| 89733 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میرا ایک شرعی مسئلہ ہے، براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ میں پاکستان ایئر فورس سے سرکاری ملازم کی حیثیت سے ریٹائر ہوا ہوں۔ مجھے ریٹائرمنٹ کے بعد تقریباً 45 لاکھ روپے پنشن کی صورت میں ملے۔ میں نے ان میں سے 40 لاکھ روپے اپنے ایک قریبی عزیز کو ان کے سولر پلانٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری / کاروبار میں حصہ کے طور پر دیے تھے۔ ابتدائی دنوں میں وہ مجھے ماہانہ منافع دیتے تھے، وہ بھی بار بار یاد دہانی پر۔ اب تقریباً ایک ماہ سے وہ مکمل طور پر خاموش ہیں: نہ منافع دے رہے ہیں، نہ حساب کتاب بتا رہے ہیں، نہ یہ بتا رہے ہیں کہ رقم کہاں استعمال ہوئی، اور نہ ہی کوئی رابطہ کر رہے ہیں۔ رقم دیتے وقت انہوں نے یہ جملہ کہا تھا کہ یہ رقم آپ کی طرف سے میرے پاس بطور قرض یا بطور امانت ہے۔ مجھے صحیح الفاظ یاد نہیں، مگر اس نوعیت کا وعدہ ضرور کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ اگر میں اجازت دوں تو وہ میری رقم سے میرے نام پر پلاٹ خرید دیں گے۔ میں نے اجازت دے دی تھی، لیکن آج تک پلاٹ کا کوئی وجود یا ثبوت نہیں ملا۔ اب میں اپنی پوری رقم واپس لینا چاہتا ہوں۔ میری دارالافتاء سے گزارش ہے کہ شرعاً وضاحت فرمائیں: میرے اور ان کے درمیان یہ معاملہ قرض شمار ہوگا یا شراکت/مضاربت؟ اگر وہ رقم کا حساب نہیں دے رہے تو شرعاً میرا حق کیا بنتا ہے؟ کیا میں اپنی اصل سرمایہ کی پوری رقم فوری واپس مانگ سکتا ہوں؟ اگر وہ رقم واپس نہ کرے یا ٹال مٹول سے کام لے تو میرے لیے شرعی راستہ کیا ہے؟ کیا اس کا یہ طرزِ عمل (رقم چھپانا، حساب نہ دینا، منافع روک لینا، پلاٹ کا جھوٹا وعدہ کرنا) شرعاً غصب کے حکم میں شمار ہوگا؟ اگر یہ غصب کے زمرے میں آتا ہے تو ایسے شخص پر کیا شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ براہِ کرم مکمل شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
تنقیح: سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل نے پوری رقم خالصتاً کاروبار کے لیے دی تھی۔ اور یہ بات بھی طے تھی کہ جتنا منافع ہوگا وہ آپس میں تقسیم ہوگا اور مضارب باقاعدگی سے ماہانہ منافع ادا کرتا رہا۔ بعد ازاں سائل اور مضارب کے درمیان یہ بات بھی طے ہوئی تھی کہ چھ ماہ کے اندر مضاربت کا معاملہ ختم کر کے مضارب، سائل (رب المال) کے لیے ان تمام پیسوں سے پلاٹ خریدے گا۔ لیکن اب کافی عرصہ گزر جانے کے باوجود مضارب نے نہ پلاٹ خریدا ہے اور نہ کوئی پیش رفت کی ہے، بلکہ مسلسل تاخیر کرتا چلا آ رہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مذکورہ میں آپ نے اپنے قریبی عزیز کو کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی اور وہ آپ کو ماہانہ منافع دے رہا تھا، یہ مضاربت کی صورت ہے۔ باقی آپ کو شاید مغالطہ ہوا ہو، ہوسکتا ہے کہ اس نے پیسے لیتے وقت امانت کہا ہو۔
جب آپ چاہیں تو اس سے اپنا پورا سرمایہ واپس لے سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس کے پاس وہ رقم موجود نہ ہو بلکہ اس نے اس رقم سے کاروبار کے لیے کوئی سامان وغیرہ خریدا ہو، تو پھر سامان فروخت ہونے تک انتظار کرنا ہوگا۔ جب وہ سامان فروخت کرے گا تو اس سے رقم وصول کرلیں۔
