03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواتین انفلوئنسرز کے ذریعےمارکیٹنگ کا حکم
89705جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

میں پاکستان میں خواتین کے لیے اسکن کیئر کے پراڈکٹس لانچ کرنا چاہتا ہوں۔ چونکہ یہ پراڈکٹس خواتین کے لیے ہیں، اس لیے ان کی مارکیٹنگ خواتین انفلوئنسرز کے ذریعے کرنے کا ارادہ ہے۔ مارکیٹنگ کے لیے مختلف طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔ واضح رہے کہ ہماری پراڈکٹ بذاتِ خود حلال ہے، ہماری ٪100 آمدنی صرف پراڈکٹ کی فروخت سے حاصل ہوتی ہے، اور آمدنی کسی تصویر، ویڈیو یا میوزک دکھانے یا چلانے سے براہِ راست حاصل نہیں ہوتی، بلکہ صرف پراڈکٹ بیچنے سے ہوتی ہے۔ براہِ کرم درج ذیل صورتوں کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں:

پہلی صورت:ہم اپنی حلال پراڈکٹ کی مارکیٹنگ کے لیے کسی مشہور خاتون انفلوئنسر کی ویڈیو استعمال کرتے ہیں، جس میں وہ اپنے چہرے پر ہماری پراڈکٹ (مثلاً سیرم) لگاتی ہے اور اسے اپنی خوبصورتی کا راز بتاتی ہے، اور ویڈیو کو مؤثر بنانے کے لیے بیک گراؤنڈ میوزک بھی شامل ہوتا ہے۔ اس صورت میں کیا ہماری آمدنی شرعاً حلال ہوگی یا نہیں؟دوسری صورت:ہم اپنی حلال پراڈکٹ کی مارکیٹنگ کے لیے کسی مشہور خاتون انفلوئنسر کی ویڈیو استعمال کرتے ہیں، جس میں کوئی بیک گراؤنڈ میوزک نہیں ہوتا، بلکہ وہ خاتون صرف اپنی آواز میں پراڈکٹ کے استعمال اور فوائد سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس صورت میں کیا ہماری آمدنی شرعاً حلال ہوگی یا نہیں؟تیسری صورت:ویڈیو کے بجائے صرف کسی مشہور خاتون کی تصویر استعمال کی جاتی ہے، جس میں نہ کوئی میوزک ہوتا ہے اور نہ ہی اس خاتون کی آواز شامل ہوتی ہے۔ اس صورت میں کیا ہماری آمدنی شرعاً حلال ہوگی یا نہیں؟چوتھی صورت:ہم اپنی حلال پراڈکٹ کی مارکیٹنگ کے لیے کسی مشہور مرد کی ویڈیو استعمال کرتے ہیں، جس میں مرد کا چہرہ نظر آتا ہے اور بیک گراؤنڈ میوزک شامل ہوتا ہے، جبکہ کسی عورت کی تصویر یا ویڈیو شامل نہیں ہوتی۔ اس صورت میں کیا ہماری آمدنی شرعاً حلال ہوگی یا نہیں؟پانچویں صورت:ویڈیو کے بجائے صرف کسی مشہور مرد کی تصویر استعمال کی جاتی ہے، جس میں کوئی میوزک نہیں ہوتا۔ اس صورت میں کیا ہماری آمدنی شرعاً حلال ہوگی یا نہیں؟براہِ کرم ان تمام صورتوں کے بارے میں تفصیلی شرعی رہنمائی فرما دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی عورت یا میوزک کو تشہیر کے لیے  استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ، لہٰذا کسی مشہور خاتون انفلوئنسر کی تصویر کے ذریعے مارکیٹنگ کریں یا کسی غیر معروف  عورت کے ذریعہ ، شرعا ایسا  کرنا جائز نہیں ۔ ہاں اگر میوزک کے بغیر مرد کی آواز یا ویڈیو کے ذریعے مارکیٹنگ کی جائے تو اس کی گنجائش ہے۔نیز اشتہار کے الفاظ بھی حقائق کے مطابق ہونے چاہییں۔ اگر پروڈکٹ کم کوالٹی کی ہو تو بھی اس کی خلاف واقعہ تشہیر درست نہیں ۔ تاہم اگر آپ کی آمدن حلال شرعی معیار کے مطابق صرف حلال پروڈکٹس کی فروخت سے حاصل ہو تو وہ آمدنی حرام شمار نہیں کی جائے گی ۔

حوالہ جات

قال الله تعالى: {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا } [الأحزاب: 59]

 فتاوى قاضيخان (3/ 248)

أما استماع صوت الملاهي كالضرب بالقضيب و غير ذلك حرام و معصية لقوله عليه الصلاة و السلام استماع الملاهي و الجلوس عليها فسوق و التلذذ بها من الكفر إنما قال ذلك على وجه التشديد و إن سمع بغتة فلا إثم عليه و يجب عليه أن يجتهد كل الجهد حتى لا يسمع.

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (7/ 285)

عن نافع، قال: سمع ابن عمر مزمارا، قال: فوضع إصبعيه على أذنيه، ونأى عن الطريق، وقال لي: يا نافع هل تسمع شيئا؟ قال: فقلت: لا، قال: فرفع إصبعيه من أذنيه، وقال: كنت مع النبي -صلى الله عليه وسلم- فسمع مثل هذا، فصنع مثل هذا.

محمد امداد اللہ بن مفتی شہیداللہ 

دارالافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

21/رجب 1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب