03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جيز كيش سے قرضہ لینا اور زیادہ واپس کرنے کا حکم
89700سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

جاز کیش سے پیسے قرض لینے کے بعد ہمیں ہر ١ہزار روپے کے ساتھ پچاس روپے اضافی لوٹانے ہوتے ہیں اور ہر ہفتے پچاس روپے بڑھتے جاتے ہیں تو کیا جاز کییش سے اس صورت میں قرضہ لینا جائز ہے ؟ اور کیا یہ اضافی پچاس روپے سود میں شامل ہوں گے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جیز کیش سے قرض لینا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ جیز کیش قرض اس شرط پر دیتا ہے کہ واپسی کے وقت اصل رقم سے زائد رقم وصول کی جائےگی، نیز وہ مدت کے ساتھ بڑھتی بھی جائے گی ،اور یہ صریح سود ہے۔

حوالہ جات

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ    (130)

صحيح البخاري(2/ 734):

اخرجه الامام البخاري ............. ، فإذا أراد الرجل أن يخرج رمى الرجل بحجر في فيه، فرده حيث كان، فجعل كلما جاء ليخرج رمى في فيه بحجر، فيرجع كما كان، فقلت: ما هذا؟. فقال: الذي رأيته في النهر ‌آكل ‌الربا).

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (7/ 8):

لأن الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه،

وسیم اکرم بن محمد ایوب

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب