03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
انسانی اعضاء سے دوائی یا کاسمیٹکس بنانے کا حکم
89595جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عرض یہ ہے کہ آج کل بعض کاسمیٹکس (خوبصورتی کے سامان) اور ادویات میں انسانی جسم کے اجزاء مثلاً خلیات (سیلز)، جلد یا دیگر حیاتیاتی مادوں کا استعمال ہوتا ہے۔ براہِ کرم راہنمائی فرمائیں کہ شریعت مطہرہ کی رو سے، بالخصوص فقہ حنفی اور دیگر ائمہ کرام کے نزدیک، اس طرح انسانی اعضاء یا اُن کے اجزاء کو دواؤں یا کاسمیٹکس میں(صانع کے لیے ) استعمال کرنا اور ایسی چیزوں کا(صارف کے لیے) استعمال کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت مطہرہ کا متفقہ اور بنیادی اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے تکریم بخشی ہے۔ اسی عظمت و حرمت کا تقاضا ہے کہ انسان کا جسم اور اس کا کوئی بھی جزوخواہ وہ خون ہو، ہڈی ہو، بال ہوں یا گوشت مال تجارت نہیں بن سکتا۔چونکہ انسان مکرم ہے، اس لیے اس کے اجزاء کو مالِ تجارت بنانا اس کی توہین اور تذلیل ہے جو شرعاً حرام ہے۔

حالتِ اضطرار میں اگر کوئی شخص بھوک سے مر رہا ہو اور اسے جان بچانے کے لیے کچھ نہ ملے، تو شریعت نے اسے مردار جانور یا سور کا گوشت کھانے کی اجازت تو دی ہے، لیکن اس انتہائی مجبوری کے عالم میں بھی انسانی گوشت کھانا حرام ہے چاہے اپنا ہو یا کسی دوسرے انسان کا، زندہ کا ہو یا مردہ کا، آزاد انسان کا ہو یا غلام کا اور چاہے مسلمان کا ہو یا کافرکا۔لہذاانسانی گوشت کا بطور غذا استعمال کسی بھی صورت جائز نہیں اور نہ ہی اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔

انسانی خون اور پلازمہ (Plasma) کی خرید و فروخت تو بالاتفاق ناجائز اور حرام ہے۔ اگر کوئی شخص خون یا پلازمہ بیچتا ہے تو وہ گناہگار ہوگا اور اس کی قیمت استعمال کرنا حرام ہے۔

البتہ خون اور پلازمہ ایسی چیزیں ہیں جو انسانی دودھ کی طرح انسان میں خود بخود بنتی ہیں، اگر کسی سے مخصوص مقدار میں نکالا جائے تو اس سے اس کے اپاہج ہونے یا مرنے کا خدشہ نہیں ہوتا ۔ لہذا اس پر قیاس کرتے ہوے فقہائے کرام نے تداوی بالمحرم (حرام سے علاج) کے اصول کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ نفع اٹھانے کی گنجائش دی ہے۔ اگرمسلمان متدین اور ماہر ڈاکٹر کی رائے میں مریض کی جان بچانے یا جلد صحت یابی کا انحصار خون یا پلازمہ پر ہو اور کوئی متبادل میسر نہ ہو تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔البتہ یہ اجازت صرف ضرورت کے تحت استعمال کی ہے، اسے تجارت کا ذریعہ بنانا شرعاً ممنوع ہے۔

تاہم اگر خون بلا قیمت دستیاب نہ ہو تو مریض کے لیے اسے خریدنے کی گنجائش ہےاو راس پر جتنا خرچ آتا ہے عطیہ کرنے والے کے لیے حقیقی اخراجات (مثلاً سفری خرچ، ٹیسٹ کی فیس وغیرہ) لینے کی بھی گنجائش ہے، لیکن اسے بیچنا کسی بھی صورت جائز نہیں ۔

اسی طرح دیگر انسانی اجزاء جیسے ناخن، بال، دودھ، یا دیگر ٹشوز کو پیس کر یا پروسیس کر کے ادویات بنانا اور انہیں عام استعمال میں لانا جائز نہیں ۔ فقہاءکرام نے صراحت کی ہے کہ مردہ انسان کے اجزاء بھی قابلِ احترام ہیں اور ان کا استعمال بھی حرام ہے۔

اگر کسی دوا میں انسانی جزو شامل ہو تو اس کا استعمال عام حالات میں تو جائز نہیں، البتہ اگر کوئی ایسی مہلک بیماری ہو جس میں جان کا خطرہ ہویا جلد صحت یابی کا انحصار صرف اسی دواء پر ہی منحصر ہو اور مسلمان متدین اور ماہر ڈاکٹر کے مطابق اس دوا کا کوئی متبادل موجود نہ ہو، تو اس مخصوص مریض کے لیے بقدرِ ضرورت گنجائش ہو سکتی ہے۔

