| 89602 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام پیش آمدہ مسئلے کے تناظر میں کہ بندے کا تعلق ایک ایسے گاؤں سے ہے جہاں نماز جمعہ نہیں ادا کی جاتی ،اور مقامی علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہاں جمعہ پڑھنا ناجائز ہے۔ جب ان سے عدم جواز کی وجہ پوچھی جائے تو علماء کرام جو کہ اس گاؤں کے رہنے والے ہیں فرماتے ہیں کہ :جمعہ کے جواز کے لیے جن شرائط کا علمائے احناف کے نزدیک اعتبار کیا گیا ہے، وہ شرائط اس گاؤں کے اندر نہیں پائی جاتیں ۔ لہذا یہاں ظہر کی نماز ادا کرنا واجب ہے، نہ کہ جمعہ کی نماز۔ لیکن موجودہ دور میں گاؤں کے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ گاؤں کی آبادی بڑھ چکی ہے اور گاؤں کافی ترقی بھی کر چکا ہے، لہذا اس دور میں گاؤں کے اندر جمعہ کی نماز ہونی چاہیے۔بندے کا تعلق صوبہ پنجاب،ضلع اٹک تحصیل حضرو کے گاؤں نور پور سے ہے۔ گاؤں کی آبادی بقول نمبردار پانچ ہزار افراد مرد و عورت پر مشتمل ہے۔ گاؤں کے اندر آٹھ مسجدیں ،دو بنات کے مدرسے ،تین عدد سکول ، سات عددکریانہ سٹور، ایک عدد آٹا چکی ،دو عدد حجام کی دکانیں ،ایک ڈسپنسری دن کے اوقات میں ایک ڈاکٹر صاحب موجود رہتے ہیں ۔گاؤں کا اپنا قبرستان اور جنازگاہ موجود ہیں (یہاں عمومی امراض کے لیے چھوٹی اور وقتی علاج کی کچھ دوائیاں دستیاب ہیں۔اگر کسی کو مستقل علاج یا بڑی بیماری ہے تو شہر جانا پڑتا ہے)گوشت کی باقاعدہ دکان نہیں مگر کریانہ سٹور والے ذبح شدہ مرغی،بڑا گوشت اور قیمہ فریزر میں رکھتے ہیں۔ گاؤں میں بجلی اور گیس دستیاب ہیں۔ تمام روڈ اور گلیاں پختہ ہیں گاؤں کی آبادی جنوب اور شمال سے دوسرے گاؤں کی آبادی کے ساتھ مل چکی ہے۔ قریبی شہروں کا فاصلہ: جنوب میں گوندل شہر 3.2 کلومیٹر شمال میں ملاح شہر 2.3 کلومیٹر ان شہروں میں تمام سہولیات، ڈاکخانہ اور پولیس چوکی موجود ہیں۔ گاؤں جس پولیس چوکی سے منسلک ہے وہ 4.3 کلومیٹر دورگاؤں" رنگو تاجک" میں موجود ہے۔ گاؤں میں مستقل کوئی ہسپتال موجود نہیں ہے۔ تھانہ، کچہری یا بازار موجود نہیں (قریبی شہر ہونے کی وجہ سے)مذکورہ تفصیلات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئےمسلک احناف کے مطابق ہمارے گاؤں نور پور میں جمعہ کی نماز ہوگی یا نہیں، برائے کرم مفصل و مدلل جواب ارسال فرمائیں ۔
سوال کا خلاصہ : ہمارا تعلق پاکستان، صوبہ پنجاب، ضلع اٹک، تحصیل حضرو کے گاؤں" نور پور "سے ہے۔جہاں مقامی علماء کے مطابق فقہِ حنفی کی رو سے جمعہ کے جواز کی شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے اب تک نمازِ جمعہ ادا نہیں کی جاتی اور ظہر کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ البتہ گاؤں والوں کا کہناہے کہ آبادی تقریباً پانچ ہزار ہو چکی ہے اور ترقی بھی ہوئی ہے،آٹھ مساجد، دو بنات کے مدرسے، تین اسکول، بجلی ، پختہ سڑکیں اور سات عدد دکانیں موجود ہیں، تاہم باقاعدہ بازار، تھانہ، کچہری، ڈاکخانہ اور مستقل ہسپتال موجود نہیں اور ان ضروریات کے لیے قریبی شہروں پر انحصار ہے۔ ایسی صورت میں فقہِ حنفی کے مطابق کیا گاؤں نور پور میں نمازِ جمعہ قائم کرنا درست اور جائز ہے یا بدستور ظہر ہی ادا کی جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاًکسی جگہ نمازجمعہ کی ادائیگی کےلیےضروری ہےکہ(1)وہ جگہ شہرہویاشہرکےمضافاتی علاقوں میں واقع ہو(2)یاوہ بڑاقصبہ ہو ۔
شرعاًشہراوربڑاقصبہ ایسی جگہ کوکہاجاتاہےجہاں گلی کوچے،محلے،روزمرہ ضروریات کی خریداری کےلیے بازار،علاج ومعالجہ کےلیے ہسپتال،ڈاکخانہ،نزاعات(جھگڑے)وغیرہ کےفیصلےکےلیےقاضی،پنچائیت یاتھانے وغیرہ کا نظام موجودہو۔
سوال سے مذکور باتوں سے معلوم ہورہا ہے کہ اس بستی میں تمام سہولیات موجود نہیں ہیں، مثلاً: تھانہ وپنچائیت وغیرہ ۔نیز یہ بستی نہ شہر ہے اور نہ ہی اس کے مضافات میں داخل ہے،اسی طرح بڑے قصبے کے حکم میں بھی داخل نہیں ہے ۔لہذا بستی والوں کے لیے یہاں جمعہ ادا کرنا درست نہیں ہے ۔
تاہم بہتریہ ہےکہ مذکورہ گاؤں کےقریب مقیم مستندمفتیان کرام سےبھی اس مسئلےسےمتعلق استفتاءلےلیا جائے۔
حوالہ جات
(حاشية ابن عابدين:(2/137
وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر، وفي المجتبى وعن أبي يوسف أنه ما إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم، وعليه فتوى أكثر الفقهاء ۔
حاشية ابن عابدين:(2/145
الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود۔۔۔۔ (أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا۔۔۔۔۔۔ والحد الصحيح ما اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وتزييف صدر الشريعة له عند اعتذاره عن صاحب الوقاية حيث اختار الحد المتقدم بظهور التواني في الأحكام مزيف بأن المراد القدرة على إقامتها على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(1/259
وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسةفي ظاهر الروايات،المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة،والوقت.
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
/9رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


