| 89699 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب / دارالافتاء! میرا ایک شرعی سوال ہے، براہِ کرم قرآنِ کریم اور صحیح احادیثِ نبویہ کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ نکاح کے بعد شبِ زفاف کے موقع پر میاں بیوی کے درمیان ہم بستری مکمل نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ مرد کی جنسی کمزوری تھی۔ مرد نے اپنی بیوی سے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ بات کسی کو نہ بتائی جائے، اور اگر کوئی پوچھے تو صرف اتنا کہہ دیا جائے کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔ بیوی نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی۔ بعد ازاں بیوی نے اپنے والدین اور لوگوں کے سامنے پہلے یہی بتایا کہ ہم بستری ہو چکی ہے۔ لیکن چند دن بعد پیسوں کے اختلاف اور ناراضگی کی حالت میں اس نے اپنے والد اور رشتہ داروں کے سامنے یہ راز افشا کر دیا کہ میاں بیوی کے درمیان کچھ بھی نہیں ہوا تھا اور وہ جس حالت میں گئی تھی اسی حالت میں واپس آئی ہے۔ اس طرح اس نے بالواسطہ طور پر شوہر کو لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کر دیا، کیونکہ اس بات کے ظاہر ہونے سے لوگوں نے یہی سمجھا کہ شوہر جنسی طور پر کمزور ہے۔ اس راز کے افشا ہونے سے مرد کی عزتِ نفس کو شدید نقصان پہنچا اور وہ معاشرے میں رسوا ہو گیا۔ اس سلسلے میں میرے سوالات درج ذیل ہیں: کیا شرعاً بیوی کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ ہم بستری نہ ہونے کا راز افشا کرنا جائز ہے، چاہے وہ بات سچ ہی کیوں نہ ہو؟ کیا پیسوں کے اختلاف، غصے یا ناراضگی کی حالت میں بھی ایسا راز کھولنا جائز ہو جاتا ہے، یا پھر ہر حال میں یہ عمل حرام ہی رہتا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا بیوی پر یہ لازم نہیں تھا کہ اگر لوگ پوچھتے تو وہ شوہر کی بات مانتے ہوئے یہی کہتی کہ ہم بستری ہو چکی ہے اور شوہر کی عزت پر پردہ ڈالتی، نہ کہ اسے لوگوں کے سامنے رسوا کرتی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں میاں بیوی کے جنسی اور ذاتی راز کی حفاظت کے بارے میں کیا حکم ہے؟ براہِ کرم واضح اور مستند شرعی جواب عنایت فرما دیں۔ والسلام
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میاں بیوی کے لیے اپنے نجی معاملات کسی کے سامنے بیان کرنا شرعاً جائز نہیں ،ایسا کرنا سخت گناہ اور بے حیائی ہے۔ البتہ اگر شوہر کسی وجہ سے بیوی کے حقوق ادا کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو بیوی کو حق پہنچتا ہے کہ اس سے علاج کا مطالبہ کرے اگر اس سے فائدہ نہ ہورہا ہو تو طلاق یا خلع کا مطالبہ بھی کرسکتی ہے ۔اس کو اس بات پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خاموش رہے یا جھوٹا اقرار کرے ۔لیکن محض شوہر کو بدنام کرنے یا اسے رسوا کرنے کے لیے اس کے عیب، مثلانامردی وغیرہ، کا چرچا کرنا ہرگز جائز نہیں ،اس سے بہت بڑے مفاسد سامنے آ ئیں گے ۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (2/ 1060 ت عبد الباقي):
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة. حدثنا مروان بن معاوية عن عمر بن حمزة العمري. حدثنا عبد الرحمن بن سعد. قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
"إن من أشر الناس عند الله منزلة يوم القيامة، الرجل يفضي إلى امرأته، وتفضي إليه، ثم ينشر سرها".
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 441):
وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