نیزجب آپ نے اسے مضاربت سے روک دیا اس کو پلاٹ خریدنے کا وکیل بنایا، اور مضارب کو اس بات کا علم ہو گیا کہ آپ نے مضاربت کا معاملہ ختم کردیا ہے اور اس کے پاس اصل سرمایہ رقم کی صورت میں موجود ہے، لیکن آپ کے مطالبے کے باوجود نہ تو اس نے پلاٹ خریدا اور نہ ہی آپ کی رقم واپس کر رہا ہے یا چھپا رہا ہےتو یہ غاصب شمار ہوگا۔ اس کے بعد کسی بھی طرح اگر وہ رقم ہلاک ہو جائے تو وہ اس کا ضامن ہوگا۔ اگر وہ رقم واپس نہیں کر رہا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
تاہم یہ پورا معاملہ اس وجہ سے ہوا کہ آپ نے اس کے ساتھ تحریری معاہدہ نہیں کیا تھا۔ اگر آپ مضارب سے تحریری معاہدہ کرلیتے تو آسانی ہوتی۔ اب بہتر ہے کہ آپ اپنے علاقے کے بڑوں کو بٹھا کر یہ معاملہ ان کے فیصلے سے حل کریں۔ آئندہ اگر ایسا کوئی معاملہ کرنا ہو تو اسے تحریری شکل میں ضرور لکھ لیا کریں۔
حوالہ جات
العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي(8/ 469):
إذا عزل رب المال المضارب ولم يعلم بعزله حتى لو اشترى وباع جاز تصرفه لأنه وكيل من جهته، وعزل الوكيل قصدا يتوقف على علمه، وإذا علم بعزله والمال عروض فله أن يبيعها ولا يمنعه العزل عن ذلك نقدا أو نسيئة........... وإن عزله ورأس المال دراهم أو دنانير فقد نضت فلم يجز له أن يتصرف فيها لأنه ليس في إعمال عزله إبطال حقه في الربح لظهوره فلا ضرورة في ترك الأعمال.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(4/ 329):
فإن عزل رب المال المضارب ولم يعلم بعزله حتى اشترى وباع فتصرفه جائز وينعزل بعلمه بعزله، وإن علم بعزله والمال عروض فله أن يبيعها ولا يمنعه العزل عن ذلك ثم لا يجوز أن يشتري بثمنها شيئا آخر، ولو كان مال المضاربة من جنس رأس المال لم يجز له أن يتصرف فيه، وإن لم يكن من جنس رأس المال بأن كان دراهم ورأس المال دنانير، أو بالعكس له أن يبيعها بجنس رأس المال استحسانا وعلى هذا موت رب المال ولحوقه بعد الردة في بيع العروض ونحوها، كذا في الكافي.
درر الحكام شرح غرر الأحكام(2/ 310):
(وحكمها أنواع) الأول أنها (إيداع أولا) لأنه قبض المال بإذن مالكه لا على وجه المبادلة والوثيقة بخلاف المقبوض على سوم الشراء لأنه قبضه بدلا وبخلاف الرهن لأنه قبضه وثيقة (وتوكيل عند عمله) لأنه يتصرف فيه له بأمره حتى يرجع بما لحقه من العهدة على رب المال (وشركة إن ربح) لأنه يحصل بالمال والعمل فيشتركان فيه (وغصب إن خالف) لتعديه على مال غيره فيكون ضامنا (ولو) وصلية (أجاز بعده) أي المضارب إذا اشترى ما نهي عنه ثم باعه وتصرف فيه ثم أجاز رب المال لم يجز.
المحيط البرهاني(5/ 474):
جئنا إلى بيان الحكم الآخر، وهو وجوب الضمان حال عجز الغاصب عن رد العين، فنقول: المغصوب نوعان: مثلي الكيل والوزن الذي ليس في تبعيضه ضرر........ وإن كان مثلياً وجب عليه مثله
إلا إذا وقع العجز عن رد المثل، وذلك بالانقطاع عن أيدي الناس، فحينئذٍ يصار إلى القيمة………وإذا استهلك المغصوب، وضمنه القاضي القيمة ينظر؛ إن كان ذلك الشيء يباع في السوق بالدراهم (يقوم بالدراهم) ، وإن كان يباع بالدنانير يقوم بالدنانير، وإن كان يباع بهما، فالقاضي مخير.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
14/جمادی الآخرۃ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


