03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر بیوی کو نماز پڑھنے کے لیے مارسکتا ہے یا نہیں ؟
89669نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

میں ایک مسجد میں امام ہوں اور میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی بیوی کو اس بات پر مار سکتا ہوں کہ وہ نماز نہیں پڑھتی

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر بیوی بےنمازی ہو تو شوہر کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے ہدایت اور نماز کی پابندی کی دعا کرے۔گھر میں نماز کا ماحول بنائے،  محبت اور نرمی کے ساتھ بیوی کو نماز کی اہمیت اور اس کے فضائل سمجھائے، اور نماز ترک کرنے پر جو وعید اور عذابِ الٰہی کی احادیث آئی ہیں وہ بھی اسے سنائے۔ نماز نہ پڑھنے پر اپنی ناراضگی کا مناسب اظہار کرے ۔البتہ صرف نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے بیوی کو مارنے کی اجازت نہیں؛ کیونکہ نماز پڑھنے پر ثواب اور نہ پڑھنے پر عذاب کی مستحق وہ خود ہوگی۔ ہاں، اس کے باوجود شوہر کو نصیحت اور دعا کی صورت میں کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

حوالہ جات

القرأن الكريم (سورة طه:132) :

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرُ عَلَيْهَا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (4/ 77):

(ويعزر المولى عبده والزوج زوجته على تركها الزينة و غسل الجنابةو الخروج من المنزل وترك الإجابة إلى الفراش) ... و (لا على ترك الصلاة) لأن المنفعة لا تعود عليه بل إليها، كذا اعتمده المصنف تبعا للدرر على خلاف ما في الكنز والملتقى. (قوله ولا على ترك الصلاة) عطف على قوله وليس منه إلخ؛ لأنه في معنى لا يضربها على طلب نفقتها . ط. (قوله تبعا للدرر) وكذا ذكره في النهاية تبعا لمافي الحاكم كما في البحر.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 77):

(لا) أي لا يعزر الزوج زوجته (على ترك الصلاة والأب يعزر الابن عليه) قال في النهاية إنه إنما يضربها لمنفعة تعود إليه لا لمنفعة تعود إليها ألا يرى أنه ليس له أن يضربها على ترك الصلاة وله أن يضربها على ترك الزينة ونحوه.

عبداللہ المسعود

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

۱۵/جمادی الاخری ۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب