| 89665 | غصب اورضمان”Liability” کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
پاکستانی قانون کے مطابق، اگر کوئی وارث مشترکہ مکان یا جائیداد کو دیگر وارثوں کی اجازت کے بغیر اپنے تصرف میں رکھے اور ان کو ان کے حقِ میراث سے محروم کرے، تو ایسے ناجائز استعمال کے بدلے اسے Mesne Profit (غیر مجاز قبضے کا معاوضہ) ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔ یہ حق مورث کی وفات سے لے کر عدالت کے ذریعے عملی تقسیم تک کی پوری مدت کے لیے واجب الادا سمجھا جاتا ہے۔اس قانون کے تحت اگر متنازعہ جائیداد رہائشی یا تجارتی ہو، جیسے مکان یا دکان، تو معیار اس کا مناسب ماہانہ کرایہ ہوتا ہے۔ اور اگر جائیداد زرعی زمین ہو تو اس کی پیداوار کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ پاکستان کے سول قانون اور قانون تقسیم جائیداد کے تحت اس موضوع پر عدالت عالیہ اور عدالت عظمی کے متعدد فیصلے بھی موجود ہیں۔اگر کسی وارث کا حق صرف ایک آٹھواں حصہ ہو، مگر وہ آٹھویں حصے کے بجائے آٹھ میں سے تین حصوں پر بلا اجازت قابض ہو، جبکہ دوسرے دو وارث، جن کا مجموعی حصہ ایک تہائی سے بھی زیادہ بنتا ہو، اپنے حق سے محروم رہیں اور گزشتہ بارہ سال سے عدالت میں Mesne Profit کا مطالبہ کر رہے ہوں، تو قابض وارث کا یہ موقف ا پنانا کہ مقدمہ دائر کرنے سے پہلے کے اٹھارہ سال اور مقدمہ کے بعد کے بارہ سال کا کرایہ اس لیے قابلِ مطالبہ نہیں کہ اسے باقاعدہ طور پر پہلے نہیں مانگا گیا۔ حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ جب حق میراث کا مطالبہ زبانی طور پر کیا گیا، تو قابض وارث نے طاقت کے زور پر مزاحمت کی، جھوٹی ایف آئی آر کرائی اور خاندان میں فساد پیدا کیا۔لہذا سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں Mesne Profit کا مطالبہ اور اس کی قانونی بنیاد شرعاً درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرچہ فقہ حنفی میں غاصبانہ قبضے کی ہر صورت میں منافع کا تاوان لازم نہیں ہوتا۔لیکن حکم الحاکم رافع للخلاف کے تحت حکومت کے طے کردینے کے بعد تاوان کا مطالبہ اور وصولی درست ہوگی۔
حوالہ جات
الأم للإمام الشافعي (3/ 254 ط الفكر):
قال: وإذا غصب الرجل من الرجل دابة فاستغلها أو لم يستغلها ولمثلها غلة أو دارا فسكنها أو أكراها أو لم يسكنها، ولم يكرها ولمثلها كراء أو شيئا ما كان مما له غلة استغله أو لم يستغله انتفع به أو لم ينتفع به فعليه كراء مثله من حين أخذه حتى يرده إلا أنه إن كان أكراه بأكثر من كراء مثله فالمغصوب بالخيار في أن يأخذ ذلك الكراء؛ لأنه كراء ماله أو يأخذ كراء مثله، ولا يكون لأحد غلة بضمان إلا للمالك؛ لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما قضى بها للمالك الذي كان أخذ ما أحل الله له والذي كان إن مات المغل مات من ماله. وإن شاء أن يحبس المغل حبسه إلا أنه جعل له الخيار إن شاء أن يرده بالعيب رده، فأما الغاصب فهو ضد المشتري. الغاصب أخذ ما حرم الله - تعالى - عليه، ولم يكن للغاصب حبس ما في يديه، ولو تلف المغل كان الغاصب له ضامنا حتى يؤدي قيمته إلى الذي غصبه إياه، ولا يطرح الضمان له لو تلف قيمة الغلة التي كانت قبل أن يتلف.
التهذيب في الفقه الشافعي (4/ 293):
المنفعة إذا ضمنت بشبهة العقد، وهو أن يستأجر شيئا إجارة فاسدة: وجب أن يضمن بالغصب، كالعين، بل هذا أولى؛ لأن العقد يصدر عن الرضا، والرضا سبب لسقوط الضمان، ثم لم يسقط به ضمان المنفعة، فالغصب الصادر عن عدم الرضا أولى ألا يسقطه.
(12)Civil Procedure Code: "mesne profits" of property means those profits which the person in wrongful possession of such property actually received or might with ordinary diligence have received therefrom, together with interest on such profits, but shall not include profits due to improvements made by the person in wrongful possession: Mesne profits. See notes under Order 20 rule 12. Persons wrongfully deprived of the corpus or usufruct of property are entitled to claim compensation for such deprivation (a). Such compensation which is awarded against persons in wrongful possession of property(b), is known as mesne profit(c), and is claimable only by a person entitled to actual possession of such property(d).
فتاویٰ ہندیہ، ج:۳ ،ص:۳۵۷
قضاء القاضي في المجتہدات نافذ لکن ينبغي أن يکون عالما بمواضع الخلاف ويترک قول المخالف ويقضي برأيہ حتی يصح علی قول جميع العلماء وإن لم يعرف مواضع الاجتہاد والاختلاف ففي نفاذ قضائہ روايتان والأصح أنہ ينفذ، کذا في خزانۃ المفتين.
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/ رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