آج کل کاسمیٹکس (کریمیں، لوشن، انجیکشن) میں انسانی جنین (Embryo)، نال (Placenta) یا دیگر خلیات کا استعمال ہو رہا ہے، جو شرعی لحاظ سے بالکل حرام ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ انسانی جسم (زندہ یا مردہ) اور اس کے تمام اجزاء و رطوبات مکرم و محترم ہیں۔ ان کی خرید و فروخت بیعِ باطل ہے۔ پلازمہ یا خون صرف جان بچانے یا عضو تلف ہونے کی مجبوری میں بطورِ عطیہ لیا جا سکتا ہے۔ کاسمیٹکس اور آرائش کے سامان میں شرعی مجبوری نہ ہونے کی وجہ سے انسانی اجزاء کا استعمال حرام ہے، بلکہ یہ انسانیت کی تذلیل اور نجاست کا بلاوجہ استعمال ہے۔

حوالہ جات

شرح السير الكبير للسرخسيؒ, ص:128

والآدمي ‌محترم بعد موته على ما كان عليه في حياته. فكما يحرم التداوي بشيء من الآدمي الحي إكراما له، فكذلك لا يجوز التداوي بعظم الميت. قال - صلى الله عليه وسلم : "كسر عظم الميت ككسر عظم الحي".

رد المحتار(357/1)

(وآدمي ) فلا يدبغ لكرامته، ولو دبغ طهر وإن حرم استعماله، حتى لو طحن عظمه في دقيق لم يؤكل في الأصح احتراماً.

 رد المحتار(397/4)

(ولم يبح الإرضاع بعد مدته لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح. شرح الوهبانية.وفي البحر : لا يجوز التداوي بالمحرم في ظاهر المذهب أصله بول المأكول كما مر.

وقوله : (وفي البحر) عبارته : وعلى هذا أي الفرع المذكور لا يجوز الانتفاع به للتداوي قال في الفتح وأهل الطب يثبتون للبن البنت : أي الذي نزل بسبب بنت مرضعة نفعاً لوجع العين واختلف المشايخ فيه : قيل لا يجوز، وقيل يجوز إذا علم أنه يزول به الرمد ولا يخفى أن حقيقة العلم متعذرة فالمراد إذا غلب على الظن وإلا فهو معنى المنع .اهـ. ولا يخفى أن التداوي بالمحرم لا يجوز في ظاهر المذهب أصله بول ما يؤكل لحمه فإنه لا يشرب أصلا اهـ. قوله : (بالمحرم) أي المحرم استعماله طاهراً كان أو نجساً ح قوله: (كما مر) أي قبيل فصل البئر حيث قال: فروع: اختلف في التداوي بالمحرم، وظاهر المذهب المنع كما في رضاع" البحر"، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن" الحاوي": وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما خص الخمر للعطشان، وعليه الفتوى.

فتاویٰ قاضی خان(306/3)

 مضطر لم يجد ميتة وخاف الهلاك، فقال له رجل: اقطع يدي وكلها، أو قال : اقطع مني قطعة فكلها لا يسعه أن يفعل ذلك ولا يصح أمره به كما لا للمضطر أن يقطع قطعة من لحم نفسه فيأكل.

فتح القدیر(389/7)

قوله: (ولا) بيع لبن امرأة …ونحن نمنع أنه مشروب مطلقاً بل للضرورة حتى إذا استغنى عن الرضاع لا يجوز شربه، والانتفاع به يحرم حتى منع بعضهم صبه في العين الرمداء وبعضهم أجازه إذا عرف أنه دواء عند البرء (و) نقول (هو جزء من الآدمي مكرم مصون عن الابتذال بالبيع، ولا فرق في ظاهر الرواية بين لبن الحرة ولبن الأمة. وعن أبي يوسف أنه يجوز في لبن الأمة لأنه لا يجوز إيراد العقد على كلها فيجوز على جزئها. قلنا) الجواز يتبع المالية ولا مالية للإنسان إلا ما كان محلاً للرق (وهو للحي ولا حياة في اللبن) ولأن العتق قوة شرعية حاصلها قدرة تثبت له شرعاً على تصرفات شرعية ترد على الرق فترفعه ولا بد من اتحاد محلهما وليس اللبن محل تلك القدرة.

الموسوعة الفقهية الكويتية ص 62

ذهَبَ الْفُقَهَاءُ إِلَى طَهَارَةِ عَرَقِ الإِْنْسَانِ مُطْلَقًا، لاَ فَرْقَ فِي ذَلِكَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْكَافِرِ، الصَّاحِي وَالسَّكْرَانِ، وَالطَّاهِرِ وَالْحَائِضِ وَالْجُنُبِ.

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

07 رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب