی رضامندی ضروری ہے،عدالت یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری نہیں کرسکتی، ہاں فاضل عدالت بعض خاص صورتوں میں فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کرسکتی ہے جن کا ذکر آگے آرہاہے،مگر مسئولہ صورت میں ان میں سے کوئی وجہ بھی منسلکہ عدالتی خلع میں مذکورنہیں ،صرف یہ مذکورہےکہ زوجین میں مصالحت کی کوشش کی گئی اورناکام ہونے پر طلاق بذریعہ خلع دی گئی،لڑکےکے دستخط اوررضاءکاکوئی ذکرنہیں، لہذا فسخِ نکاح کی مذکورہ ڈگری شوہرکی قبول کئے بغیرشرعی بنیاد نہ ہونے کی وجہ سےشرعاً معتبرنہیں۔اس سے نکاح ختم نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ عدالت صرف درج ذیل صورتوں میں نکاح فسخ کرسکتی ہے۔
- شوہرنامردہو۔
- شوہر نان ونفقہ نہ دیتاہو۔
- شوہر اتناغریب ہوکہ عورت کے نان ونفقہ کاانتظام نہ کرسکتاہو۔
- شوہرکئی سالوں سے لاپتہ اوراس کاکوئی حال واحوال معلوم نہ ہو۔
- شوہر اس طرح پاگل ہوکہ عورت کواس سے جان کاخطرہ ہو۔
- کوئی اورایسی وجہ ہو جو مذاہبِ اربعہ میں سے کسی مذہب کے مفتی بہ قول کے مطابق عدالتی فسخ کاسبب ہو۔
ان میں سے ہرایک کی الگ الگ تفاصیل ہیں جن کی رعایت شرعاًضروری ہے ،اگرکسی ایک شرط کی رعایت کے بغیر نکاح فسخ کیاجائے تووہ فسخِ نکاح نافذنہیں ہوگا۔
حوالہ جات
الحنفیة:
وفی المبسوط:
”والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی “( المبسوط :۶/ ۱۷۳۔ط: )
وفی ردالمحتار:
"فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية: لايتم الخلع ما لم يقبل بعده".(۳/۴۴۰، سعید)
وفی بدائع الصنائع
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول". (۳/۱۴۵، سعید)
الشافعیة:
”لان الخلع طلاق فلا یکون لأحد ان یکلف عن احد اب ولا سید ولا ولی ولا سلطان “ (الامام الشافعی : الام :۵/ ۳۰۰ مکتبہ الازہریہ)
قال الامام الشافعی :
”لیس لہ ان یامرہما یفرقان ان رایا الا بامر الزوج“(کتاب الام:۵/۱۹۴﴾
المالكیة :
”وتجبر علی الرجوع الیہ ان لم یرفراقھما بخلع او بغیرہ “ ( المنتقی:۷/ ۶۱ )
الحنبلیة
”لانہ قطع عقد بالتراضی فاشبہ الاقالة (ابن قدامة ، المغنی :۷/ ۵۲ دار المنار )
الظاھریة:
”الخلع ھو الاقتداء …وانما یجوز بتراضیھما۔“(ابن حزم ، المحلی : ۱۰/۲۳۵ ادارہ الطباعة المنیریة )
قال ابن حزم:
لیس فی الآیةولا شئی من السنن ان للحکمین ان یفرقا ولا ان ذالک للحاکم۔المحلیٰ “ ( ۱/۸۸ط: ادارہ طباعہ منیریہ)
وفی البخاری فی حادثة الجملیة
فارسل الی ثابت فقال لہ خذ الذی لہا علیک،وخل سبیلہا، قال نعم“۔ (۹/۳۲۹،؛ المطبعہ البہیہ)
قال الحافظ ابن حجر :
”ھو امر ارشاد واصلاح لا ایجاب “ ( فتح الباری:۹/۳۲۹)
وفی فتاوی عثمانی 2/459
لا تعتبر استحالة العشرة سببا لفسخ النكاح ...... بل يدخل في ذلك عناد الزوج، الضرب المبرح، الفقدان، الجنون، وما إلى ذلك.
عن ثوبان رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أیما امرأۃ سألت زوجہا طلاقاً في غیر ما بأس فحرام علیہا رائحۃ الجنۃ۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۳۰۳ رقم: ۲۲۲۶، سنن الترمذي رقم: ۱۱۸۷، مسند أحمد ۵؍۲۷۷، مشکاۃ المصابیح ۲۸۳ رقم: ۳۲۷۹، المستدرک للحاکم ۲؍۲۱۸ رقم: ۲۸۰۹، السنن الکبریٰ للبیہقي ۷؍۳۱۶)
سنن الترمذي - (ج 2 / ص 329)
عن ثوبان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المختلعات هن المنافقات) هذا حديث غريب من هذا
الوجه وليس إسناده بالقوى . وروى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : (أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس ، لم ترح رائحة الجنة) 1199 حدثنا بذلك محمد بن بشار . حدثنا عبد الوهاب الثقفى حدثنا أيوب ،عن أبى قلابة ، عمن حدثه ، عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير باس ، فحرام عليها رائحة الجنة) وهذا حديث حسن .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۷/۷/۲۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


