| 89719 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مرحوم کے تمام بھائی ان کی وفات سے پہلے فوت ہوگئے تھے اور ورثہ میں صرف بیوی ، چار بہنیں ہیں ۔فی الحال میت کے چھ بھتیجے بھی زندہ ہیں، لیکن ان کے والدین (جو کہ میت کے بھائی بنتے ہیں) میت کے انتقال سے پہلے انتقال کر گئے ہیں۔ تو کیا مذکورہ صورت میں بھتیجوں کو میت کے میراث میں سے حصہ ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں بھتیجوں کو میت کے میراث میں سے حصہ ملے گا۔
مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد ،نقدرقم، سونا ،چاندی، مکان، کار و بار، ضرورت کی اشیاء، الغرض جو کچھ چھوٹا بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض ہے، وہ سب ان کا ترکہ شمارکیا جائے گا۔ اس میں سے سب سے پہلے ان کے تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیاجائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیروارث کےحق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچے اس میں سے مرحوم کی بیوی کو 25%، ہر ایک بہن کو 16.66% اور ہر ایک بھتیجے کو 1.39% ملے گا۔
درج ذیل نقشے میں ہر وارث کا فیصدی اور عددی حصہ بھی لکھا ہوا ہے۔
|
نمبر شمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
زوجہ |
18 |
25% |
|
2 |
بہن |
12 |
16.665% |
|
3 |
بہن |
12 |
16.665% |
|
4 |
بہن |
12 |
16.665% |
|
5 |
بہن |
12 |
16.665% |
|
6 |
بھتیجا |
1 |
1.39% |
|
7 |
بھتیجا |
1 |
1.39% |
|
8 |
بھتیجا |
1 |
1.39% |
|
9 |
بھتیجا |
1 |
1.39% |
|
10 |
بھتیجا |
1 |
1.39% |
|
11 |
بھتیجا |
1 |
1.39% |
|
|
مجموعہ |
72 |
100% |
حوالہ جات
الدرالمختار مع ردالمحتار:( 6/769)
(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) .... (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد .
الفتاوی الھندیۃ :(6/451)
فالعصبةنوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب ثم عم الأب لأب وأم ثم عم الأب لأب ثم ابن عم الأب لأب وأم، ثم ابن عم الأب لأب ثم عم الجد، هكذا في المبسوط.وإذا اجتمع جماعة من العصبة في درجة واحدة يقسم المال عليهم باعتبار أبدانهم لا باعتبار أصولهم مثاله ابن أخ وعشرة بني أخ آخر أو ابن عم وعشرة بني عم آخر المال بينهم على أحد عشر سهما لكل واحد سهم.
السراجی فی المیراث:(36)
أما العصبۃ بنفسہ: فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ إلی المیت أنثی وھم أربعۃ أصناف: جزء المیت و أصلہ و جزء أبیہ و جزء جدہ، الأقرب فالأقرب یرجحون بقرب الدرجۃ أعنی أولاھم بالمیراث جزء المیت أی البنون ثم بنوھم و إن سفلوا ثم اأصلہ أی الأب ثم الجد أی أب الأب و إن علا، ثم جزء أبیہ أی الإخوۃ ثم بنوھم و إن سفلوا....
زبیر احمد ولد شیر جان
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
14/رجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


