| 89568 | تصوف و سلوک سے متعلق مسائل کا بیان | معجزات اور کرامات کا بیان |
سوال
حضرت میرا سوال تصوف سے متعلق ہے ۔ میں تصوف کی حقیقت سے بخوبی واقف ہوں لیکن تصوف میں ہونے والے کچھ اشغال پر مجھے اعتراض ہے ،جو مجھے اسلامی شریعت کے خلاف لگتے ہیں اور صوفيا کرام ان اشغال سے منع نہیں فرماتے ، ان میں سے ایک عمل قبروں پر مراقبہ کرنا ہے، جو بلا مبالغہ اسلامی شریعت کے خلاف اور بدعت کی تائید ہے۔ میری گزارش ہے کہ اگر یہ عمل ٹھیک ہے، تو قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرعقیدہ شرکیہ نہ ہو تو بزرگوں کی قبر پر مراقبہ کرنا فی نفسہ حرام نہیں ، لیکن یہ اخص الخواص اور کا ملین کےلیے ذاتی طورپر مفید ہوسکتا ہے۔عوام میں ایسے مسائل کی اشاعت کرناپسندیدہ نہیں ، کیونکہ وہ اپنی کم فہمی کی وجہ سے قبرپرستی ، بدعات اور خرافات میں مبتلاہوسکتے ہیں ۔
حوالہ جات
سنن الترمذي ت شاكر (5/ 164)
حدثنا محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب قال: حدثنا يحيى بن عمرو بن مالك النكري، عن أبيه، عن أبي الجوزاء، عن ابن عباس، قال: ضرب بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم خباءه على قبر وهو لا يحسب أنه قبر، فإذا فيه إنسان يقرأ سورة تبارك الذي بيده الملك حتى ختمها، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله إني ضربت خبائي على قبر وأنا لا أحسب أنه قبر، فإذا فيه إنسان يقرأ سورة تبارك الملك حتى ختمها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «هي المانعة، هي المنجية،تنجيه من عذاب القبر»: «هذا حديث غريب من هذا الوجه» وفي الباب عن أبي هريرة.
حاشية مشكاة المصابيح ، باب زيارة القبور كذا في تعليق فتاوى رشيدية(154)
وأثبته المشايخ الصوفية قدس الله أسرارهم وبعض الفقهاء رحمهم الله تعالى وذالك أمرمقدر عندأهل الكشف والكمال منهم ولاشك في ذالك عندهم حتى أن كثيرامنهم حصل لهم الفيوض منالأرواح ..
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1481)
قال ابن الملك: فيه دليل على أن بعض الأموات يصدر منه ما يصدر عن الأحياء.
فتاوی رشیدیہ(1/84)
سوال: بعض بعض صوفی قبوراولیاء پر چشم بند کرکے بیٹھتے ہیں ، اور سورہ الم نشرح پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا سینہ کھلتاہے اور ہم کو بزرگوں سے فیض ہوتاہے اس بات کی کچھ اصل بھی ہے یانہیں ؟
جواب: اس کی بھی اصل ہے اس میں کوئی حرج نہیں اگر بہ نیت خیر ہے۔
التکشفات عن مہمات التصوف (حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رح)( 664)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ حدیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : کشف القبور کبھی بلا قصد و اکتساب ہوتا ہے جیسے ان صحابی کو ہوا، اسی لیے اس کو حال میں داخل کیا گیا اور کبھی کسب و ریاضت سے ہوتا ہے۔ بہرحال حدیث سے کشف القبور کا وقوع معلوم ہوا ۔۔۔۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن مجید سننا موجب نفع باطنی ہے اور یہ نفع ان صحابی کو بواسطہ صاحب قبر کے پہنچا۔ اس سے اہل قبور کے فیوض کا اثبات ہوتا ہے ۔
فتاوی محمودیہ (9/268)
سوال: قبرستان میں کسی مخصوص قبر پر مراقبہ کرنا کیسا ہے؟
جواب: حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی ، حضرت شاہ عبد الغنی صاحب محدث دہلوی ، حضرت مجدد الف ثانی حضرت حاجی امداداللہ صاحب مہاجرمکی، حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کی کتابوں میں کسی بزرگ کے مزار پر مراقبہ کرنا موجود ہے ، اس کا طریقہ تفصیل سے موجود ہے ، بوادر النوادر(88)
محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
تخصص فی الافتاء ، دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
9/رجب/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


